پراسرار سمندری مخلوق…..جیلی فش

انسان، دیکھیں تو مختار اتنا کہ ستاروں پر کمندیں ڈالے اور بے بس اتنا کہ اک پھانس کی تکلیف برداشت نہ کر سکے. گزشتہ دو ہفتے ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ بھی رہا کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے چاہنے کے باوجود کچھ لکھنا ممکن نہ ہوپایا-
تو قارئین آجکی محفل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئےسمندر کی سیر کو چلتے ہیں. اک ایسی تاریخی مخلوق جو کہ قریباً ڈیڑھ بلین سال پرانی، نہ اس میں ہڈی ہے، نہ خون اور نہ ہی دل نہ دماغ. اک حیران کن ڈیزائن مگر مختلف جسامتیں، ہر پیس اک ماسٹر پیس. ہے نا چونکنے والی بات، جی یہ ہے جیلی فش. اک قاتل مخلوق، بہت سے جان لیوا ہتھیاروں سے لیس اور ہتھیار ایسے جو کسی اور جاندار کے پاس نہیں. اور وہ وقت دور نہیں جب سمندروں پر جیلی فش کی حکمرانی ہو گی. جیسا کہ انکی افزائش بلینز میں ہے. نارتھ امیریکہ ہو یا افریقہ، یورپ یا ایشیا یا پھر آسٹریلیا، ساحلی پٹیوں پر دن بدن اسکی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے. اور سمندر اس مخلوق سے بھرتے جارہے ہیں. صدیوں سے سمندر اپنی حدود تبدیل کرتے آئے ہیں مگر اس مخلوق میں اک خداداد صلاحیت کہ اس تبدیلی کو پہلے ہی جانچ لیتی ہے حتیٰ‌کہ کہ نہ اسکی ہڈیاں ہیں اور نہ ہی دل و دماغ.
آج تک یہ اک اسرار یا پہیلی ہی ہے کہ انکی صحیح تعداد کیا ہے، یہ کہاں سے آتیں ہیں، کہاں جاتیں ہیں، اقسام کتنی یا کونسی ہیں اور انکی افزائشِ نسل کیسے ہوتی ہے یا اسے روکا کیسے جا سکتا ہے. اک اندازہ ہے کہ جیلی فش کی تیس ہزار اقسام ہیں یا اس سے زیادہ. مگر یہ کوئی نہیں جان سکا کہ ان میں سے کونسی خطرناک، کونسی کم خطر یا کونسی بے ضرر ہیں. دکھنے میں سب ایک سی ہیں، انداز، وہی شکل و شباہت اور وہی شفاف مسل اور جلد. (شفاف ایسی کہ شیشے بلکہ کرسٹل کی طرح آر پار دیکھا جا سکے) شفاف جلد کی وجہ سے یہ مشکل سے ہی نظر آتیں ہیں. اتنی مشکلات کے باوجود سائنسدانوں نے ستر ایسے اقسام کو علٰحیدہ کر لیا ہے جو انسانوں کیلئے زیادہ خطرناک ہیں. ان میں سے ہی اک کو باکس جیلی کا نام دیا گیا. یہ ستر اقسام کیسے دریافت ہوئیں، اس سوال کا جواب کچھ یوں ہے کہ گزشتہ سو سال میں ستر افراد جیلی فش کے کاٹنے سے ہلاک ہوئے اور تقریباً تمام ہی اس لوگوں کے جسم سے چمٹی ہوئیں ملیں.
تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیلی فش مکمل شفاف ہے مگر اسکا خوردبین سے مشاھدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اسکی آنکھیں بھی ہیں. اور وہ بھی پوری چوبیس. جو اسکے پورے جسم کی چاروں اطراف ہیں، اور یہ تین سو ساٹھ ڈگری پہ دیکھ سکتیں ہیں. اب سوال یہ ہے کہ جو کچھ یہ دیکھتی ہے اسے پراسس کیسے کیا جاتا ہے، سمجھا کیسے جاتا ہے جبکہ دماغ تو ہے ہی نہیں تو اسکا جواب کسی کے پاس نہیں. تجربات سے پتا چلا کہ جیلی فش سفید رنگ کی رکاوٹ کو ٹکر مار جاتی ہے، کالے رنگ سے بچ کر گزرتی ہے جبکہ لال رنگ سے اتنا دور رہنے کی کوشش کرتی ہے جتنا دور وہ جا سکے.
جیلی فش کے جسم کے ساتھ لمبی لمبی جھالریں سی لگی ہوتیں ہیں اور ہر جھالر پر سپرنگ کی طرح کے لاکھوں ڈنگ ہوتے ہیں جو حملہ آور ہوتے وقت تن کر سیدھی سوئیاں بن جاتے ہیں. باریک اتنے کہ خوردبین کے بغیر دیکھنا ناممکن. جیلی فش صرف اک حملہ میں لاکھوں ڈنگ اپنے شکار کے جسم میں گھسا دیتی ہے جو کہ جان لیوا زہر سے بھرے ہوتے ہیں. شکار پہلے پیرالائز پھر چند منٹ میں موت.
کچھ زہریلے کیڑے مثلاً بچھو انسان کے نروس سسٹم کو خراب کرتا ہے، مکڑی جلد پر اثر کرتی ہے جبکہ سانپ کا زہر انسانی خون کے سرخ خلیوں کو ختم کرتا ہے. جب جیلی فش کے زہر کو انسانی خون میں ملایا گیا تو خوردبین پہ حیرت انگیز نتائج ظاہر ہوئے. یہ زہر نہ صرف ان تینوں سسٹمز (نروس، جلد، خون) پر بیک وقت اثر انداز ہوتا ہے بلکہ انسانی خون کے سرخ خلیے اس سے پھٹ جاتے ہیں.
زمین اور سمندر دو مختلف دنیائیں ہیں اسی لحاظ سے منقسم بھی ہیں، اک ہماری، اک انکی. ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان صدیوں سے قدرت کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹانے پہ کمر بستہ ہے، حالیہ ادوار میں کچھ ابتدائی کامیابی بھی نصیب ہوئی مگر ابھی لاکھوں راز انسانی سوچ سے بھی باہر ہیں. لاکھوں ایسی ہی مخلوقات کا ان گہرے پانیوں میں بسیرا ہے جہاں آج تک کوئی انسان پہنچ سکا نہ کوئی مشین. بس اندازے یا قیاس آرائیاں ہی ہیں. “بے شک، الله سبحان وتعالٰی ہر شے پہ قادر ہے”.
آجکی محفل کے اختتام کی طرف قدم بڑھاتے ہیں. جلد ہی انشاءاللہ زندگی کے اسی صد راہے پہ دوبارہ ملاقات ہو گی. تب تک کیلئے اجازت. اللہ حافظ.

تحریر:‌خالد شاہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں