پاکستان کی قومی صنعتیں (ڈاکٹر‌خاور سلطان)

بنیادی طور پر توپاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ذرا نم ہو تو پاکستان کی مٹی بڑی زرخیز ہے۔لیکن کیا کریں اب نم کی کمی ہی ہوتی جا رہی ہے۔مودی دریاؤں کا پانی بند کرکے ہماری نہروں کو خشک اور زمینوں کوبنجر کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔نہریں تو بند ہوں نہ ہوں لیکن بارانی علاقوں میں ٹیوب ویل بند کرنے میں ہم اپنا پورا کردار ادا کر رہے ہیں۔تیل کی بڑھتی قیمت غریب کسانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔
لیکن بجلی بھی تو میاں صاحب کے وعدوں پر منحصر ہے۔ایسے میں کاشتکاری غریب کسانوں کے لیے فقط ایک مقروض ہونے کا ذریعہ ہے۔پس مودی کے ارادوں اور میاں صاحب کے وعدوں کو دیکھتے ہوئے عوام نے دوسروں پیشوں پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔تو آئیے ہم زراعت سے ہٹ کر پاکستان کی صنعتوں کی بات کرتے ہیں ۔
پاکستان کی سب سے بڑی صنعت لیڈر سازی کی صنعت ہے۔ہمارے ہاں ہر ورا ئٹی ہر لیول کے لیڈر بغیر آرڈرکے بغیر ضرورت وسیع پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں لیڈروں کا سلسلہ صدر ،وزیر اعظم ،وزیروں، مشیروں سے شروع ہو کر کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔پارلیمنٹ ،سینٹ،ضلع و تحصیل کونسلوں ،یونین کونسلوں کے ارکان اور نہ صرف ارکان بلکہ مندرجہ بالا نشستوں کے ہارے ہوئے امیدوار،ماضی میں کبھی جیتے ہوئے،زندگی میں کبھی ایک بار الیکشن جیتے ہوئے امیدوار بھی ہمارے ہاں لیڈر کا درجہ رکھتے ہیں ۔یہ سلسلہ اتنی آسانی سے رکنے والانہیں ہے۔ وکیلوں کی یونین،ڈاکٹروں کی یونین،تاجروں کی یونین،دوکانداروں کی یونین،میڈیکل سٹوروں کی یونین وغیرہ وغیرہ کے ارکان، ان کے سپورٹر، ان کے رشتہ داردوست احباب سب لیڈر کی کلاسیفیکیشن میں آتے ہیں۔مزید ورائٹی بیان کرتے ہوئے میڈیا کی تنظیموں ، مذہبی جماعتوں ، فلاحی تنظیموں سے وابستہ لوگ بھی لیڈر کہلاتے ہیں۔کالجوں یونیورسٹیوں میں کلاسز سے ذیادہ آپکو تنظیمیں نظر آئیں گی۔اور ہر طالب علم کسی نہ کسی تنظیم کا لیڈر پایا جاتاہے۔
لیڈر سازی پاکستان کی واحد صنعت ہے جس میں پاکستان نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ دوسرے ملکوں کو لیڈر ایکسپورٹ بھی کرتا ہے۔آپ نے اکثرسنا ہو گا کہ یہ صاحب سعودیہ میں فلاں پاکستانی سیاسی پارٹی کے صدر ہیں۔یہ رانا صاحب لندن میں اس پاکستانی پارٹی کے راہنما ہیں وغیرہ وغیرہ۔ایسے صدر بننے والے کو یا تعارف آ کروانے والے کو کبھی ذرا سی بھی جھجک نہیں آئی کہ کسی پاکستان کی سیاسی جماعت کے دوسرے ملک میں قیام کا کیا مقصد ہے۔
ہماری صنعت کے پیدا کردہ لیڈرز کی اہم خوبی یہ ہے کہ ہمارے لیڈرآٹو سنتھیٹک اور آٹو میٹک ہیں۔یعنی خود ساختہ اور خود کار۔خود ساختہ کا مطلب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے لیڈر اپنے آپ معرض وجود میں آجاتے ہیں اور خود کار کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیڈر اپنے آپ اپنی مرضی سے جو دل چاہے کرتے ہیں۔ان کا کوئی ایس او پی نہیں ہوتا۔یہ ہر قانون سے بالا تر اور ہر ضابطے سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
اس صنعت میں ایک منفرد بات یہ ہے کہ ہر صنعت کی پروڈکٹ پر ٹیکس ہوتا ہے لیکن ہمارے لیڈر زپر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
اگر ہم لیڈر کے فوائد بیان کریں تو ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لیڈر بڑی کام کی چیز ہے۔چائنا کے بنے سولر پینل سے پورا گھر چلے نہ چلے لیکن ہمارے ایک لیڈر سے پورا گھر بلکہ رشتہ داروں دوستوں کاکام بھی چلتا رہتا ہے۔نادرا یا پاسپورٹ آفس میں قطار توڑنے والا ہر شخص کسی نہ کسی لیڈر کا رشتہ دار واقع ہوتا ہے۔لیڈر سے رشتہ داری ٹریفک کا اشارہ توڑنے کے کام آسکتی ہے۔لیڈر سے رشتہ داری کی صورت میں آپکو کسی قسم کے غیر قانونی کام کرتے ہوئے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
لیڈر سازی تو ہماری صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن اس کے علاوہ کچھ دوسری صنعتوں کی بھی بات کریں تو اشتہار سازی ہماری دوسری بڑی صنعت ہے۔ہمارے ملک میں ہر در،دیوار،درخت ،کھمبااشتہارات کے بوجھ تلے دبانظر آئے گا۔اگر کسی جیالوجسٹ کی مدد کھدائی کی جائے تو ہزاروں کی تعداد میں تیہیں دریافت ہوں گی جو پچھلی کئی دہائیوں کے الیکشنز،سرکسوں،تماشوں،مذہبی محافل،عرسوں،دواخانوں،لکی کمیٹیوں،قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے والے اداروں کی یادیں سمیٹے ہوئے ہیں۔باہر کے مہذب معاشروں میں ہر محلے میں ایک نوٹس بورڈ نصب ہوتا ہے۔جس نے کوئی بھی اشتہار لگانا ہو وہ اس نوٹس بورڈ پراشتہار لگا دیتا ہے۔جس نے بھی کوئی چیز خریدنی یا بیچنی ہو،مکان کرائے پر دینا یا لینا ہو وہ اس نوٹس بورڈ پر نوٹس لگا دیتا ہے۔لوگ آتے جاتے نوٹس پڑھ لیتے ہیں۔اورپندرہ بیس دن بعد پرانے اشتہارات اتار دیے جاتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں اشتہار لگانے والوں کے لئے ہر جگہ ہی نوٹس بورڈ ہے۔اور اس صنعت کا سیزن کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ ہر وقت کوئی نا کوئی الیکشن ہم پر برپا رہتا ہے۔اور ہمارے ہاں بہت سے دوسرے معاملات کی طرح اشتہارات پر بھی کوئی خاص قانون نہیں ہے۔
کسی اینا لسٹ نے لکھا ہوا تھا کہ کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس ملک میں کاغذ کی سالانہ فی کس کھپت سے لگایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں سالانہ۵کلوگرام فی کس کاغذ استعمال ہوتا ہے جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔چونکہ اب الیکٹرانک میڈیاکی وجہ سے کتاب بینی کا رواج ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے لگتا ہے اب ہمارے ہاں کاغذ صرف اشتہارات پر ہی استعمال ہو رہا ہے۔یوں یہ صنعت دنیا کے سامنے ہماری ترقی کا بھرم رکھے ہوئے ہے۔
بڑی صنعتوں کے علاوہ گھریلوں دستکاریوں میں چغل خوری،گھریلوں سازشیں ،ناچاقیاں،ہمسائے پر جھوٹے مقدمات وغیرہ شامل ہیں جن کو کبھی بعد میں زیر بحث لائیں گے۔
صنعتوں کے علاوہ رئیل اسٹیٹ ،ٹوئراینڈ ٹریول،بیرون ملک بھیجنے والے ایجنسیز کا پیشہ بھی زوروں پر ہے اور قانون کی نظر ان کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔
مندرجہ بالا تمام صنعتیں ملک کی معاشی اور اخلاقی بد حالی میں اپنا پورا پورا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ان پر کوئی قانونی کاروائی ہو نہ ہوملک و قوم کی بہتری کے لیے ہمیں انفرادی طور پر اخلاقی کاروائی ضرور کرنی چاہیے اور صرف شکوہ ہی نہیں بلکہ اپنے حصے کی شمع ضرور جلانی چاہیے۔

تحریر: ڈاکٹر خاور سلطان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں