کلبھوشن کی پھانسی اور عالمی عدالت انصاف

اقوام کے اعلٰی عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے اور پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا۔ عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے ۔ جج رومی ابراہم نے کہا پاکستان کلبھوشن کو فیصلہ مکمل آنے تک پھانسی نہیں دے سکتی کیونکہ بھارت اور پاکستان ویانا کنونشن کے پابند ہیں۔ قارئین یہ تھا عدالت عظمٰی کا فیصلہ لیکن حتمی فیصلہ پھر وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اب اپ کو لیے چلتے ہیں کلبھوشن یادیو کے اپنے اعترافی بیان کی جانب جو اس نے گرفتاری کے بعد دیا تھا۔
’’میرا نام کمانڈر کلبھوشن یادیو اور میں بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں۔میں بھارتی نیوی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے فریم ورک سے ہوں۔ میرا جاسوسی نام حسین مبارک پٹیل تھا جو میں نے بھارتی ایجنسیوں کیلئے خفیہ معلومات جمع کرنے کے لئے اپنایا تھا‘‘۔یہ ہیں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے منہ سے نکلے ہوئے وہ الفاظ جن کا انھوں نے گرفتاری کے بعدپورے ہوش و حواس میں رہ کر بڑے ہی فخریہ اندازسے اپنی ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا تھا۔دوران انٹرویو جاسوس دہشتگرد کے حرکات و سکنات سے قطعاً یوں معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کسی دباؤ کے تحت یہ اعتراف کر رہا ہے۔ اُس کے لہجے میں ایک گھمنڈ اور انداز سے ایک فخر چھلک رہا تھا۔ درج بالا تعارف کے ساتھ ساتھ جاسوس نے کراچی اور بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کی سرتوڑ جدوجہد میں بھی ایک کمانڈر کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا ہے۔نیز بلوچستان کے باغیوں سے روابط اور انکو فنڈز دینے کی ذمہ داری بھی بخوبی سرانجام دینے کا از خود وضاحت کی ہے۔ جاسوس نے یہ ذمہ داری بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قبول کی ہے کہ وہ پاکستان میں شہریوں کے قتل و غارت اور اُنکو معذور اور اپاہج بنانے میں کلیدی کردار رہا ہے۔
قارئین درج بالا بیان آپ نے مطالعہ کیا ہوگاجو کہ جاسوس کم اور دہشتگرد زیادہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے کلبھوشن یادیو کا ہے جو پاکستانی خفیہ اداروں نے ۳ مارچ ۲۰۱۶ ؁ء کو ایک کاؤنٹر انٹیلیجنس اپریشن کے دوران مشکیل بلوچستان سے گرفتار کیا ہے ۔ دنیا بھر میں اسپائی اور دہشتگرد کو سزادینے کے لئے واضح قوانین موجود ہیں اور پاکستان نے بھی جاسوس کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) قانون کی روشنی میں جاسوس دہشتگرد کو موت کی سزا سنائی۔بھارت نے اپنے دہشتگرد بیٹے کو بچانے کے سلسلے میں عالمی عدالت انصاف(ائی سی جے) میں پٹیشن دائر کیا ہے اور فوری طور پر عدالت نے پاکستان حکومت سے خط کے زریعے رابطہ کیا جس کی اج بروز پیر ۱۵ مئی ۲۰۱۷ ؁ء کو پہلی سنوائی ہوگی ۔جہاں پاکستانی حکومت کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لئے ۵ قانون کے ماہرین موجود ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بھارت نے جاسوس کی سزا پر اتنا واویلا آخر کیوں مچایا؟ آیا انھوں نے عالمی عدالت انصاف میں پٹیشن دائر کرکے اپنے پاؤں پہ کلہاڑی تو نہیں ماری؟ کیونکہ ماضی میں کئی بار بھارت نے امریکہ کی بیشتر معاملات پر ثالثی کی پیشکش مسترد کرتے ہوتے یہ کہا کہ وہ پاکستان کیساتھ باہمی معاملات خود حل کرنا چاہتا ہے جو عرصہ دراز سے حل ہونے کے بجائے بگڑ رہے ہیں۔ یہ بات پوری دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ بھارت خطے میں ایک بدمعاش ریاست بنا ہوا ہے اور بارہا عالمی قوانین کو پیروں تلے روندتا رہا ہے خواں وہ پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیاں ہوں یا نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کا سلسلہ ہو یا کئی ایک معاہدوں کی پے در پے خلاف ورزیاں ہوں خواں وہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے کردہ ہو یا ورلڈ بینک کی ثالثی میں لیکن ہر بار بھارت اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہااور امریکا ہمیشہ ہر کارروائی کے پس پشت سپورٹ کرتا رہا ہے کبھی عالمی سرحدوں تو کبھی ایل او سی پر اپنی اشتعال انگیزی اور کھبی شملہ اور سندھ طاس جیسی معاہدوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔لیکن سب سے زیادہ اہم اور خطے میں امن کے لئے مسئلہ مسئلہ کشمیر ہے جو دونوں ریاستوں کی علیحدگی ۱۹۴۷ء ؁ سے لے کر تاحال کشیدگی کا مرکز رہا ہے، جہاں انسانی حقوق کے ایک تنظیم کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق نہ صرف ایک لاکھ سے زائد افراد مارے گئے جس میں بوڑھے، بچے اور خواتین شامل تھیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں خواتین بھارتی اہلکاروں کی حوس کا نشانہ بھی رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۶ ؁ء تا ۲۰۱۳ ؁ء تک ۱۳۳۶ ریپ کیسس ریکارڈ کی گئی جو کہ رجسٹرڈ ہے مگر اس ظلم پرپوری دنیا میں کسی کے کان پر جوں نہ رینگی اور نہ ہی کسی عالمی عدالت یا ادارے نے فوری ایکشن لیا مگر جاسوس دہشتگرد کے معاملے پر عالمی عدالت کے پھرتیوں کو کیا نام دیا جائے۔
ہر طرف سے ذہن میں سینکڑوں سوالات اٹھتے ہیں جو کہ جواب طلب ہیں۔ کہاں کھوئے ہوتے ہیں یہ عالمی عدالت کے منصفین۔۔۔ یا اقوام متحدہ کے قوانین۔۔۔ جب بھارت پاکستان کے خلاف بہت ہی قریبی پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین کو پراکسی وار کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟یہ عالمی دنیا اس وقت کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی جب وزیرستان، سوات، باجوڑ ،کراچی اور بلوچستان میں لوگوں کے گھر نذر آتش ہوتے رہے؟ یہ لوگ اس وقت کہاں اور کس کو انصاف دینے میں مصروف عمل تھے ؟جب خیبرپختونخوا کے تعلیمی ادارے ، مساجد ،پارک اور بازار جلتے رہے؟ کہاں تھے یہ لوگ جب ان درندوں کی وحشت سے پورا پاکستان خوف و دہشت کی لپیٹ میں تھا اور کوئی جلسہ جلوس،کوئی مذہبی یا سیاسی رہنما اپنے گھر کی چاردیواری میں بھی محفوظ نہیں تھا اور دہشتگردی کے واقعات تاحا ل جاری ہیں جیسا کہ گزشتہ دنوں مستونگ میں سانحہ رونما ہواجس میں ۳۰ افراد جاں بحق اور پینتالیس سے زائد زخمی ہوئے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقع میں بھی بیرونی ہاتھ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور جاسوس جس نے خود اعتراف کیا تھا کہ ’’میرا مقصد بلوچ علیحدگی پسند وں سے ملاقات اور ان کے تعاون سے سرگرمیاں سرانجام دینا تھی، یہ سرگرمیاں مجرمانہ نوعیت کی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستانی شہری ہلاک اور اپاہج بنانامقصود تھا‘‘۔
یہ منظرنامہ ہے بھارت کے کردار کا جو پوری دنیا کے سامنے ہے، لیکن دوسری جانب ہمارے ملکی ادارے اور حکومت کس مقام پر کھڑے ہیں؟ ہماری خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کا محور کیا ہے؟ کیا ہم نے اس بارے میں کوئی کاؤنٹر نیریٹیو وضع کی ہے؟ یا پھر ہمارے وزارت خارجہ کا کوئی کردار نظر آرہا ہے؟ یہ سارے سوالات ملک کے وزیر خارجہ سے جڑے ہوئے ہیں کہ کیا ہمارے وزارت داخلہ نے اندرونی کاؤنٹر بیانیہ کے ساتھ ساتھ بیرونی کاؤنٹر بیانیہ بنایا ہے ؟
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان دفاعی خارجہ پالیسی کے بجائے جارحانہ پالیسی اپنائے اور بھارت کے زہریلے پروپیگنڈے اور عزائم سے اقوام عالم کو آگاہ کریں جس میں وزیر خارجہ کاکردار موثر ثابت ہوسکتا ہے وہ عہدہ بھی وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے جسکے اچھے نتائج سامنے نہیں آرہے، چونکہ وزیراعظم کے پاس ہزاروں کام ہوتے ہیں اس وجہ سے چند اہم کاموں میں کمی رہ جاتی ہے جن میں سے وزارت خارجہ کا شعبہ ایک ہے ایک اہل وزیرخارجہ کی تعیناتی سے یہ کمی پوری ہوسکتی ہے ۔ تاکہ موثر کاؤنٹر خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ کشمیر اور سندھ طاس جیسی معاہدوں کو عالمی دنیا کے سامنے پیش کرسکے اور علاقائی مسائل پر طویل مدتی پالیسی بھی مہیا کر پائے ۔ خاص طور پر مسئلہ کشمیر جو کہ پورے خطے میں قیام امن کے حوالے سے سب سے زیادہ غور طلب مسئلہ ہے کوجلد از جلد عالمی عدالت انصاف میں پیش کرے ، نیز اقوام متحدہ میں بھارت اور بھارتی اتحادیوں کے حوالے سے بھی انصاف طلبی کے لئے کوششیں کی جائے۔
رہی بات جاسوس کم دہشگرد زیادہ کمانڈر کلبھوشن یادیو کی تو اسکو آج نہیں تو کل اگر پھانسی پر لٹکانا ہی ہے تو پھر آج ہی کیوں نہیں تاکہ’’ خس کم جہاں پاک ‘‘رہ جائے۔

تحریر:وصال خٹک

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں