کوئٹہ: چرچ پر خودکش حملے میں 9 افراد جاں بحق اور 57 زخمی

کوئٹہ میں زرغون روڈ پر متعدد دہشت گردوں نے میتھوڈسٹ چرچ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 9 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ زخمیوں کو ایدھی ایمبولینسز کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام عملے کو طلب کرلیا گیا۔

حکام کے مطابق حملے میں چار دہشت گرد ملوث تھے، لیکن سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی وجہ سے ان کا حملہ پوری طرح کامیاب نہ ہوسکا۔ ایک بمبار نے خود کو دروازے پر دھماکے سے اڑادیا جس کے بعد باقی حملہ آوروں نے اندر داخل ہوکر فائرنگ کی اور چاقوؤں سے حملے کیے۔ فورسز سے جھڑپ میں ایک حملہ آور مارا گیا اور دیگر دو حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ پہلے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد زوردار دھماکا ہوا۔ دہشتگردوں نے چرچ میں گھس کر اندر موجود افراد پر چاقو سے حملہ کرکے انہیں زخمی بھی کیا۔

وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں میں سے ایک نے چرچ کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے بعد دوسرا حملہ آور گرجا گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے اندر گھس کر فائرنگ شروع کردی، سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں دوسرا حملہ آور مارا گیا جب کہ دیگر دو دہشت گرد فرار ہوگئے۔

اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے گرجا گھر میں خواتین اور بچوں سمیت مسیحی برادری کے 400 سے زیادہ افراد عبادت کے لیے جمع تھے اور دعائیہ تقریب ہورہی تھی جبکہ کرسمس کی تیاریاں بھی کی جارہی تھیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور آپریشن کیا جارہا ہے جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، صدر ممنون حسین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور سیاسی شخصیات نے کوئٹہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ چرچ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد اور پرعزم ہے۔ صدر ممنون حسین نے حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ حملے میں مسیحی بھائیوں کونشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد مذہبی تقسیم کو ہوا دینا ہے اور یہ کرسمس کا جشن پھیکا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ چرچ کو نشانہ بنانے کا واقعہ بزدلانہ اور افسوس ناک عمل ہے، جب کہ اقلیتوں کی مذہبی آزادی کا تحفظ پوری قوم کا فرض ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حملے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو انکے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں