پریکٹیکل فورم پر ہمارے چیئرمین کا تھیوری سے مقابلہ – الیاس بابر محمد

عام طور پر ہم سنتے اور پڑتے آئے ہیں کہ قوموں کی عالمی برادری میں ترقی کا واحد راستہ تعلیم اور بالخصوص سائنسی و صنعتی علوم پر دسترس حاصل کرنا ہے – ہنر مند افرادی قوت کسی بھی قوم کی بقاء و سلامتی اور استحکام و ترقی کی ضامن ہوتی ہے لہذا نوجوانوں کو جدید فنی و سائینسی علوم سے بہرہ ور ہونا چاہیئے –

وطن عزیز میں بھی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنے کے لیئے ایچ ای سی ویژن 2025 کے تحت ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے اور ملک بھر کے تمام اضلاع میں الحاق شدہ ڈیڑھ سو کمیونٹی کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے – یہ فیصلہ کب قابل عمل ہو گا اس پر کچھ کہنا لفظوں کا ضیاں ہی ہے کیونکہ ہم نے فیصلہ ہی ابھی کیا ہے تو عمل در آمد پر اگلے پچاس لگنے یقینی ہیں – باقی وطن عزیز میں ہنر مند افراد کی قدر کا اندازہ تو ہر صبح چوک چوراہوں پر روزی کی انتظار میں بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر خوب ہوتی ہی ہے –

دنیا سے مقابلے میں ہم پیچھے تو خیر ہیں ہی لیکن شدید افسوس اس وقت ہوا جب ١٥ اکتوبر سے ١٨ اکتوبر ٢٠١٧ تک متحدہ عرب امارات کے دارلحکومت ابو ظہبی میں ہونے والی World Skills Abu Dhabi 44 نامی ہنر مندی کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی ہنر مند افراد کا شامل نہ ہونا تھا – ٧٧ ممبر ممالک میں سے ٥٩ ممالک کے ہنر مند افراد کی ٹیموں کے ١٣ سو سے زیادہ افراد نے ٥١ قسم کے مختلف ہنر مندی کے مقابلوں میں حصہ لیا – کسی بھی پاکستانی کی طرح میرا دکھ بھی اس وقت احساس کمتری میں بدلا جب دشمن ہمسائے ہندوستان کی ٣١ رکنی ٹیم کو آئی سی سی ون کی لابی میں ” جے بھارت ماتا کی ” کا نعرہ لگا کر اپنے مقابلے شروع کرتے دیکھا –

شریک ممالک میں بڑے اور ترقی یافتہ چین و جاپان ممالک کے علاوہ مکاؤ ، بحرین اور ایران جیسے ممالک کی ٹیمیں بھی مقابلوں میں شریک تھیں ، اسکے علاوہ پانی کے قحط کے شکار افریقی ملک نمیبیا کی ٹیم بھی شریک تھی -پوری دنیا سے لگ بھگ ایک لاکھ لوگوں نے ان مقابلوں کو ویزٹ کیا ، سامنسنگ ، سٹانلے ، بلیک اینڈ ڈیکر ، ڈی ایم جی مورے اور مرسڈیز جیسی بڑی کمپنیاں ان مقابلوں کو سپانسر کر رہی تھیں – متحدہ عرب امارات میں اس فورم پر ان مقابلوں کے انقعاد کی بنیادی وجہ اماراتی نوجوانوں میں ٹیکنیکل شعبوں میں کام کرنے کے شوق اور شعور کو اجاگر کرنا تھا –

وی آئی پی لسٹ دیکھ کر پتا چلا کہ پاکستان سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹرینگ کمیشن کے چیئرمین جناب ذوالفقار چیمہ اور مس عائشہ نقوی بھی مدعو ہیں مگر حکومت پاکستان کو پورے ملک سے مقابلوں میں بھیجنے کے لیئے کوئی ” ڈینتر ، مکینک ، موچی ، رنگساز ، نان بائی ، بیکر ، نائی ، باورچی ، خانساماں ، مستری ، ٹائل فکسر ، کارپنٹر ، سنگتراش ، خطاط ، چھبکے والے ، کپڑا بننے والے ، ویلڈر ، الیکٹریشن ، درزی ، خرادیئے ، مالی اور پرنٹنگ کاریگر ” وغیرہ کی ایک ٹیم نہیں مل سکی جو ان وی آئی پیز کے ساتھ مقابلوں میں بھیجی جاتی –

جناب ذوالفقار چیمہ صاحب تشریف لائے ہیں یہ ہی سن کا ایک سیر خون بڑھ گیا تھا کہ چلو ٹیم نہ سہی دنیا سے مقابلے کے لیئے ٹیم کا اکیلا چیئرمین ہی کافی ہے ، چیمہ صاحب آپکی تشریف آوری کا شکریہ جس سے میرے جیسے عام آدمی کو بھی اپنی موجودگی کا احساس ہوا کہ ہم ہیں ، مگر کہاں ہیں ؟ یہ ابھی تک کھوج رہا ہوں –

آپکا آنا اور بہت اچھی تقریر کرنا بہت اچھی بات تھی مگر میرا بحثیت ایک عام پاکستانی کے آپ سے سوال ہے کہ ٧٧ ممبر ممالک میں آپکی ممبر شپ اور ٥٩ شریک ممالک کی ٹیموں میں پاکستان کی ٹیم کیوں نہیں تھی ؟ کیا یہ صرف ایک تقریری مقابلہ تھا جہاں آپ نے یہ بتایا ” کہ پاکستان کی چمڑے اور کھیلوں کے سامان کی صنعتیں ترقی کر رہی ہیں اور ہم تھیوری سے زیادہ پریکٹیکل پر توجہ دے رہے ہیں ” متعلقہ پریکٹیکل فورم پر بذات خود ایک تھیوری نہیں تھی ؟

میں جانتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کے ہنر مند افراد ابھی تک نائی ، موچی ، مستری ، جولاہے ، تندورچی ، ترکھان اور درزی سے یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی طرح ترقی کرتے ہوئے انگریزی والے professional ، expert ، skilled لوگ نہیں بن سکے مگر آپ انھیں ایک چانس تو دے کر دیکھتے شاید اب کے یہ ممکن ہو ہی جاتا کہ وہ بھی اپنے لیئے لفظوں کے ساتھ ساتھ ملک کی قسمت بھی بدلنے میں آپ وی آئی پییز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں