پاکستان کو ریگستان بنانے کا منصوبہ

ہندو بنیا سامراج آج تک پاکستان کے خلاف نت نئی سازشوں میں مصروف رہتا ہے سبھی بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کرنے کا مذموم مقصد حاصل کرنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاکستانی حصہ کے پانی پر بھی 110نئے بڑے ڈیم اور ان پر پاور پراجیکٹس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کرچکا ہے ۔1960میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدہ کی رو سے ہمیں دیے گئے تین دریاؤں کے پانی کو کسی بھی صورت نہیں روکا جاسکتا نہ ہی ان میں سے بھارت ایک بوند بھی مزید استعمال کرسکتا ہے ہٹ دھرمی کی انتہا اور اس معاہدے کو تار تار کرکے اس کی دھجیاں بکھیر ڈالنے والے بھارت کو اس معاہدے کو گارنٹی دینے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور کوئی اس ظالم غنڈہ سامراج کا ہاتھ روکنے والا نہ ہے۔دریائے چناب پر 30دریائے جہلم پر 54اور سندھ پر26مزید ڈیم بنانے کی تیاریاں مکمل کرکے اربوں روپے کا قرضہ منظور ہی نہیں بلکہ جاری تک کروالیا ہے۔بین الاقوامی سامراجی ادارے بھی دلی طور پر پاکستان کو قبول نہیں کرتے اب لڑ تو سکتے نہیں اس لیے دریاؤں کا پانی روک کر ہمیں پانی سے مکمل محروم کرکے بھوک اور پیاس سے تڑ پا تڑپا کر مارنا چاہتے ہیں۔ ہماری نااہل ،مفاد پرست اور علاقائی لسانی تفرقوں میں بٹی ہوئی قیادتیں ابھی تک کالا باغ ڈیم بھی نہ بناسکیں مگراب ملٹی ملین سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر سب دریاؤں پر اس کے مزید 110ڈیم تیار ہوگئے تو ہمارے پاس پانی کہاں سے آئے گا ۔”گنجی کہاں سے نہائے گی اور کیا نچوڑے گی”والا مسئلہ درپیش ہوگا بھارت مرالہ ہیڈ ورکس بند کردینا چاہتا ہے اسطرح مرالہ راوی لنک کینال کی بندش سے پاکستان میں چاول پیدا کرنے والا سوا کروڑ ایکڑ رقبہ پانی سے مکمل محروم ہو کر ہماری زراعت کی مکمل تباہی کا باعث بن جائے گا۔بھارت نے پاکستان کو معاہدے کے تحت ملنے والے پانیوں پر جس طرح ڈیم بنائے ہیں ان کی تفصیل بہت کریہہ اور ظالمانہ تصویر کھینچتی ہے جو کہ ہماری لاپرواہ سوئی ہوئی قیادت کے منہ پر تھپڑ بھی ہے۔780میگا واٹ کا دُل ہستی پراجیکٹ دریائے چناب کے اوپر سے کشتواڑ کے نزدیک بنا یا گیا جو 7500 سے زائد کیوسک پانی خرچ کر رہا ہے اسی طرح تین میگا واٹ کا راجوڑ پراجیکٹ در ہالی نالہ جو دریائے چناب کاہی حصہ ہے پر تعمیر ہے جو87کیو سک ہمارا پانی استعمال کر رہا ہے ۔4.5کاتھروٹ پاور پراجیکٹ دریائے چناب سے نکلنے والے تھروٹ نالہ پر بنا ہمارا81کیوسک پانی استعمال کر رہا ہے۔
0.2میگاواٹ کاشنشا پاور پراجیکٹ دریائے چناب سے ہی نکلنے والے شنشا نالہ پر بنا ہوا ہمارا 50کیوسک پانی خرچ کررہا ہے۔دریائے چناب پر بگلیار پاور پراجیکٹ کا فیز ون مکمل ہو چکا ہے اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے اور مودی سے ذاتی دوستیاں پالتے ہوئے چپ سادھے ہوئے ہیں ۔ساڑھے چار سو میگاواٹ کا یہ پراجیکٹ مرالہ ہیڈ ورکس سے 147کلو میٹر اوپر تعمیر ہوا اور ہمارا 430کیو سک پانی استعمال کررہا ہے اسی طرح 690میگاواٹ کاسلال پراجیکٹ ہیڈ مرالہ سے45کلومیٹر اوپر بنا ہوا ہمارا 14550کیوسک پانی استعمال کرتا ہے۔
0.1میگاواٹ کا بلنگ پاور پراجیکٹ دریائے چناب کے بلنگ نالہ پر تعمیر کیا ہے جو25کیوسک پانی استعمال کرتا ہے اسی طرح 0.1میگاواٹ کا کاسی سو پراجیکٹ دریائے چناب کی ٹریبوٹری پر بنا25کیوسک ہمارا پانی استعمال کرہا ہے ۔2میگاواٹ کا چنانی دوم پراجیکٹ جموں توی پر بنا 25کیوسک پانی ضائع کررہا ہے۔1میگاواٹ کا بھدر واہ پراجیکٹ دریائے چناب سے نکلنے والے میزو نالہ کے نزدیک تالو پر بنایا 300کیو سک پانی استعمال کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے1200میگاواٹ کا ہائیڈرو پراجیکٹ سوالکوٹ ، 30MWکا کیرو ہائیدرو پاور پراجیکٹ ،پکال دل کے مقام پر1020میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، رتلی کے مقام پر 560mwکا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،برسار کے مقام پر1020MWکاہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،کرتھائی600MWکا1&2کا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ،شامنوٹ کے مقام پر370میگاواٹ کاہائیڈرو پاور پراجیکٹ،نو نت کے مقام پر400MWکاہائیڈرو پاور پراجیکٹ،کردار پر520MWکا پاور پراجیکٹ،بیرینیم پر 240MWکا پاور پراجیکٹ،پٹم پر دریائے چناب سے نکلنے والے میار نالہ پر 60MWکا پاور پراجیکٹ ،تیلنگ کے مقام پر دریائے چناب سے نکلنے والے دریائے چندر پر81MWکا پاور پراجیکٹ،میار پر90MWکا پاور پراجیکٹ،تاندی پر150MWکا پاور پراجیکٹ ،ڈگر پر360MWکا پاور پراجیکٹ ،چھاترو کا دریائے چندر (چناب )پر180MWکا پاور پراجیکٹ،کھو کسر کا 90MWکا پاور پراجیکٹ ،سیل کا 150MWکا پاور پراجیکٹ ،بردانگ کا114MWکا پاور پراجیکٹ،سچھ خاص کا210MWکا پاور ہاؤس ،گوندھالہ پر دریائے چناب سے نکلنے والے بھگا نالے پر144MWکا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،روٹلی کا 715MWکا پاور پراجیکٹ ،سمبل گاؤں کے نزدیک ہائیڈرو پاور پلانٹ ،انت ناگ میں پہلگام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ۔دریائے جہلم کے حصہ کشن گنگا میں استھان نالے پر استھان ہائیڈرو پاور ہاؤس ،بانڈی پورہ پر دریائے جہلم سے نکلنے والے مدو متی نالے پر پاور ہاؤس ، دگوان نالے پر بنایا جانے والاڈاچھم ہائیڈرو پراجیکٹ ،کشن گنگا نالے پر کران ہائیدرو پراجیکٹ ،کشن گنگاکے قاضی ناگ نالے پر کماہ ہائیڈرو پراجیکٹ ، ودھی نالے پر متچھل ہائیڈرو پراجیکٹ دریائے پونچھ پر سورن کے مقام پر نال ہائیڈرو پراجیکٹ اور وان کٹ نالے پر اپر سندھ ہائیڈرو پلانٹ بھی بڑی تیزی سے تعمیر کیا جارہا ہے ایسے تمام منصوبے مکمل کر لیے گئے تو پاکستان میں آبی بحران کا خدشہ ہے اس کا تدارک نہ کیاگیا تو ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

تحریر:‌ڈاکٹر احسان باری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں