پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ

9 ستمبر 1929ء کو جرمنی کے شہر میں پیدا ہونے والی رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ طبیعت کی خرابی کے باعث آغا خان ہسپتال کراچی کے آئ سی یو وارڈ میں زیر علاج تھیں ،جو 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔

ڈاکٹر رتھ جرمنی نژاد پاکستانی شہری تھیں۔ جنہیں حکومت پاکستان نے ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں 1988 میں شہریت عطا کی۔ ڈاکٹر رتھ کو پاکستان کی مدد ٹریسا بھی کہا جاتا ہے

۔ رتھ نے 1949 میں مغربی جرمنی سے اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی ۔ 1958ء میں ڈاکٹر رتھ نے پاکستان کے بارے ایک ڈاکومینٹری فلم دیکھی جس میں ایک موزی مرض جزام (کوڑھ) کے بارے میں دکھایا گیا تھا۔ اُس وقت پاکستان میں طبی سہولیات کا آج کی طرح فقدان تھا۔جس کے باعث اس موزی پر قابو پانا ناممکن تھا۔

جزام ایک اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے۔جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتا ہے۔کوڑھی کے جسم سے بہت زیادہ بو بھی آتی ہے کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لئے ہاتھوں، ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہوجاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا۔

1960ء میں پاکستان میں اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد ہزاروں میں تھیں۔ اور یہ مرض بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ملک کے مختلف مخیر حضرات نے کوڑھیوں کے لئے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتے تھے۔ لوگ آنکھ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے۔ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتاتھا اور جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے یا تو سسک کر جان دینا یا خود کشی کرنا۔

1960ء کے دوران مشنری تنظیم نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان بجھوایا۔ یہاں آکر انہوں نے جزام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو زندگی کا سب سے مشکل ترین فیصلہ کیا۔ اور وہ فیصلہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس بیماری سے نبرد آزما ہو نے کے لئے پاکستان میں رکنا تھا۔ انہوں نے نے کراچی کے ریلوے سٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ کوڑھیوں کی بستی کی ایک جھونپڑی میں جزام کا سینٹر کھولا۔ (میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر) کے نام سے قائم ہونے والا یہ سینٹر جزام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 1963ء میں ایک باقاعدہ کلینک خریدا گیا جہاں پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے جزام کی مریضوں کا علاج کیاجانے لگا۔

کام میں اضافے کے بعد کراچی کے بعد دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور 170 کے قریب لپریسی سینٹر بنائے۔ جزام کے مرض پر قابو پانے کے لئے ڈاکٹر رتھ نے پاکستان کے دورافتادہ علاقوں کے دورے بھی کئے اور وہاں بھی طبی عملے کو تربیت دی۔

پاکستان میں جزام کے خاتمے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی اور دیگر ممالک سے بھی عطیات جمع کئے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔ ا سکے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ اُن کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی بدولت کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 1966ء میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شام کیا جہاں جزام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایاگیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ اپنا وطن چھوڑ کرپاکستان کو اپنا وطن بنایا اور اپنی زندگی ان لوگوں کی خدمت میں تیاگ دی جن کو اپنے سگے بھی گھر سے نکال دیتے تھے ۔ ڈاکٹر رتھ گزشتہ پانچ دہائیوں سے بغیر کسی مفاد کے دن رات پاکستانیوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر رتھ کو ہماری دعاؤں اور نیک خواہشات کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشان قائداعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز،جرمنی کا آرڈرآف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا۔

اس امر کی ضرورت ہے کہ عوام اور میڈیا ہسپتال بنانے والی اس غیر سیاسی ہیرو کی خدمات کو بھی بیان کرے۔ اور ان کی قربانیوں اور خدمات کا اعتراف کرے۔ ان کا حق ہے کہ ان کو وہ عزت و احترام دیا جائے جو کوئی بھی غیرت مند قوم اپنے ہیرو اور محسنوں کو دیتی ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں