کرسٹوفر کولمبس۔۔۔۔۔جہاز رانوں کا بادشاہ

کرسٹوفر کولمبس ایک بحری مہم جو تھا جس نے 15 ویں صدی میں امریکہ کو دریافت کیا۔ وہ 1451ء میں جنوا اٹلی میں پیدا ہوا۔ سپین کے قشتالوی عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا۔ ملکہ ازابیلا اور فرڈینینڈ نے اسے چھوٹے جہاز دئیے جن سے اس نے 1492ء میں امریکہ دریافت کیا۔ کولمبس کی اس دریافت نے دریافتوں، مہم جوئی اور نوآبادیوں کا ایک نیا سلسلہ کھولا اور تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔
چودہ سال کی عمر میں بحری زندگی کا آغاز کیا اور بحیرہ روم، ازورس اور شمالی سمندروں کا سفر کیا۔ 1474 میں اس نے مغرب کی طرف سفر کرکے ہندوستان پہنچنے کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لیے یورپ کے بعض شاہی درباروں سے مالی امداد کا طالب ہوا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ آخر 1496ء میں ہسپانیہ کے بادشاہ فرڈننڈ اور اس کی ملکہ ازابیلا اس کی مدد پر آمادہ ہوگئے اور وہ اسی سال 3 اگست کو ہیولوا کے مقام سے روانہ ہوگیا۔ سانتا میریا اس کا اپنا جہاز تھا اور اس کے ساتھ نینا اور نپٹا دو اور چھوٹے چھوٹے جہاز بھی تھے۔جزائر کینیری میں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد یہ لوگ 6 ستمبر کو مغرب کی طرف روانہ ہوئے اور 12 اکتوبر کو انہیں جزائر بہاما کا مقام سان سا لویڈور نظر آیا۔ کولمبس نے اتر کر فرڈی نینڈ اور ازابیلا کے نام سے ان جزائر پر قبضہ کرلیا اور تاریخ کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ ان مہموں میں کولمبس نے بڑی دولت فراہم کی اور بڑا نام پیدا کیا۔ آخری سفر کے دو سال بعد 20 مئ 1506 کو ویلاڈولڈ کے مقام پر اس کا انتقال ہوگیا۔

کولمبس کو دفنانے کے حوالے سے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں۔کرسٹوفر کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ اس کو امریکہ میں دفن کیا جائے۔ لیکن 1506 میں امریکہ میں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھا اس لیے اس کو ابتدائی طور پر سپین کے شہر میں دفنایا گیا۔ بعد میں سیول کے مقام پر دفنایا گیا۔ سنہ 1542 میں اس کی لاش کو نکالا گیا اور سینٹو ڈومنگو (جو آج کل ڈومینکن ریپبلک ہے) میں دفنایا گیا۔ سترہویں صدی کے آخر میں سپین کے کچھ حصے پر بشمول سینٹو ڈومنگو پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ کرسٹوفر کی لاش کو نکال کر کیوبا لایا گیا۔ جب کیوبا نے آزادی حاصل کی تو اس کی لاش کو 1898 میں سیوِل کے کتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ ۔ تاہم ڈومینکن ریپبلک میں کولمبس کی باقیات ایک بکس میں ہیں۔ جس میں اس کی ہڈیاں ہیں جن پر لکھا ہے ’کرسٹوفر کولمبس‘۔ سائنسدانوں نے سیوِل میں جو لاش دفن کی گئی ہے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو معلوم چلا ہے کہ وہ کولمبس کے بھائی ڈی ایگو کی ہے۔ دوسری جانب ڈومینکن ریپبلک میں لاش کا ڈی این اے کبھی نہیں لیا گیا۔
امریکہ اور یورپ میں آج بھی کولمبس کی یاد میں مجسمے آویزاں ہیں۔ اور امریکہ میں یورپین کی آمد والے دن کو یاد گار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کولمبس کو بطور ہیرو اس پر خوب مقالے لکھے جاتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں