پاکستان کی سیاست کا دھنی بخش (ریاض جاذب)

دھنی بخش رام چند کی پانچوین نسل سے ایک حکمران(رائے)دھنی بخش عرف دھونی کے بیٹے ’’بلکا رام دھنی نے اسلام قبول کیا جس کا اسلامی نام رائے غیاث الدین خاں رکھا گیا۔اس سلسلے کا آخری رائے صوفی فضل محمد خاں دھنی تھے جو پاکستان بننے کے بعد 1950عیسوی میں فوت ہوئے ۔ دھنی بخش کا خاندان ہمیشہ حکمران رہا ہے دھنی نارو راحپوتوں کی گوت ہے۔ نارو راجپوت خاندان کی ابتدا کشمیر کے مہاراجہ رائے رام چند سے ہوتی ہے۔
آج کا موضوع ہرگز دھنی بخش نہیں جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ ہمارا اصل موضوع ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی دھنی قسمت ہونا جس دھنی کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس میں اور میاں محمد نوازشریف میں ایک قدر مشترک ہے دونوں کا آبائی تعلق کشمیر ہے میاں محمد نواز شریف اور دھنی بخش میں قدر مماثلت ہم نہیں ڈھونڈ رہے مگر دونوں قسمت کے لکی ہیں دونوں کا مقدر، سکندر ہے یعنی دونوں مقدر کے سکندر ہیں۔
دھنی دراصل سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اس کی صفات میں مالدار، دولت مند اور حاکم کے علاوہ’’ مجازا‘‘ بھی ہے۔ مالدار، دولت مند اور حاکم تو میاں محمد نواز شریف ہیں ہی تاہم وہ ’’مجازا‘‘ بھی ہیں۔ پہلے دھنی کے معانی صفات مترادفات میں مجازا کے معنی میں کسی خاص کام میں ماہرہونا بھی شامل ہے میاں صاحب سے زیادہ ماہربھلا کوئی اور کون ہوگا۔ وہ سیاست کے میدان میں خاص مہارت رکھنے والے کھلاڑی ہیں ۔ محاورا ہے کہ ’’جو نکلے ،سو بھاگ دھنی کے ‘‘ یہ کہاوت/محاورا بھی میاں محمد نواز شریف پر پورا اترتا ہے ۔پاناما پیپرزکا عدالتی فیصلہ جو بھی نکلا وہ سو بھاگ دھنی (نوازشریف) نکلا ہے۔ میاں محمد نواز شریف واقعی قسمت کے دھنی ہیں انہوں نے ہمیشہ تقدیر سے لڑائی کرکے اپنا مقدر خود بنایا ہے۔ قسمت کا یہ دھنی جب پنجاب کے وزیر خزانہ کے طور پر سیاسی میدان میں اترا تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا وہ محض چھ سال کے عرصے میں پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ جب معزول ہوئے تو ایک بار پھر قسمت کا یہ دھنی شخص تقدیر سے بھڑ گیا اسٹیبلشمنٹ کے ایک بڑے ستون سے ٹکر لی، خود بھی ڈوبے اور باقیوں کو بھی لے ڈوبے ان کی قسمت نے پھر یاوری کی اور پہلی بار عوامی سیاست دان کے روپ میں نظر آئے اور جب آمریت کے تسلسل کی آخری سلسلہ کے جرنیل نے ان پر وار کیا تو اس دفعہ نہ صرف اقتدار کھویا بلکہ سزائے موت بھی ملی بچنے کے لیے ایک ڈیل کے تحت ملک بدر ہوئے کئی بار ملک واپس آنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اب یہ سمجھا جانے لگا کہ ان کی سیاست کا باب ختم ہوگیا ہے لیکن قسمت کے دھنی تھے باحفاظت ملک واپس آگئے مگر اب وہ تیسری بار اس ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے کیونکہ آئینی رکاوٹ تھی یہاں بھی دھنی قسمت ہونے کا ثبوت دیا۔ میثاق جمہوریت اور مفاہمتی پالیسی نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ رکاوٹ ہٹا دی آئینی ترمیم کے ذریعے وہ ایک بار تیسری بار وزیر اعظم بن گئے۔وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے اسی اثناء میں دھرنا سیاست کی جال سے بھی وہ بچ نکلے مخالفین نے بھی اب یہ سوچ لیا کہ اب کوئی راہ نہیں کہ انہیں ہٹایا جاسکے لیکن امید بر آئی اور پاناما کا ہنگامہ شروع ہوگیا معاملہ عدالت میں گیا اور دن بہ دن سماعت ہوئی اس دوران ایک بار پھر یہ تاثر ملا کہ اب کی بار میاں صاحب کا بچنا مشکل ہے اور اس بارضرور ان کے ’’گلے میں شکست کا ہار ‘‘ڈلے گا لیکن قسمت کا دھنی ایک بار پھر بچ نکلاعدالت عظمی کے پانچ معزز ججز نے کنکریٹ فیصلہ نہیں دیا معاملہ جے آئی ٹی پر چھوڑ دیا ہے اگر میاں محمد نواز شریف کی زندگی اور ان کی سیاست کا بغور جائزہ لیا جائے تو قسمت کی دیوی ان پر مہربان رہی ہے ۔
ابتدائیہ میں ہم نے دھنی کی بات کی اور آخر میں قسمت پر بات ختم کرتے ہیں یہ محاورا ،زبان زد عام ہے کہ قسمت کا دھنی ہونا۔ میاں محمد نواز شریف حالات کی ناسازگاریوں اور شخصی طور پر نارسائیوں میں گھرا ہونے کے باوجود وہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ قسمت کی یاوری کام کرجاتی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی سے بھی وہ بچ نکلیں گے۔

تحریر:ریاض جاذب

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں