کلبھوشن اور موجودہ صورتحال

جب سے موذی مودی بر سر اقتدار آیا ہے بھارت نے پاکستان کیخلاف مکروہ سازشیں تیز تر کردی ہیں اپنے ہاں مسلمانوں کا جینا دو بھر کردیا ہے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف ھیلے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں راء اپنے پاکستانی ایجنٹوں ،قادیانیوں وغیرہ کے ذریعے فرقہ واریت کا زہر بورہا ہے جب کہ دوسری طرف ہمارے بزنس مین حکمران اپنے کاروباری مفاد کے باعث ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں زمیں جنبدآسمان جنبدنہ جنبد گل محمد والا طریقہ اختیار کر رکھا ہے کلبھوشن کو عالمی عدالت انصاف سے حکم امتناعی مل جانا حکومت کے کمزور موقف کا منہ بولتا ثبوت ہے چند روز قبل بھارت کے آئرن ٹرائیکون جندال کا خصوصی دورہ بھی سارے معاملے کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر گیا ہے اس کا صرف وزٹ ویزا راولپنڈی تک محدود تھا وہ کونسا خفیہ ہاتھ تھا جس کے ذریعے وہ مری پہنچ گیا اور وہاں وزیر اعظم پاکستان سے کئی گھنٹے ملاقات کرڈالی اسے کئی طیاروں کے ذریعے ہوائی اور درجنوں گاڑیوں کے ذریعے زمینی تحفظ دے کر مری پہنچایا گیا۔شریف خاندان کے گھریلو فنکشن میں بغیر کسی پاسپورٹ اور ویزہ کے سینکڑوں ہندوبمعہ موذی مودی کے لاہور میں آبراجمان ہوئے تھے۔گھنٹوں یہاں قیام کیا۔ موذی کے ساتھ آئے ہوئے اس کے حواری اور محافظ رائیونڈ ی محلات میں ایسے گھوم پھر رہے تھے جیسے انکی خالہ کا گھر ہو۔ہمارے دین کے اصول و ضوابط تک روند ڈالے گئے۔بے پردگی کا عالم رہا حتیٰ کہ ہمارے وزیر اعظم کی والدہ تک کو مودی سے ملاقات کروائی گئی اور پاکستانی غیرت کا جنازہ نکال ڈالا۔ہماری پاک دھرتی پرمنحوس پلیدپاکستان واسلام دشمن ہندو بنیے گھنٹوں گھوم پھر کر واپس اڑ گئے۔افواج پاکستان اور ہماری سیکورٹی فورسز سے اس بابت بیعنہہ ان کے مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے کی طرح قطعاً مشورہ تک نہ کیا گیا۔دونوں دفعہ کسی ذمہ دار ادارہ کو کانوں کان تک خبر نہ ہونے دی اب بھارتی راء کے ایجنٹ کو جس طرح سیکورٹی فورسز نے پکڑا اور فوجی عدالت نے موت کی سزا سنادی۔تو اس پر فوری عملدر آمد کیاجاناچاہیے تھا۔
مگر اس کے بعدحکمرانوں نے اس کی بین الاقوامی عدالت میں اس طرح پیروی نہیں کی جو کہ ان کا حق اور فرض تھا وہاں ہمیں 90منٹ دیے گئے مگر ہماری دلیلیں صرف 50منٹ تک جاری رہ سکیں صحیح طور پر مقدمہ لڑا جاتا تو اتنے بڑے ملزم کو وہاں سے رعایت ملنا قطعاً ممکن ہی نہ تھا۔ہر چوک گلی کے موڑ پرقوم دہائیاں دے رہی ہے کہ جندال مری آیا مودی کا پیغام اس نے جودیا وہ کلبھوشن کے ساتھ رعائیتیں دینے کا ہی تھا اور ایسا ہی بین الاقوامی عدالت انصاف میں ہمارا رویہ رہا۔اگر ہمارا کوئی معمولی جاسوس بھی پکڑا جاتا تو بھارت قطعاً معاف نہ کرتا۔اس نے دنیا بھر میں شور مچا ڈالنا تھا۔وہ کسی اعلیٰ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی نہ کرتے ۔ مگر ہماری وزارت خارجہ سنپولیے کو چھپا چھپا کر دودھ پلارہی ہے حتیٰ کہ ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ میں بھی اس بابت ایک لفظ بھی نہ بولے جس سے ان کی حب الوطنی کا بھانڈابھی چوراہے میں پھوٹ گیا ہے ملزم کو ساری ڈھیل ہمارے حکمرانوں کی موذی مودی سے دوستیوں کے ناطے ہی ممکن ہو سکی ہے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران جندال کی طرف سے مودی کے پیغام کے بعدپاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے خون کی ندی بہانے والے کلبھوشن کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم اقوام متحدہ میں اس کا ذکر تک نہ کرسکے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس ملک دشمن شخص کے پکڑے جانے کے بعد موثر پراپیگنڈا نہ کر سکے کہ بھارت کس طرح راء و دیگر ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردیاں کروارہا ہے۔جندال نے پاکستان پہنچ کر جس طرح کلبھوشن کو بچا لیا اس سے ہمارے حکمرانوں کی ملک سے وفاداری صاف دکھائی دے رہی ہے ایک معمولی دوکاندار کو بھی اپنے کاروبار کا فکر ہوتا ہے اوریہ تو ٹھہرے بڑے صنتعکار جن کے نونہال فرزند پوری دنیا میں صنعتوں فلیٹوں کا جال بچھائے ہوئے ہیں ۔نواز شریف صاحب مودی کی حلف برادری کی تقریب میں جب گئے تھے انہوں نے اس وقت بھی اپنے عزیز و اقارب کی جندال سے خصوصی ملاقات کروائی تھی پاکستان کے ازلی دشمن بھار ت کے ساتھ ایسے لین دین پاکستانیوں کی غیرت و حمیت کا جنازہ نکال ڈالنے کے مترادف تھی ایسے دورہ پر افواج پاکستان کے تحفظات تھے کہ بھارت کس طر ح کشمیر میں خون کی ندیاں بہا اور ہمارے خلاف سازشیں کررہا ہے ایسے حالات میں بھارت سے میل جول اور اس کے انتہا پسند لیڈر مودی یا اس کے کسی بھیجے ہوئے ایجنٹ سے راہ و رسم رکھنا پاکستانی غیرت کے لیے ایک کڑے امتحان کا مقام ہے پوری قوم بمعہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں حکمرانوں کی اس دوغلی پالیسی پر شدید احتجاج کر رہی ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔پوری قوم کا متفقہ مطالبہ ہے کہ پاکستان کے نامور وکلاء کا پورا پینل پیش ہو کر بین الاقوامی عدالت انصاف سے حکم امتناعی کو فوراً خارج کروائے اور کلبھوشن کے ساتھ ملک دشمن جیسا برتاؤ کرکے کسی بڑے شہر کے اہم چوک پر کھلے عام پھانسی پر لٹکایا جائے اس طرح پاکستانیوں کے دکھ بھرے دلوں کو کچھ سکون آسکے گا قوم بجا طور پر یہ بھی مطالبہ کر رہی ہے کہ سویلین حکمرانوں ساری اپوزیشن جماعتوں مذہبی و دینی گروہوں ریٹائرڈ ججوں اور با اثر و باشعور افراد پر مشتمل (قومی اتحاد )قائم کیا جائے وہ بھارتی دھمکیوں اور اس کی پاکستان دشمنی کی حرکات کا نوٹس لے کر قومی پالیسی واضح کرے تاکہ ہندو بنیے مفاد پرست سامراجیوں یہود و نصاریٰ کی شہ پرہماری سرحدوں پر اپنی مذموم سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں