پاکستان کا مستقبل اور اہم منصوبے (بادشاہ خان)

ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور ایسا ہی پاکستان میں نظر آرہاہے ، کئی منصوبے اور ترقی کے سامنے ہیں ، سی پیک کے علاوہ میں چند دیگر اہم منصوبوں سے آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ،جس پر حکومت اور ریاستی اداروں کی توجہ نہیں ہے ،یا یوں کہہ لیں نہ ہونے کے برابر ہے ،اور یہ ایسے طویل مدتی منصوبے اورفوائد ہیں کہ پاکستان کبھی بھی دوست اور دشمنوں سے بلیک میل نہیں ہوگا ،بس توجہ کی ضرورت ہے ،جنگ زدہ فاٹا سے خوشخبری آرہی ہے ،جہاں پندرہ مقامات سے توانائی کے بڑے ذخائر دنیا کے سامنے آنے کو ہیں ،جس سے ہم خود کفیل ہوجائیں گے ،دنیا سرمایہ کاری کے لئے پر تول رہی ہے ،پشاور،کابل ہائی وے کے لئے ورلڈ بنک قرضہ دینے کو تیار ہے ، ریکو ڈک کے ذخائر ،تاپی گیس پائپ لائن ، یہ سی پیک کے علاوہ منصوبے ہیں او جس بات پر ہم زور دیتے آئے ہیں کہ مغربی روٹ پر کام کیا جائے ،مغربی روٹ ان سب منصوبوں کے لئے اب پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہوگیا ہے.
ایک خبر یہ ہے کہ عالمی بینک نے پشاور سے کابل تک 265 کلومیٹر طویل موٹروے کی تعمیر کے لئے مالی معاونت پر رضامندی ظاہرکی ہے ۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہوگا جبکہ اس شاہراہ کی تعمیر پر 76کروڑ ڈالرلاگت آئے گی۔وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ورلڈ بینک کی نائب صدر اینے ڈکسن کو ملکی اقتصادی صورتحال سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بنک پشاور سے کابل تک ہائی وے کی تعمیر کیلئے سرمایہ فراہم کرنے پر رضامند ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک پاکستان کی ترقی میں اہم شراکت دار ہے ۔ ہم اصلاحات پر مسلسل عمل پیرا ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سی پیک کے تحت منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے نجی شعبہ کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے اور حکومت کا اپنا عمل دخل محدود ہو گا۔ نجی شعبہ کو سی پیک کے تحت منصوبوں کے انتخاب اور قیام میں ترجیح دی جائے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ورلڈ بینک کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو مالیاتی ضابطوں کو یقینی بنا رہا ہے اور اس مقصد کیلئے ایک حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس پر بھرپور طریقہ سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے سربراہ آئی ایم ایف نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ وفد نے آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی اور اصلاحات پر وزیر خزانہ کو مبارکباد دی۔ وفد کے سربراہ فلپ لی سینٹرل ایشیاء تک ایک نیا روٹ جو افغانستان سے گذر کر پاکستان کو مل رہا ہے دوسری جانب اسے متبادل روٹ بھی کہا جاسکتا ہے ،جتنی اس معاہدے کی اہمیت بڑھی ہے اتنا ہی مغربی روٹ کی تعمیر ضروری ہوگی ہے ،اگر آپ نقشے پر غور کریں کہ تاپی گیس پائپ لائن ترکمانستان کے علاقے دولت آباد سے افغانستان کے صوبے ہرات ،قندھار سے ہوتے ہوئے پاکستانی علاقے کوئٹہ کے قریب داخل ہوگی اور پاکستان میں ان پاسماندہ علاقوں سے گذرے گی جو مغربی روٹ پر واقع ہیں،اس روٹ کے تعمیر ہونے سے جہاں ایک طرف یہ آبادیاں مستفیذ ہونگی تو دوسری جانب گیس پائپ لائن کی حفاظت بھی آسان ہوجائے گی،مگر وفاقی حکومت کو شائد لاہور کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ، یہ گیم چنیجر منصوبہ یا ایگریمنٹ کیا ہے آئے ذرا اس پر تھوڑی نظر ڈالیں،تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے 2018 میں مکمل کیا جائے گا جس کی تکمیل کے بعد پاکستان، افغانستان اور بھارت کو ترکمانستان گیس فراہم کرے گا۔ منصوبے کے تحت چاروں ممالک کے درمیان 1735 کلومیٹرطویل پائپ لائن بچھائی جائے گی جب کہ پائپ لائن سے ایک کھرب 20 ارب کیوبک فٹ گیس درآمد کرنے کی گنجائش ہوگی جب کہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان یومیہ ایک ہزار 325 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس حاصل کرے گایہ منصوبہ 2018 میں مکمل ہوگا جس سے توانائی منصوبوں میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی اور اس سے چار ممالک نہیں بلکہ ارد گرد کے بہت سے ممالک مستفید ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تاپی گیس پائپ منصوبے پر10 ارب ڈالر لاگت آئے گی، خرچ ہونے والی لاگت کا 85 فیصد حصہ ترکمانستان اور 5 فیصد پاکستان ادا کرے گا جب کہ یہ منصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا جس کی تکمیل کے بعد مہنگے تیل کی جگہ سستی گیس لے لے گی۔اقتصادی سرگرمیوں سے ہی انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ، تاپی گیس منصوبے سے جہاں پاکستان، افغانستان، بھارت اور ترکمانستان کو فائدہ ہوگا وہیں منصوبے سے اردگرد کے دیگر ممالک فائدہ اٹھا سکیں گے ، جبکہ وسطی ایشیاء سے تجارت کے مواقع بڑھ جائے گے اور ہندوستان کو بھی راہداری کی ضرورت ہوگی،جو پاکستان اپنی شرائط پر دے سکتا ہے اور روک بھی سکتا ہے۔
ریکوڈک بلوچستان کے علاقے چاغی میں ایک چھوٹا سا صحرائی شہر ہے جو ٹیتھیان کاپر بیلٹ کے اوپر واقع ہے اور دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ریکوڈک منصوبہ سونے کی وہ کان ہے جس کے پانچ فیصد حصہ سے ملک میں ہونے والی 65 سالہ بدترین کرپشن کے داغ دھوئے جا سکتے ہیں،ریکوڈک منصوبے سے حاصل شدہ متوقع آمدنی سے 527 نئی سٹیل ملز بھی لگا دی جائیں تو اس کے وسائل و منافع پرکمی نہیں آئے گی۔
یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معاہدے پاکستان کے تمام علاقوں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،اور اس میں رکاوٹیں دور ہونے سے قومی یکجہتی کی اچھی فضا بن سکتی ہے اگر ایسا نہ ہو تو پاکستان کے بے شمار دشمن سرگرم ہوچکے ہیں کہ کسی طرح پاکستان خطے میں اہمیت کھو دے ،کیونکہ جنگیں اب صرف برس ہی برس جاری رہیں گی اس کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں معیشت میں اہم ممالک کا غلبہ ہوگا،سی پیک کا مغربی روٹ اگر تعمیر ہوتا ہے تو یہ پاکستان کا مغربی روٹ نہیں شہ رگ ہوگی اور دشمن اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتا،دیکھنا یہ ہے ،کہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں یا صرف لگان وصول کرینگے۔

تحریر: بادشاہ خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں