کم فہمی…..فرقہ واریت کی بنیادی وجہ

موجودہ دور میں‌مذہب كے حساس موضوعات پر لکھنا آسان کام ہرگز نہیں کیونکہ آج کل جس فرقہ واریت کی دلدل میں ہم نے اہل اسلام کو ڈال رکھا ہے وہ اس قدر اندر تک دھنس چکا ہے کہ اب اسلام کے ان موضوع پر لکھنے سے بھی قلم ہچکچاتا ہے,کہ کہیں میرا قلم جو بات اسلام کی بقاء اور عظمت کے لیےلکھ رہا ہے وہ کسی اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کو اس کی کم فہمی کی وجہ سے سمجھ نہ آۓاور لکھنے والے کے لیے وبال جان بن جائے.
ایک بات تو میں پورے وثوق اور اعتماد سے کہتا ہوں کہ اسلام میں جو بھی مذہبی جماعتیں یا فرقے موجود ہیں, جو سب کلمہ گو ہیں ان میں سے ایک کے بھی بنیادی عقائد دوسرے سے مختلف نہیں. اور ان میں سے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کا دل اسلام اور اس کی بقاءوعظمت کے لیےاتنا ہی نہ دھڑکتا ہو جتنا کہ کسی اور مکتب سے تعلق رکھنےوالےکااور ہر مکتب سے تعلق رکھنےوالےکم ایمان ، کم عمل اور کم فہم یا باکمال ، باعمل اوربا علم لوگ اسلام کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہوں,یہاں اس بات کی نشاندہی کرتا چلوں کہ ہر مکتب میں کچھ شدت پسند موجود ہیں جن کی سب مکاتب مذمت کرتے ہیں.
یہ بات سراعت سے ہر علم وغير علم والے با خوبى جانتے ہیں کہ ہر مکتب فکر کا ایک دوسرے سے فروئى مسا ئل پر اختلاف مو جود ہے.اور وہ اختلاف شاید ازل سے ابد تک رہنا ھے ,ان اختلاف كو پس پردہ رکھ کر ہم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ہم کلمہ گو ہیں.کوئى بھی فرقہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت سے انہراف نہیں کرتا.اور سب دین اسلام کے لیے قربانی کے لیے ہر وقت کوشاں ہیں.
نبی پاک (ص) کی یہ حديث مبارک جس میں نبی پاک (ص) نے فرمایا کہ میری امت میں 73فرقے ہوں گے ایک ناجی اور باقی ناری ہوں گے.جسے ہمارے کم فہم علماء اور فرقہ پرست عوام طوطی کی طرح دوہراتى ہے,اور امت کو اکھٹا نہیں ہونے دیتی.اس بات کو نظر انداز کرتے ہوے کہ یہ حديث ضعيف ہے یا معتبر ,میں صرف اپنے علماء اور عوام الناس کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس بات کو میرے نبی (ص) سرور کونین دو جہانوں کے سردار جنت کے وارث بیان فرمائیں اور قرآن پاک اس کی نفی کرے,اور ہم مسلمان اسی پر اکتفاء کریں.
اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے: وعتصموبحبل للہ جمیع ولا تفرقو ترجمعہ: اوراللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑے رکھو اور فرقوں میں نہ بٹو . یہاں یہ بات کرتا چلونکہ 73 فرقے اگر نبی پاک نے فرما دیا تو وہ ہر حالت میں بنیں گے, شاہد یہ خدا كى حكمت حيكہ نبی پاک کو کہا کہ امت کو بتا دو فرقوں کا اور خود یہ بیان کیا کہ جب فرقہ بن جائیں تو تم اللہ کی رسی کو تھامے رکھنا.
میرے پیارے مسلمان بھائيو ! اور بہنو! میں بہت درد دل سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ ہم نے فرقہ واریت کو اتنا عام کر دیا ہےکہ اب تو نماز ,زکوۃ,روزہ,حج،متقى ،پرہيزگار،اچھے اعمال ,معاشرہ میں انسان کا رویہ , حسن اخلاق،اور نيک سيرت سے پرکھنے کے بجائے ہم نے تو ایک وکھرا ہی معیار بنا دیا ہےجس کو میں کم علمی,کم عقلی,کم فہمی اور فرقہ واریت کہتا ہوں,دوستو جیسے جو کسوٹی ہم نے بنا دی اگر کوئ ديوبندى ہے تو اس پر گستاخ رسول (ص) كا ليبل،او جی یہ بس اللہ اللہ کرتے ہیں شان اے مصطفی بیان نہیں کرتے.اگر اپ سنی بریلوی ہیں تو آپ پر شرک و بدعت,نبی کے علم غائب کے قائل،اور ندائے یا رسول اللہ(ص) کا فتوی صادر . اگر اپ شیعہ ہیں تو علی پاک کے فضائل میں غلو، صحابہ اکرام (ر.ض) كى گستاخى اور قرآن پاک میں تحریف کے قائل كا فتوى صادر، اگر آپ وھابی (سلفی) ہیں تو آئمہ اکرام کی تقلید نہ کرنے اور شدت کے قائل اور نبی پاک کی کم تعظيم كا فتوى ان پر صادر. حالانکہ میں یہ بات پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ کسی بھی کلمہ گو کا جو کسی بھی مکتب سے تعلق رکھتا ہو اتنا کمزور ایمان نہیں کہ وہ رسول پاک کی عزت نہ کرتا ہو, قرآن کی تحریف کا قائل ہو، شرک و بدعتی ہو. يہ سب چیزیں ہمارے معاشرہ میں اچھی کتب اور اچھے علماء جو کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں, انکو نہ سننے اور نہ پڑھنے کی وجہ سے ہیں. بلکہ ہم نے اپنا علم کا ذریعہ صرف سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو بنا رکھا ہے جو بہت بڑا المیہ ہے جس کی وجہ سے ہم حقيقت سے دور اور خرافات سے قریب ہو گئے . اور یہ ہی عمل فرقہ واریت کو ہوا دےرہا ہے خدا راه اسلام كو معتدل رويہ اور سوچ رکھ کرپڑھیں اور سمجھیں.
آخر میں ایک سوال جس کے بارے میں سوچنا ضرور مان لیں سب ایک دوسرے کو کافر مشرک بدعتی گستاخ اور كا فر بنانے میں لگے ہیں . اگر ہم سب کافر ہیں تو زرا سوچیں کہ جنت میں کون جاۓ گا (وللہ عالم)

تحریر: سید نوید کاظمی

Comments

comments

کم فہمی…..فرقہ واریت کی بنیادی وجہ” ایک تبصرہ

  1. شکریہ ہم پاکستان آپ نے میرا کالم شائع کیا میں انشاءاللہ ایسے ہی لکھتا رہوں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں