پاکستان میں‌پکڑے جانے والے بھارتی جاسوسوں‌کی کہانی

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پکڑے گئے، اِن میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرکے واپس لوٹ گئے اور بعض آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔ میں نے اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران چند ایک بھارتی جاسوسوں کو واہگہ بارڈر کے راستے رخصت کیا ہے، جبکہ سربجیت سنگھ کی لاش بھی اپنے ہاتھوں واپس بھیجی تھی۔ پاکستان میں پکڑے جانیوالے بھارتی ایجنٹوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں تاہم آج تک صرف ایک جاسوس شیخ شمیم کو پھانسی دی گئی، دوسرا بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ تھا جسے سزائے موت سنائی گئی مگر وہ پھانسی پر چڑھائے جانے سے پہلے ہی جیل میں ایک قیدی کے حملے کرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا، اور لاہور کے جناح اسپتال میں سات روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ مجھ سمیت میڈیا سے وابستہ دیگر لوگ سات دن تک جناح اسپتال میں ڈیرے ڈالے بیٹھے رہے تھے، سربجیت سنگھ کی خودساختہ بہن دلبیرکور سے سربجیت کی بیٹیوں سے دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی جو اپنے باپ سے آخری ملاقات کے لئے پاکستان آئی تھیں۔

لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت نے آج تک اپنے کسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پر اتنا شور اور واویلا نہیں کیا جتنا کلبھوشن کو سزا سنائے جانے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔ کئی جاسوس تو ایسے تھے جنہوں نے کئی سال پاکستانی جیلوں میں گزارے اور جب واپس بھارت گئے تو اِن کی حکومت نے پہچاننے سے بھی انکار کردیا، وہ لوگ آج کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کئی ایجنٹوں اور اُن کے خاندانوں کو مراعات سے نوازا بھی گیا۔

پاکستان میں گرفتار کئے جانیوالے چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں خود بھارتی ذرائعِ ابلاغ نے رپورٹس شائع کی ہیں، اِن میں سے کئی ایجنٹ ایسے ہیں جو رہا ہوکر واپس جاچکے ہیں جبکہ چند ایک آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں، کلبھوشن یادو سمیت چند ایسے بھارتی جاسوس ہیں جن کے بارے میں پاکستانی عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور اُن کے ناموں سے بھی واقف ہیں، جن میں کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ سب سے نمایاں ہیں لیکن کئی ایسے ہیں جن کے بارے تفصیلات پاکستانی میڈیا میں شائع نہیں ہوسکی ہیں، ایسے ہی چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پکڑے گئے، اِن میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرکے واپس لوٹ گئے اور بعض آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔ میں نے اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران چند ایک بھارتی جاسوسوں کو واہگہ بارڈر کے راستے رخصت کیا ہے، جبکہ سربجیت سنگھ کی لاش بھی اپنے ہاتھوں واپس بھیجی تھی۔ پاکستان میں پکڑے جانیوالے بھارتی ایجنٹوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں تاہم آج تک صرف ایک جاسوس شیخ شمیم کو پھانسی دی گئی، دوسرا بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ تھا جسے سزائے موت سنائی گئی مگر وہ پھانسی پر چڑھائے جانے سے پہلے ہی جیل میں ایک قیدی کے حملے کرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا، اور لاہور کے جناح اسپتال میں سات روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ مجھ سمیت میڈیا سے وابستہ دیگر لوگ سات دن تک جناح اسپتال میں ڈیرے ڈالے بیٹھے رہے تھے، سربجیت سنگھ کی خودساختہ بہن دلبیرکور سے سربجیت کی بیٹیوں سے دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی جو اپنے باپ سے آخری ملاقات کے لئے پاکستان آئی تھیں۔

لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت نے آج تک اپنے کسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پر اتنا شور اور واویلا نہیں کیا جتنا کلبھوشن کو سزا سنائے جانے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔ کئی جاسوس تو ایسے تھے جنہوں نے کئی سال پاکستانی جیلوں میں گزارے اور جب واپس بھارت گئے تو اِن کی حکومت نے پہچاننے سے بھی انکار کردیا، وہ لوگ آج کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کئی ایجنٹوں اور اُن کے خاندانوں کو مراعات سے نوازا بھی گیا۔

پاکستان میں گرفتار کئے جانیوالے چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں خود بھارتی ذرائعِ ابلاغ نے رپورٹس شائع کی ہیں، اِن میں سے کئی ایجنٹ ایسے ہیں جو رہا ہوکر واپس جاچکے ہیں جبکہ چند ایک آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں، کلبھوشن یادو سمیت چند ایسے بھارتی جاسوس ہیں جن کے بارے میں پاکستانی عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور اُن کے ناموں سے بھی واقف ہیں، جن میں کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ سب سے نمایاں ہیں لیکن کئی ایسے ہیں جن کے بارے تفصیلات پاکستانی میڈیا میں شائع نہیں ہوسکی ہیں، ایسے ہی چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پکڑے گئے، اِن میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرکے واپس لوٹ گئے اور بعض آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔ میں نے اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران چند ایک بھارتی جاسوسوں کو واہگہ بارڈر کے راستے رخصت کیا ہے، جبکہ سربجیت سنگھ کی لاش بھی اپنے ہاتھوں واپس بھیجی تھی۔ پاکستان میں پکڑے جانیوالے بھارتی ایجنٹوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں تاہم آج تک صرف ایک جاسوس شیخ شمیم کو پھانسی دی گئی، دوسرا بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ تھا جسے سزائے موت سنائی گئی مگر وہ پھانسی پر چڑھائے جانے سے پہلے ہی جیل میں ایک قیدی کے حملے کرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا، اور لاہور کے جناح اسپتال میں سات روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ مجھ سمیت میڈیا سے وابستہ دیگر لوگ سات دن تک جناح اسپتال میں ڈیرے ڈالے بیٹھے رہے تھے، سربجیت سنگھ کی خودساختہ بہن دلبیرکور سے سربجیت کی بیٹیوں سے دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی جو اپنے باپ سے آخری ملاقات کے لئے پاکستان آئی تھیں۔

لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت نے آج تک اپنے کسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پر اتنا شور اور واویلا نہیں کیا جتنا کلبھوشن کو سزا سنائے جانے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔ کئی جاسوس تو ایسے تھے جنہوں نے کئی سال پاکستانی جیلوں میں گزارے اور جب واپس بھارت گئے تو اِن کی حکومت نے پہچاننے سے بھی انکار کردیا، وہ لوگ آج کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کئی ایجنٹوں اور اُن کے خاندانوں کو مراعات سے نوازا بھی گیا۔

پاکستان میں گرفتار کئے جانیوالے چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں خود بھارتی ذرائعِ ابلاغ نے رپورٹس شائع کی ہیں، اِن میں سے کئی ایجنٹ ایسے ہیں جو رہا ہوکر واپس جاچکے ہیں جبکہ چند ایک آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں، کلبھوشن یادو سمیت چند ایسے بھارتی جاسوس ہیں جن کے بارے میں پاکستانی عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور اُن کے ناموں سے بھی واقف ہیں، جن میں کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ سب سے نمایاں ہیں لیکن کئی ایسے ہیں جن کے بارے تفصیلات پاکستانی میڈیا میں شائع نہیں ہوسکی ہیں، ایسے ہی چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں