پاکستان میں جاری توانائی کے بحران کے لیے بائیو گیس توانائی کا بہترین متبادل

پاکستان میں توانائی کا شدید بحران ہے قدرتی گیس ، کمپریس گیس اور بجلی کم ہونے کی وجہ سے حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی اب توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے پرغور کیا جا رہا ہے دیگر موجود اور متبادل توانائی کے آسان ذرائع میں سے ایک سستا ترین زریعہ بائیو گیس بھی ہے-

بائیو گیس ، نامیاتی مرکبات سے آکسیجن کی غیر موجودگی میں پیدا ہونے والی گیس ہے جو استعمال میں معدنی گیس کی خصوصیات رکھتی ہے۔ بائیو گیس نیا آئیڈیا نہیں یہ ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے ہمارے ہمسائے ملک ہندوستان سمیت دنیا بھرمیں استعمال ہو رہی ہے ، پاکستان میں اگرچہ اس طرف اتنی توجہ نہیں دی گئی ، وقت کے ساتھ باقی دنیا میں اس کی پیداوار کو فوقیت ملی ہے مگرابھی تک ہمارے ہاں محض اس کو راویتی طریقۂ سے اورکم مقدارمیں ھی بنایا جا رہا ہے –

بائیو گیس پیدا کرنے کے لئے کسی بہت بڑی ٹیکنالوجی یا قیمتی خام مال کی ضرورت نہیں یہ نامیانی کچرے سے پیدا ہوتی ہے جو عام طور پر ضائع کر دیا جاتا ہے- نامیاتی کچرے سے مراد ایسی فالتو اور غیر ضروری اشیاء ہیں جو جلد گل سڑ جاتی ہیں – جانوروں کا گوبر، بچی کھچی غذا، غذائی کچرا اور ایسی ہی بے کار اور فالتو چیزیں جنہیں ہم روزانہ کچرے میں پھینک دیتے ہیں، قیمتی توانائی حاصل کرنےکے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں-

بائیوگیس پلانٹ کی اقسام
عام طور پر بائیو گیس پلانٹس کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1- گھریلو استعمال کا پلانٹ
2- زرعی اور درمیانہ، تجارتی نوعیت کا پلانٹ اور
3- صنعتی اور مکمل تجارتی نوعیت کا پلانٹ

اگرچہ ان تینوں اقسام کے بائیو گیس پلانٹس کی اپنی اپنی انفرادی ضروریات موجود ہیں اور مقام، حجم، ساخت اور شکل کے اعتبار سے تینوں اقسام کے پلانٹس ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم ان سب کا کام کرنے کا بنیادی طریقہ تقریباً ایک جیسا ہے۔

بائیوگیس پلانٹ کےاہم حصے
اصولی طور پر ایک بائیو گیس پلانٹ مندرجہ ذیل اہم اور بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:

1- نامیاتی کچرے کے لئے ٹینک
2- گیس اکٹھی کرنے کے لئے ٹینک
3- گیس کی ترسیل کے لئے مناسب بندوبست (پائپ اور اس کی تنصیبات وغیرہ)
4- استعمال شدہ نامیاتی کچرا الگ کرنے کا بندوبست

اب دیئے گئے لنک کو دیکھ کر گھریلو استعمال کے لیے چھوٹا پلانٹ خود بنا سکتے ہیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں