پاکستان میں افراطِ زراورگرتا ہوا معیار

قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور پاکستان کے عوام نا خوش ہیں۔ صرف اس ایک مسئلے پر ہی پاکستانی عوام میں ایسا غصہ برپا ہے جو زیادہ نہ سہی مگرکچھ پنجرے تو ہلا کہ رکھ ہی سکتا ہے۔ حکومت کی بے حسی نہیں چل سکتی۔

بطور ایک ماہرِ معاشیات مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔ میں بہت سے نمایاں ماہرینِ معاشیات کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا چاہئے۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے دنیا بھر کی حکومتیں مالیاتی پالیسی بناتے ہوئے رائج کرنا چاہتی ہیں۔ اگرچہ افراطِ زر اور بے روزگاری کسی بھی اقتصادی پالیسی کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں لیکن قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہئے ماسوائے تب جب کوئی اجارہ داری یا سیاسی گٹھ جوڑ سے انہیں مصنوعی طور پرنہ بڑھائے۔

قیمتوں کو کیوں نہیں ریگولیٹ کرنا چاہئے؟ ایک مسابقتی ماحول جہاں طلب و رسد سے قیمتیں کافی حد تک متاثر ہوتی ہیں وہاں اگر قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی کوشش کی جائے تو معیار میں کمی واقع ہوتی ہے اور بعض اوقات تو مقدار میں بھی کمی ہو جاتی ہے (جس کا مطلب ہے کہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی)۔

جب قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھا جائے یا جب طلب میں کمی بیشی سے قیمتوں پر بہت اثر پڑتا ہو تو ہم یہ دیکھ سکتے ہے کہ اشیاء و خدمات کا معیار گرتا ہے۔مثال کے طور پر پاکستان میں چائے کے کپ کا معیار اور سائز کم ہوا ہے کیونکہ اس کی قیمت کو حکومت نے کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مزید برآں سماجی دباؤ نے بھی اسے بالواسطہ طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک ا ور مثال گوشت کی مصنوعات کی ہے جن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے باعث ان کا معیار گر گیا ہے۔ اسی طرح روٹی کی ایک قیمت مقرر کرنے کے باعث اس کاسائز کم ہو گیا ہے۔ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں۔

قیمتوں اور طلب کے ما بین منفی تعلق کاکافی مطالعہ کیا گیا ہے اور اسے اقتصادی لٹریچر میں بیان بھی کیا گیا ہے لیکن اشیاء و خدمات کے معیار پر افراطِ زر کے اثر کو ماہرینِ معاشیات نے نظر انداز کیا ہے۔پاکستان میں افراطِ زر نے معیار کو بُر ی طرح متاثر کیا ہے کیونکہ عام طور پر طلب کی وجہ سے قیمتوں پر بہت اثر پڑتا ہے۔خصوصاً گھریلو صنعتوں اور دستکاریوں کو تو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گکھر منڈی میں قالین سازی، خیر پور میں چادر کی روایتی بُنائی اور قالین کی صنعت کو افراطِ زر کی وجہ سے معیار میں گراؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گکھرمنڈی میں بننے والی قالینوں کی مثال ہی لے لیجئے۔ اس قصبے میں بہت اچھے معیار کے قالین بنا کرتے تھے جو کہ نہ صرف ملک بھر میں استعمال ہوتے تھے بلکہ برآمد بھی کیے جاتے تھے۔صنعت کاروں کو یہ معلوم ہوگیا کہ قالینوں کی طلب اور قیمت کے درمیان تعلق بہت لچکدار ہے۔کیونکہ وہ اپنی قیمتیں نہیں بڑھا سکتے تھے (حالانکہ انکی اپنی لاگت اور خام مال جیسا کہ روئی کی قیمت بڑھ رہی تھی) تو انہوں نے دھیرے دھیرے اپنی مصنوعات کا وزن کم کرنا شروع کر دیا۔ لہذا ایک قالین کا وزن جو ۳۰۔۲۵ سال پہلے ۲۵ کلوگرام ہوتا تھا وہ اب صرف ۵ کلوگرام رہ گیا ہے۔ قالین کی بُنائی ڈھیلی کرکے وزن کو کم کیا جاتا ہے جبکہ پہلے بُنائی تنگ تنگ کی جاتی تھی ۔ اس سے معیار میں بہت زیادہ کمی ہوئی ہے۔گتھی ہوئی قالینوں کے دن اب گئے اور چادر سازی کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جگہ اب گھٹیا مال نے لی ہے۔

مزید برآں اصلی آمدنی میں کمی کی وجہ سے ملک میں اعلی معیار کی زیبائشی مصنوعات کی طلب بھی کم ہوئی ہے۔ نتیجتاً روایتی صنعتوں کے ماہر کارکن دوسرے شعبہ جات میں منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔بس ایک فرنیچر انڈسٹری ہی ہے جو اس سے محفوظ ہے ۔ اس میں قیمتوں کے بڑھنے کا اتنا اثر نہیں کیونکہ آمدنی زیادہ لچکدار ہے۔متوسط اور بالائی متوسط طبقات کی آمدنی بڑھنے کی وجہ سے ملک میں اعلی معیار کے فرنیچر کی طلب بھی بڑھی ہے۔

حکومت آبائی زراعت اور صنعت کی روایتی صلاحیتوں کو برؤے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی معیار کی مصنوعات تخلیق کروانے میں ناکام رہی ہے۔ دوسرے ممالک جیسا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور مشرقِ بعید کے دیگر ممالک کی صورتحال اسکے برعکس ہے کیونکہ وہاں حکومتوں نے اعلی معیار کی مصنوعات بنانے میں مقامی صنعت کاروں کی مدد کی ہے۔ اسکی ایک شاندار مثال ملائیشیا کی ہے جو جعلی مصنوعات بنانا چھوڑ کر مقامی برانڈ جیسا کہ Padini قائم کر رہا ہے۔

پاکستان میں پالیسی کی سطح پر افراطِ زر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کبھی بھی کار گر ثابت نہیں ہوئی اور معیشت کی حالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی کبھی حاصل ہو گی بھی نہیں کیونکہ طریقۂ ترسیل مالی پالیسیوں کے مطابق کام نہیں کرتا۔ شعبۂ مالیات، مالی احتیاط، شرح تبادلہ کے استحکام اور توانائی کے بندوبست جیسے عوامل پاکستان کی پالیسی کے بنیادی مقاصد ہونے چاہئے ورنہ یہ ملک نہ صرف مصنوعات کا معیار کھو دے گا بلکہ اسکے انسانی سرمایے میں بھی کمی واقع ہو گی ۔ اس کا اندازہ تو گزشتہ کئی دہائیوں سے بہتر روزگار کی تلاش میں باصلاحیت افراد کی دوسرے ترقی یا فتہ ممالک کی طرف ہجرت سے لگا یا جا سکتا ہے۔

مصنف : ڈاکٹر ہمایوں ڈار
مترجم: کنول نذیر

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں