چھ ستمبر کے چند حیرت انگیز واقعات

وطن وہ سہ حرفی لفظ ہے جس سے ایک پوری قوم جنم لیتی ہے، پروان چڑھتی ہے اور وفاداری بشرطِ استواری کی تصدیق کرتے ہوئے اسی مٹی کا حصہ بن جاتی ہے۔ 1965 کی مختصر جنگ پاکستانی تاریخ میں ایک طلسماتی داستان سے کہیں زیادہ کا درجہ رکھتی ہے جب ایک قوم نے اچانک ہونے والے حملے کو اپنے عزم و ہمت سے ناکام بناکر دشمن کو عبرتناک شکست دی۔

سپاہیوں نے شجاعت و جرأت کی نئی داستانیں رقم کیں تو شاعروں نے لہو گرمادینے والا کلام لکھا، عام افراد کا حوصلہ ساتویں آسمان پر اس وقت دیکھا گیا جب 80 سال کا ایک عام بوڑھا گھر سے خندق کھودنے نکلا۔ مائیں اور بہنیں مصلے پر بیٹھ کر دعا گو رہیں اور پوری قوم یک جان و یک قالب ہوگئی۔ اور اس عظیم جذبے کا اظہار کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آج کی نوجوان نسل بھی ایسے ہی چند اہم واقعات سے اپنے دلوں کو گرما سکتی ہے جو نہ صرف دفاعِ پاکستان بلکہ استحکامِ پاکستان کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

پہلی گولی اور پہلا شہید

مصنف ایم آر شاہد نے اپنی کتاب ’’شہیدانِ وطن‘‘ میں بہت تحقیق کے بعد پاکستانی شہداء کا احوال پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 6 ستمبر کی صبح ٹھیک 3 بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آکر گرا جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلاٹون کمانڈر محمد شیراز چوکنا ہوگئے اور پوسٹ پر بھارت کی جانب سے مزید فائرنگ شروع ہوگئی۔

محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہوگئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آکر دستی بم بھی پھینکنے شروع کردیے۔ اگرچہ یہ حملہ اچانک تھا لیکن پاکستانی سپاہیوں نے اس کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔ جب پاکستانی دستی بموں کی ضرورت پڑتی تو سپاہی رینگ کر کمک کے پاس آتے اور رینگ کر آگے موجود سپاہیوں کو بم تھماتے تھے۔ اسی اثناء میں محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہوکر جنگِ ستمبر کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کرگئے۔

چوَنڈہ کا یادگار محاذ

6 ستمبر کی جنگ میں تاریخی چوَنڈہ کا محاذ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ میدانِ جنگ ہے جہاں برصغیر کی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی جو 8 روز تک جاری رہی۔ اس معرکے میں 500 سے زائد ٹینک استعمال ہوئے جس میں بھارتی عددی برتری کے نشے میں تھا جسے پاکستانی سپاہیوں اورعوام نے ٹینکوں کے سب سے بڑے قبرستان میں تبدیل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن نے چھ ماؤنٹین ڈویژن، 14انفنٹری ڈویژن اور کئی انفنٹری بریگیڈز کی مدد سے تین کالم کی فارمیشن بناتے ہوئے چار واہ، باجرہ گڑھی اور نخنال سے پاک سرزمین پرحملہ کردیا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک فوج کے چند ہزار افواج اس محاذ پر ڈٹ گئے۔ پہلے لگ بھگ 325 ٹینک تھے لیکن جب مزاحمت ہوئی تو بھارتی کمانڈر پی کے دَوَن مزید فوجی اور ٹینک منگوالیے۔ یہاں پاکستان نے ’آخری سپاہی اور آخری فوجی‘ تک مقابلے کا عزم کیا اور اسی پر عمل کیا۔

گڈگور سے آگے پھلورہ کے مقام پر پاک فوج اور بھارتی فوج کے درمیان شدید معرکہ ہوا۔ اس موقع پر کرنل عبدالرحمان نے اپنی جان قربان کردی اور ستارۂ جرأت حاصل کیا۔ لیکن پھلورہ بھارتی فوج کے ہاتھوں میں آگیا اور اب انہوں نے چوَنڈہ کی طرف پیش قدمی شروع کردی اور پھلورہ بھارتی فوج کا کمان ہیڈ کوارٹر بنا۔ یہاں بریگیڈیئرعلی نے اپنی تین رجمنٹوں اور تین بہادر کمانڈروں کے ساتھ چوَنڈہ کا دفاع کیا۔ مغربی اور مشرقی محاذ پر بھی پاک فوج نے بھارتی عسکری مشینری کو مکمل طور پر ناکام بنادیا۔ اس محاذ پر پاک فوج کی نفری اور اسلحہ دشمن سے کئی گنا کم تھا۔

ساتھی کو بچاتے ہوئے شہادت

جنگِ ستمبر میں معرکہ چھمب جوڑیاں میں عزم و ہمت کی ایک اور داستان ملتی ہے۔ ان میں ایک نام غلام مہدی خان شہید کا ہے۔ آپ نے نہایت بہادری، ہمت اور جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے ایک ساتھی کو بچاتے ہوئے اس ملک وقوم کے لیے اپنے خون کا چراغ جلاگئے۔

وہ لارنس دفعدار کے عہدے پر باسکٹ بال کے کھلاڑی تھے اور جنگ چھڑتے وقت اپنے گھر میں موجود تھے۔ جنگ کی اطلاع پاتے ہی وہ فوراً اپنے آبائی گھر تلہ گنگ چکوال سے اپنے یونٹ پہنچے لیکن وہاں بتایا گیا کہ آپ کھلاڑی ہیں اور محاذ کے بجائے آپ کو انتظامی امور سونپے جائیں گے۔ لیکن ان کے نصیب میں شہادت لکھی تھی اور انہوں نے بہت اصرار کیا کہ انہیں جنگ کے میدان کی جانب بھیجا جائے۔ ان کی جذبے اورضد پر انہیں چھمب جوڑیاں سیکٹر بھیج دیا گیا۔

اب غلام مہدی خان شہید خوشی خوشی میدانِ کارزار کی جانب بڑھے۔ اس سیکٹر میں گھمسان کی لڑائی جاری تھی؛ فی منٹ درجنوں گولے اور گولیاں ان کا لہو چاٹنے کے لیے ان کی سمت آرہے تھے۔ وہ ٹینک پر سوار آگے بڑھے تو ایک اینٹی ٹینک گولہ ان کے ٹینک پر لگا جس سے چین ٹوٹ گئی اور ٹینک ساکت ہوگیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اوٹ میں ہو گئے جب کہ ان کا ایک ساتھی ٹینک سے اترتے ہی شدید زخمی ہو گیا ۔ غلام مہد ی خان اپنے اس زخمی سپاہی کو یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، چنانچہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھے، برستی گولیوں میں اس کے پاس پہنچے اور اسے سہارا دے کر تیزی کے ساتھ اپنے مورچے کی جانب پلٹے اور اسے محفوظ جگہ پر پہنچایا ۔ اسی اثنا میں ایک سنسناتی گولی آئی جوانہیں شدید زخمی کر گئی جس کے نتیجے میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

ہر شخص ذمے دار، شہری بھی مجاہد

معرکہ ستمبر میں ہر شخص نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا خواہ وہ فوجی افسر تھا یا کوئی عام شہری۔ ہمارے عہد کے ممتاز ادیب مختار مسعود نے اپنی کتاب لوحِ ایام میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔

’’مجھے 6 ستمبر 1965 کی دوپہر لاہور میں حکومت مغربی پاکستان کے محکمہ مالیات میں ہونے والا ایک اجلاس یاد آیا۔ ہندوستان کو کسی اعلانِ جنگ کے بغیر پاکستان پر حملہ کئے ہوئے چھ گھنٹے ہوچکے تھے۔ صوبائی حکومت کے پاس مقامی فوج، بارڈرپولیس، سول ڈیفنس، ریڈکراس اور کئی دوسرے اداروں سے کچھ ایسے مطالبات زر آئے جو صوبائی دائرہ کار سے باہر تھے یا ان کے لیے کابینہ اور گورنر کی منظوری درکار تھی۔ گورنر سوا دوسومیل دور نتھیا گلی میں تھے۔ وزیرِ خزانہ 180 میل کے فاصلے پر راولپنڈی میں تھے۔ دشمن واہگہ پر کوئی بارہ تیرہ میل کے فاصلے پر تھا جس کی افواج کا سربراہ شراب سرِ عام لاہور جیمخانہ کلب میں پینا چاہتا تھا۔

اندریں حالات ہمیں ضابطہ کار کے بارے میں فیصلہ کرنے میں صرف پانچ منٹ لگے۔ اصولی طور پر یہ طے ہوگیا کہ فیصلہ کن لمحہ کے وقت جو کوئی جہاں کہیں بھی ہے وہی وہاں کے لیے سب کچھ ہے۔ سپاہی اگر محاذ پر تنہا ہے تو وہ اس لمحہ کے لیے سپہ سالار بھی ہے۔ سیکشن افسر اکیلا ہے تو وہی گورنر ہے۔ اس سے بڑا افسر تو وہ بذاتِ خود حکومتِ پاکستان ہے۔ اسی اصول کے تحت ہم نے گورنر مغربی پاکستان کے لاہور واپس آنے تک چند گھنٹوں میں 6 کروڑ روپیہ جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر خرچ کردیا۔ رولز آف بزنس اور آئین کو بھلادیا گیا۔ صرف آئینِ جنگ پر نظر رکھی۔

طریقِ کار یہ تھا کہ محکمانہ تجویز کے تحریری ڈرافٹ بنانے، درست کرنے، ٹائپ کرنے، دستخط کرانے، ڈائری پر چڑھانے اور محکمہ مالیات میں بھیجنے کی بجائے متعلقہ محکمہ کے دو ذمہ دار افسر محکمہ مالیات میں آکر زبانی مدعا بیان کرتے۔ تجویز پر باہم غور ہوتا۔ دو سطری فیصلہ پر سب دستخط کرتے اور وہیں بیٹھے ہوئے جناب سبزواری اکاؤنٹنٹ جنرل مغربی پاکستان ایک چیک بناکر محکمہ سے آنے والے افسروں کے حوالےکردیتے۔ پختہ مورچوں کے لیے سیمنٹ اور سریا اور عارضی مورچوں کے لیے ریت کی بوریاں اور کدال خریدنے کی زبانی تجویز موصول ہونے اور چیک جاری کرنے میں کل 15 منٹ لگے تھے۔ وہ جنگ بھی کیا جنگ تھی۔ ہرفرد ایک فوج تھا، ہر ذرہ خاک ایک مورچہ تھا، بی آربی کا نہر کا ہر قطرہ ایک سمندر تھا۔‘ (بحوالہ: لوحِ ایام، مختار مسعود)

نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے واحد شہید، میجر عزیز بھٹی

میجر عزیز بھٹی اپنے جانثاروں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے، جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ 7 ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110 سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12 ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے۔

آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں واپس لانا ضروری تھا۔ اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کرکے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شیل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کردیا اور وہ صرف 42 سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔

یونس حسن خان شہید

1965 کے ایک اور ہیرو یونس خان شہید کا نام سنہرے حروف میں زندہ رہے گا۔ انہوں نے پٹھان کوٹ بھارت کے فضائی اڈے پر حملہ کیا اور اپنی مہارت سے بھارتی فضائیہ کے 15 طیارے تباہ کردیے جن میں کینبرا اور دوسرے طیارے شامل تھے۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ جب بھارتی حدود میں داخل ہوئے تو ان کے طیارے پر بھارتی طیاروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی اور طیارے کو نقصان پہنچا لیکن کچھ حوالہ جات کہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی علاقے پٹھان کوٹ کے پاس فضائی اڈے پر موجود پاکستان پر حملے کے لیے کھڑے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکرادیا جس میں بھارت کے 15 طیارے جل کر راکھ ہوگئے اوردشمن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

سینے پر گولی کھانے کا عزم

1965 کی ولولہ انگیز جنگ میں زخمی فوجیوں کے علاج پر معمور بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) نصرت جہاں سلیم نے آئی ایس پی آر کے شمارے میں لکھا ہے کہ جنگ کے دوسرے روز ایک لمبا تڑنگا فوجی اسٹریچر پر لایا گیا جو اپنی نحیف آواز میں بڑبڑا رہا تھا کہ اس نے ماں سے سینے پر گولی کھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خود ڈاکٹر یہ جاننے سے قاصر تھے کہ اسے گولی کہاں لگی ہے۔ اس کی سانس اکھڑ رہی تھی اور بلڈ پریشر گرتا جارہا تھا۔ جب ٹانگ کا زخم کھولا گیا تو وہاں سے گولی کا ایک سوراخ جلد کو چیرتا ہوا پیٹ کی جانب جاتا معلوم ہوا۔ پھر یکایک معلوم ہوا کہ گولی اس کی خواہش کے مطابق عین اس کے سینے پر لگی ہے۔ اس تصدیق کے بعد اس فوجی نے آخری سانس لیا اور شہید ہوگیا۔

نصرت جہاں کے مطابق جب خون کے عطیات کی اپیل کی گئی تو ایک شہر اُمڈ آیا اور سب کی خواہش تھی کہ فوجیوں کو اسی کا خون لگایا جائے۔ خون کی اشد ضرورت تھی کیونکہ گہرے زخم اہم رگوں کو مجروح کررہے تھے اور زخمیوں کی لگاتار آمد سے اسپتال کا پورا فرش لہو کی سرخ چادر میں چُھپ گیا تھا۔ ان کے مطابق زخموں سے چور ہوکر شہید ہونے والے اکثر فوجی آخری دم تک پرسکون رہے۔ وہ اللہ سے مدد مانگتے اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے تھے.

تحریر:سہیل یوسف

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں