پرندوں کی دنیا کا ستارہ ۔۔۔۔ ہامنگ برڈ

قارئین کیلئے ہم ایک گوشہ کائنات کے رنگ کے نام سے شروع کرنے جا رہے ہیں جس میں ہم مختلف قسم کے جانوروں اور پرندوں کی عادات و رہن سہن کے طریقوں کیساتھ ساتھ فنِ تعمیر کے نادر نمونوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش بھی کریں گے.
اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تحریر معیاری اور بامقصد ہو جس کو مختلف مکاتب فکر کے قارئین پڑھتے ہوئے بوریت محسوس نہ کریں بلکہ ان کے ذوق کی تسکین ہوسکے۔ آجکی محفل اک چھوٹے سے پرندے سے شروع کرتے ہیں جسے ھامنگ پرڈ کہا جاتا ہے. جنوبی امریکہ میں غیتر عام قسم کے کئی جانور اور پرندے پائے جاتے ہیں، اور اتنے عجیب ہیں کہ زمان انسانی آنکھ سے مخفی رہے. انہی میں اک رنگین، چمکدار پرندہ بھی ہے جسے ھامنگ برڈ کہتے ہیں. انکو پرندوں کی دنیا کا ستارہ بھی کہا جاتا ہے. ان منفرد پرندوں بارے جانتے ہوئے سب سے پہلے جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ یہ اتنے چھوٹے ہیں جتنا آپکے ہاتھ کا انگوٹھا یا شاید اس سے بھی چھوٹے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ موس دھار بارش میں رہتے ہوئے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اڑتے ہوئے اک دھبہ محسوس ہوتے ہیں. اگر اک سیکنڈ کو پچاس حصوں میں تقسیم کیا جائے تو انکے پروں کی حرکت کو محسوس کیا جاسکتا ہے وگرنہ انسانی آنکھ انکے پروں کی تیز رفتاری کی وجہ سے یہ حرکت دیکھنے سے قاصر ہے. انکی خوارک پھولوں کا رس ہے اور یہ پھولوں پہ گردش کرتے نظر آتے ہیں. اگر کہا جائے کہ اڑ نہیں بلکہ تیر رہے ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا.
سائنس کی تحقیق کی مطابق آج سے پچاس ملین سال پہلے انکا وجود ملتا ہے. نظام قدرت کے مطابق پھولوں کو نشونما اور بود و باش کیلئے پولنز کی ضرورت ہوتی یے اور یہ پولنز اک پھول سے دوسرے پھول پر تتلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔مگر سردیوں میں کہر و دھند کی وجہ سے تتلیاں اڑنے سے قاصر ہوتیں ہیں اور کیڑے مکوڑے اپنے ٹھنڈے خون کی وجہ سے اک جگہ سے دوسری جگہ تک حرکت نہیں کر سکتے. اب ایسی صورتحال میں یہ دونوں قاصد قابل بھروسہ نہیں رہے. اس قسم کے موسم اور ماحول کیلئے بہت جاندار قسم کے پرندوں کی ضرورت ہوتی ہے جو پولنز کی ترسیل میں مدد دے سکیں. تحقیق کے مطابق اس قسم کے کہر ذدہ اور سرد علاقوں میں پچاس ملین سال قبل ھامنگ برڈ کا ظہور ہوا. اور قدرت نے اسے ایسی صلاحیت سے نوازا کہ اس موسم میں بخوبی انجام دے سکے. جیسا کہ پھولوں پر مضر کیڑوں کا شکار کرنا، پنکھڑیوں سے پولنز لینا اور دوسرے پھولوں پر اسے منتقل کرنا. یہ پھولوں اور ان پرندوں کے رشتہ کی ابتدا تھی. اس پرندے کو خصوصیت ہے کہ یہ پھول یہ بیٹھتا نہیں بلکہ پھول کے سامنے ہوا میں ایسے معلق ہو جاتا ہے جیسا کہ اڑ نہیں بلکہ تیر رہا ہو، پھر اپنی لمبی چونچ اور اس سے بھی زیادہ لمبی زبان پھول میں داخل کر کے اسکا رس چوسنا شروع کر دیتا ہے. اور اس طرح اپنی توانائی بحال کرتا ہے جو دوسرے ٹھنڈے خون والے کیڑوں کو ہٹا کر اسے سونپی گئی. یہ اپنے وزن سے زیادہ وزن کا رس اک دن میں چوس لیتے ہیں. انکے اڑنے کا منفرد انداز اور انکی جسامت ان کو دوسرے پرندوں سے ممتاز بناتا ہے. دنیا میں دوسری کوئی ایسی نسل نہیں جو ھامنگ برڈ کی طرح نہ صرف اڑ سکے بلکہ یوا میں معلق بھی ہو. انکے پر ہوا میں دونوں رخ پہ کام کرتے ہیں یعنی اوپر سے نیچے آتے اور بیچے سے اوپر جاتے. ھامنگ برڈ نہ صرف اپنے جسم کے چاروں اطراف اڑ سکتے ہیں بلکہ اک جگہ پر تین سو ساٹھ ڈگری میں گھوم بھی سکتے ہیں. اڑتے وقت انکا دل بارہ دفعہ اک منٹ میں دھڑک رہا ہوتا ہے اور چار سو بار جب یہ بیٹھے ہوتے ہیں. اڑتے وقت پروں کو زیادہ آکسیجن ملے خون کی ضرورت ہوتی ہے تو نہ صرف دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے بلکہ دل کا حجم بھی. یہ پرندے دن کا اسی فیصد حصہ بیٹھ کے آرام کرتے ہیں اور باقی کے وقت میں تقریباً ہر پندرہ منٹ میں پھولوں پر چکر لگاتے ہیں. اک حیران کن بات یہ بھی ہے کہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں پھولوں میں سے وہ پھول انکو یاد ہوتے ہیں جنکا رس یہ چوس چکے ہوں. حتاکہ سب پھولوں کا رنگ ایک سا ہی کیوں نہ ہو.
انکی زندگی کا سب سے کھٹن مرحلہ جب انکے نوزائیدہ بچے گھونسلے میں موجود ہوں. اس وقت ہر پندرہ منٹ میں ان بچوں کو رس کی ضرورت ہوتی ہے. اب دن کی روشنی میں تو یہ ممکن ہے مگر رات کے اندھیرے میں انکے لئے یہ زندگی اور موت کا کھیل ہوتا ہے. کہ کسی طرح اپنے بچوں کو زندہ رکھا جا سکے. رات کی سردی میں ان کے دل کی دھڑکن بارہ سو سے کم ہو کر چار سو چالیس پہ آ جاتی ہے اور بیٹھے ہوئے چار سو سے کم ہو کر صرف سو رہ جاتی ہے. مگر دوسری صبح صرف آدھے گھنٹے میں یہ دوبارہ اپنے انداز میں واپس آ جاتے ہیں۔ ان پرندوں میں بھی مختلف نسلیں ہیں. کہیں تو چھوٹی چانچ والے ملیں گے تو کہیں انکے جسم سے بھی لمبی چونچ والے. اور زبان اسی مناسبت سے مزید لمبی.
قدرت کے شاہکاروں میں اک شاہکار “ھامنگ برڈ” اپنے ڈیڑھ سے دو گرام وزن کیساتھ اک سیکنڈ میں پچاس مرتبہ اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے اک سیکنڈ میں پندرہ میٹر فاصلہ طے کر جاتے ہیں. اس تناسب سے انکی اڑنے کی رفتار تقریباً پچپن کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔
کائنات کے رنگوں سے آگاہی کے لیے ہمارے ساتھ رہئیے. آئندہ شمارہ میں نئے موضوع کیساتھ محفل سجے گی. تب تک کیلئے اجازت۔

تحریر: خالد شاہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں