کم عمری میں‌شادی اور اسلام ؛ سید علی رضوی

تحریر: لیکچرار سید علی رضوی (اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور شعبہ میڈیا اسٹڈیز)

سینیٹ سے حال ہی میں پاس ہونے والے کم عمری میں شادی پر پابندی کے بل کو منظور کیا گیا لیکن قومی اسمبلی نے اسے مسترد کر دیا۔ اسی جنجھلاہٹ میں وفاقی وزیر ساٸنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ترقیم میں رکاوٹ کی وجہ مولوی کو قرار دے دیا۔ اب پتہ نہیں انکا اشارہ اپنی موجودہ جماعت تحریک انصاف میں موجود مولویوں کے بارے میں تھا، سابقہ جماعت پیپلز پارٹی یا پھر ایم ایم کے پندرہ ارکان کی طرف۔ قومی اسمبلی میں اکثریت تو پی ٹی آٸی کی ہے اور بل بھی قومی اسمبلی سے مسترد ہوا ہے۔
یہ بل پی ٹی آٸی کےاقلیتی ممبر ڈاکٹر رمیش کمار نےپیش کیا تھا جن کا مقصد سندھ میں ہندولڑکیوں کی کم عمری میں شادی کو روکنا تھا جنکے بارے میں یہ الزام لگایا جاتاہے کہ ان لڑکیوں کو اغوإ کرکے زبردستی مذھب بدلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
دین اسلام دین فطرت ہے۔ اس میں شادی کی کوٸی خاص عمر مقرر نہیں کی گٸی۔ جیسے ہی مرد یا عورت بالغ ہو جاتا ہےتو قدرتی طور پر بھی ان کا جسم وہ تمام ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے جو کہ زوجین کے باہمی تعلقات کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ یہی حالت دوسری جانداروں کی بھی ہے۔ جیسے ہی کوٸی مادہ بالغ ہوتی ہے اسے فوراً افزاٸش نسل کے لیے کسی نر کےپاس بھیجا جاتا ہے۔
اسلام میں بلوغت پر شادی کی مکمل اجازت ہے ۔ رسول اکرمﷺ کی سیدہ عاٸشہ سے نکاح چھ سال کی عمر میں ہوا لیکن رخصتی بلوغت پر 9 یا (بعض روایات کی بنیاد پر) 12 سال کی عمر میں ہوٸی. لیکن یہ کوٸی فرض نہیں بلکہ اس میں بنیادی طور پر مشیت الٰہی یہ تھی کہ سیدہ عاٸشہ رض رسول اکرم ﷺ سے دین سیکھ کر امت کو بتاٸیں۔ اسلیے دین کا ایک بہت بڑا حصہ امت نے سیدہ عاٸشہ سےسیکھا کہ وہ آپ ﷺ کے بعد تقریباً 47سال زندہ رہیں۔
بلوغت کہیں پر دس سال کی عمر میں ہو گی اور کہیں پر بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں اور اس کا انحصار انسان کے ماحول اور آب و ہوا پر ہوتا ہے۔ بالغ ہونا ایک چیز ہے اور شادی کرنا دوسری ۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی شادی پر کسی ریاست میں عمر16سال ہے اور کہں پر 18 سال۔ لیکن چونکہ شادی میں صرف جنسی معاملات کی سمجھ بوجھ کافی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ساتھ اور بھی ضروریات منسلک ہوتی ہیں۔ اس لیے ان معاملات میں بھی سمجھ بوجھ ضروری ہے خصوصاً معاشی سماجی یا مذہبی معاملات۔ بلوغت کے ساتھ فوراً ہی معاشی، سماجی یا مذہبی معاملات کی سمجھ آجاۓ یہ ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس لیے اگر شادی کو اگر دو چار سال موخر بھی کر دیا جاٸےتو کوٸی حرج نہیں۔ انسان 9سال سےلے کر 13 سال کی عمر تک بالغ ہو جاتا ہے لیکن بیشتر ممالک میں ووٹ کا حق بھی 18 سال کے بعد دیا جاتا ہے تا کہ جسمانی بلوغت کے ساتھ ساتھ سیاسی بلوغت بھی ہو جاٸے۔ جانوروں میں چونکہ اس قسم کی سوجھ بوجھ کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے بلوغت کے فوراً بعد انکی افزاٸش شروع کر دی جاتی ہے۔ انسانوں میں ایک ہی عمر کے خواتین اور مردوں میں سے خواتین نسبتاً ذیادہ ذمہ داراور بالغ ہوتی ہیں۔ اس لیے کم عمری کی شادی میں عموماً بڑی عمر کے حضرات کے ساتھ چھوٹی عمر کی خواتین ہی بحث کا باعث بنتی ہیں۔ بہت کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی بڑی عمر کی خاتون سے کسی چھوٹی عمر کے لڑکے کی شادی کر دی جاٸے۔
اس لیے شادی پر 18 سال کی لازمی شرط مناسب نہیں لیکن ساتھ ہی کم عمری کی شادی کی مخصوص حالات میں ہو سکتی ہے لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ معاشروں نے خود ہی بغیر کسی قانون کے کم عمری کی شادیوں کی عام حالات میں حوصلہ افزاٸی نہیں کی۔ اس معاملے میں یورپ کی تقلید کی بجاٸے خود مجتہد بنا جاٸے کیونکہ یورپ اپنے معاملات کے حساب سے فیصلہ کرتا ہے۔ یورپ کا معاملہ اس بارے میں انتہاٸی منافقانہ ہے کہ اگر دو کمسن اپنی مرضی سے جنسی معاملات میں ملوث ہوں تو کوٸی مسٸلہ نہیں لیکن اگر شادی کرنا چاہیں تو ان پر پابندی لگا دی جاٸے۔

Comments

comments