پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔ ملک میں کروڑوں انسان آج بھی ایسے ہیں، جنہیں پیٹ کی بھوک کے خلاف ہر روز ایک جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ محرومی کی زندگی گزارنے والے یہ وہ انسان ہیں، جنہیں اس شکایت کا موقع بھی کم ہی ملتا ہے، اسی لیئے کسی شاعر نے کہا ہے کہ ہیں “تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات”۔

اس دن کی مناسبت سے آج ملک بھر میں محنت کشوں کے حقوق کے لئے ریلیوں اور سیمینار کا اہتمام ہوگا۔ اس موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل ہے مگر دو وقت کی روٹی کیلئے مزدور ہے مشقت پر مجبور ہے۔

یکم مئی مزدور ڈے جسے دنیا کے مزدور اپنی آسان زبان میں چھٹی کا دن بھی کہتے ہیں، کیونکہ مزدوروں کے لیے چھٹی کسی عید سے کم نہیں ہوتی، لیکن اس عید کا مزہ بھی صرف وہ مزدور لے سکتے ہیں جو کسی کارخانے میں کام کرتے ہیں۔ یہ دن تو مزدوروں کیلئے ہے، تاہم ایسی بہت ہی کم تعداد ہے جو اصل معنوں میں اپنے حقوق سے آگاہ ہو یا اس دن کی اہمیت جانتے ہوں۔ مزدوروں کے عالمی دن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ1884ء میں فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبر یونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔

قرارداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے جن میں سب سے اہم مطالبہ مزدوروں کے اوقات کار کو 16 گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا 8 گھنٹے کام کے لیے، 8گھنٹے آرام کے لیے اور 8 گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگو کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ لیکن اس مطالبہ کو تمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور جب تک مطالبات نہ مانے جائیں یہ تحریک جاری رہے گی۔ 16-16 گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں 8 گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ اسی وجہ سے اپریل 1886 ء تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس تحریک کا آغاز امریکا کے شہر “شگاگو” سے ہوا۔

ہڑتال سے نپٹنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی بڑی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا تھا۔ تاریخ کا آغاز یکم مئی سے شروع ہوگیا۔ پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2 مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پرامن رہی، لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدورہلاک اور بہت زخمی ہو گئے۔


اس واقعہ کے خلاف تحریک کے منتظمین نے اگلے ہی روز 4 مئی کو ایک بڑے اجتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ اگلے روز جلسہ پرامن تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کرکے بہت سے مزدور ہلاک اور زخمی کر دے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک پولیس ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے کو بہانہ بناکر پولیس نے گھر گھر چھاپے مار ے اور بائیں بازو اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا‘ ایک جعلی مقدمے میں آٹھ مزدور رہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

البرٹ پار سن‘ آگسٹ اسپائز ‘ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔ لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893میں معافی دیکر رہا کر دیا گیا۔

مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا‘ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا ’’کہ مئی1886ء کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہو ئی ہے‘‘۔ البرٹ پا رسن کی بیوہ لوسی پارسن نے کہا’’ دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیں یعنی سرمایہ دار طبقہ‘‘۔ جب مزدوروں پر فائر نگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کرکے ہوا میں لہرا دیا ‘اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈا ہمیشہ سرخ رہا۔

det 4a17909u, 12/14/07, 9:47 AM, 8C, 5738×7162 (76+376), 100%, Custom, 1/50 s, R50.1, G36.4, B63.7

سال 1889 ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اس کے بعد یہ دن ’’ عالمی یوم مزدور‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا سوائے امریکا‘ کینیڈا اورجنوبی افریقہ کے،ن تاہم جنوبی افریقہ میں غالبا ًنسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی وہاں بھی منایا جانے لگا۔ مزدور اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی۔ اس کے بعد مزدور طبقے کی عالمی تحریک بڑی تیزی سے پھیلی اور چالیس پچاس سالوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مزدور طبقے کا انقلابی سرخ پرچم لہرانے لگا۔

ماضی میں مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور انہوں نے تب تک ہار نہیں مانی جب تک ان کو حقوق نہ ملیں، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم ویسی ہی ایک تحریک چلائیں جس میں ہم اپنے حقوق کے لیے تب تک جنگ لڑیں جب تک ہمیں ہمارے حقوق نہ مل جائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں