کوانٹم میکانیات کا تعارف:نعمان رؤف ہاشمی

آپ کسی چیز پر نظر گاڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنی جگہ نہیں بدلتی مگر جیسے ہی آپ انکھیں بند کرکے دوبارہ کھولتے ہیں تو وہ شئے اپنی جگہ بدل چکی ہوتی ہے۔ اس طرح ہر بار جب آپ آنکھیں بند کرکے کھولتے ہیں تو وہ شئے ہر مرتبہ ایک نئی جگہ پر خود کو ظاہر کرتی ہے۔ آپ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ گمان کرتے ہیں کہ شاید یہ خواب ہے، یا پھر نظر کا دھوکا۔ لیکن آپ کو اس بات سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ سچ بھی ہوسکتا ہے، مگر ایسا صرف کوانٹم لیول تک ممکن ہے
کوانٹم میکنیکس کہ مطابق ایک کوانٹم پارٹیکل ویو اور ذرہّ دونوں ہوسکتا ہے اور مشاہدہ کرنے پر وہ اپنی ہی امکانات کی ویو پر ذیادہ امکان والی جگہ پر خود کو ظاہر کرتا ہے اور مشاہدہ کرنے سے ذرے کی سپر پوزیشن منہدم ہوجاتی ہے اور وہ ذرے کی صورت اختیار کرلیتا ہے یہاں مشاہدہ سے مراد ذرہ یا ویو کے ساتھ انٹریکشن کرنا ہے مشاہدہ سے ہر گز یہ مراد نہیں کے آپ کی آنکھ سے دیکھنے پر اس ذرے کو کسی قسم کا اثر پڑا رہا ہے

ڈبل سلٹ تجربہ کی مدد سے اس مظہر کو ثابت کیا گیا ہے جس میں ڈبل سلٹ میں سے فوٹانزکو ایک ایک کر کہ گزراہ جاتا ہے سلٹ کہ بعد لگے ڈیٹیکٹر کی مدد سے اگر فوٹان کا مانیٹر کیا جائے تو وہ سامنے لگی سکرین پر کسی بھی ایک سلٹ کہ سامنے اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فوٹان کونسی سلٹ سے گزار رہا ہے اگر 100 فوٹانز کو ان سلٹس(راستے) کی طرف سے بھیجا جائے تو دونوں سلٹس میں سے فوٹان کہ گزرنے کا تناسب 50/50 رہے گا اس طرح کچھ فوٹان سلٹ A کہ سامنے سکرین پر اپنی موجودگی ظاہر کریں گے اور کچھ فوٹان سلٹ B کہ سامنے سکرین پر اپنی موجودگی ظاہر کریں گے اور اگر آپ ڈبل سلٹ کہ بعد لگے ڈیٹیکٹر کو ہٹا دیں تو ڈبل سلٹ سے گزرانے والے فوٹان سامنے لگے سکرین پر ایک سپیکٹرم کی طرح اپنی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے جس میں چند تاریک اور چند روشن لائنز بن جاتی ہیں جو ذرہّ کہ بجائے ان دونوں سلٹس(راستوں) میں سے گزرنے والی ویوکی صورت میں بننا چاہیے تھا. اکثر اوقات اس بات کو یوں سمجھ لیا جاتا ہے کہ مشاہدہ اس تجربے پر کسی قسم کا اثر ڈال رہا ہے حلنکہ سامنے لگی سکرین بھی تو مشاہدہ کا ہی ایک ذریعہ ہے اس لئے مشاہدہ کی وجہ ماہیت تبدیل کرنے کا دعوی درست عمل نہیں ہے البتہ مشاہدہ سے مراد انٹریکشن لیا جائے تو بات ذیادہ بہتر طریقے سے واضح ہوسکتی ہے

کوانٹم میکنیکس کلا سیکل فزکس سے اتنی مختلف ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی سے اُس کی مثالیں دینا بھی نا ممکن ہے اسلئے اسے سمجھنا بھی کافی حد تک مشکل ہے
کوانٹم میکنیکس کہ بارے میں کہا جاتا ہے

” جو کہتا ہے میں کوانٹم میکنیکس کو سمجھ گیا ہوں دراصل اُس نے کوانٹم میکنیکس کو سمجھا ہی نہیں ”

کوانٹم میکنیکس کو لے کر بوہر اور آئسٹائن میں بھی کافی اختلاف رہا ہے پارٹیکلز کہ ویو فنکشن کہ متعلق امکانات کا حساب کرنے والی مساوات بنانے والے Schondinger بھی کوانٹم میکنیکس کہ نظرئیے سے اتفاق نہیں کرتے تھے جس کیلئے اُن نے ایک تخیلاتی تجربہ بھی واضح کیا تھا جو Schondinger cat experiment کہ نام سے مشہور ہوا

ایسا نہیں ہے کہ کوانٹم ایک مبہم موضوع ہے کیونکہ کوانٹم سے کی جانے والی پیشنگوئیاں ہر دور میں صیح ثابت ہوتی رہی ہیں صرف سو سال کہ عرصے میں ہم کوانٹم کو جتنا بھی سمجھ پائے ہیں اُس کہ استعمال سے ہماری روزمرہ کی استعمال کی چیزوں کو بہتر کرنے میں مدد ملی ہے

یہ تو تھا کوانٹم کا ہلکا پھلکا سا تعارف کوانٹم کو سمجھنے کی کوشیش کرنے کیلئے کچھ بنیادی چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے جن کی مدد سے ہم کوانٹم کہ متعلق تھوڑا بہتر طریقے سے سوچ سکتے ہیں

1) Standard model of elementary particles

2) Quantum field theory

سٹینڈرڈ ماڈل آف ایلمینٹری پارٹیکل

ایک زمانہ تھا جب یہ مانا جاتا تھا کہ مادہ کی اکائی ایٹم ہے ہر ایلمینٹ کا اپنا اپنا ایٹم ہے پھر وقت گزرنے کہ ساتھ ہم نے جانا کہ ہر ایٹم مزید چھوٹے ذارت سے ملکر بنا ہے جو کہ الیکٹران پروٹان اور نیوٹران ہیں اس کہ بعد کوانٹم تھیوری پیش کی گئی تو مزید نئے پارٹیکلز دریافت ہوتے گئے ان کو ان کی خصوصیات جیسے کہ سپن، چارج، ماس، ڈیکے پیرڈ کی بناء پر علیحدہ علیحدہ کیٹگریز میں بانٹ گیا ! ایک ماڈل بنایا گیا جس میں ان سبھی پارٹیکلز کا ان کی پراپرٹیز کی بناء پر ترتیب دیا گیا. تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ مادہ اور تمام طرح کی فورسز کس طرح کام کرتی ہیں

اس ماڈل کو سینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکل فزکس کا نام دیا گیا جسطرح کیمسٹری میں پیراڈک ٹیبل کو اہمیت حاصل ہے اسی طرح کوانٹم میکنیکس میں سٹینڈرڈ ماڈل آف ایلیمنٹری پارٹیکل بھی اتنا ہی اہم ہے

جو کچھ اس کائنات میں موجود ہے وہ مادہ یا فورس کی صودت میں موجود ہے اسی کوبنیاد بناتے ہوئے اس ماڈل کو دو طرح کہ پارٹیکلز میں تقسیم کیا گیا ہے
1) Fermions فرمیؤن
2)Bosons بوزون

اس کائنات میں جو مادہ موجود ہے وہ فرمیون پر مشتمیل ہے جبکہ اس کائنات میں موجود چاروں بنیادی فورسز بوزون کی وجہ سے کام کرتی ہیں

فرمیؤن کی فیملی میں دو طرح کی پارٹیکل ہوتے ہیں

1) Quarks کوارکس
2)Leptonsلیپٹانز

کوارکس چھ طرح کہ ہوتے ہیں

1)Up Quarks
2)Down Quarks
3)Charm Quarks
4) strange Quarks
5)top Quarks
6)Bottom Quarks

کوارکس سٹیبل نہیں ہوتے اسلئے یہ آپس میں ری ایکٹ کر کہ دوسرے پارٹیکلز بناتے ہیں جنہیں ہیڈرون کہ نام سے جانا جاتا ہے ہیڈرون کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

1) Baryons بیرؤن
2)Mesons میسانز

بیرؤن تین کوارکس سےملکر بنتے ہیں جیسے پروٹان دو اپ کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارکس سے ملکر بنتا ہے اور اسی طرح نیوٹران دو ڈاؤن کوارکس اور ایک اپ کوارکس کی مدد سے بنتا ہے

میسانز کوارکس اور اینٹی کوارکس کہ ملنے سے بننے والے پارٹیکلز ہیں یہ سٹیبل نہیں ہوتے یہ سکینڈ سے بھی کم وقت میں ڈیکے ہوجاتے ہیں
اگر یہ چارجڈ ہوں تو الیکٹران اور نیوٹرانینو میں ڈیکے ہوتے ہیں اگر یہ چارجڈ نہ ہوں تو فوٹانز میں ڈیکے ہوتے ہیں..

ایلیمنٹری پارٹیکل لیپٹانز کہلاتے ہیں ان کا ہاف سپین ہوتا ہے یہ سٹرنگ فورسز کہ ساتھ انٹریکٹ نہیں کرتے انہیں مزید چارجڈ اور نیوٹرل لیپٹانز میں تقسیم کیا جاتا ہے

1) Electron
2) muon
3) Tau

4) electron Neutrino
5)muon Neutrino
6)tau neutrino

کائنات میں موجود چاروں فورسز بوزن کی مدد سے کام کرتی ہیں

بوزونز چارطرح کی ہوتے ہیں

1) Photon (Electromagnetic Force)
2) W/Z boson ( Weak Nuclear Force)
3)Gluons (Stronge Nuclear Force)
4)Graviton (Gravitational Force)

Quantum field Theory کوانٹم فیلیڈ تھیوری

کلاسیکل فزکس میں کوئی بھی مشاہدہ کی جانے والی ہر شے یا تو پارٹیکل ہوتا ہے یا پھر ویو ہوتی ہے اور ان دونوں کی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں

اس وجہ سے ہم کسی بھی مادی چیز کہ کام کرنے کہ طریقہ کار کو دیکھ کر اُس کہ ماضی، حال اور مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں جیسے کہ ایک سیارے کہ آربٹ اور ریولویشن پیرڈ کا پتہ ہوتو ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ سال پہلے یہ سیارہ کہاں تھا اور کچھ سالوں بعد یہ کہاں ہوگا

اسی طرح کسی بھی الیکٹرمیگنیٹک ویو کہ متعلق بھی آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اُس کا ویو لینتھ کیا ہے اُسکی فریکوینسی کیا ہے
کلاسیکل فزکس میں موج اور ذرہّ دونوں کی خصوصیات ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور یہ بالکل الگ طرح سے کام کرتے ہیں
جب کہ کوانٹم فزکس میں ہر شے ایک ہی وقت میں پارٹیکل بھی ہوتی ہے اور ویو بھی اس پوزیشن کو سپر پوزیشن کا نام دیا جاتا ہے

اسی وجہ کوانٹم کی مدد سے ہم آبجیکٹ کہ ماضی دیکھ کر اُس کہ مستقبل کہ بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کرسکتے صرف امکانات ہی کیلکولیٹ کر سکتے ہیں.کوانٹم فزکس میں سبھی ذرہّ کی موجودگی کہ تمام امکانات کو ویو فنکشن کہا جاتا ہے اس حوالے سے کوانٹم فزکس عجیب برتاؤ رکھتی ہے مگر فزیسسٹ کا یہ ماننا ہے کہ حقیقت ہمیشہ ویو فنکشن کی صورت میں موجود ہوتی ہے کوانٹم فزکس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ دُنیا جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے یہ حقیقت میں ویسی نہیں ہے ویسے ہمیں دکھائی دینے والا مادہ یا وہ مادہ جو الیکٹرومیگنیٹک فیلیڈ سے انٹریکٹ کرسکتا ہے اور مختلف کیمکل اور فزیکل ری ایکشن کرتا ہے اُس پر کلاسیکل اپروچ کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کوانٹم قوانین کا اطلاق صرف چھوٹے پیمانے کہ ذرات پر ہی ہوتا ہے جو آزاد حثیت میں ایسا رویہ رکھتے ہیں

ہمارا یہ ماننا ہے کہ کائنات ساری مادہ کی بنی ہے جہاں مادہ نہیں ہے وہ جگہ خالی(سپیس، خلاء) ہے مگر حقیقت میں کوئی جگہ بھی مکمل طور خالی نہیں ہوتی

جیسے دو مقناطیس کہ ایک جیسے پولز کو ایک دوسرے کہ قریب لانے کی کوشیش کریں تو یہ ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں جب کہ ان کہ درمیان مکمل طور پر خالی جگہ ہوتی ہے بظاہر ان کا براہ راست آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آرہا ہوتا ہمیں جو خالی جگہ نظر آرہی ہے وہ خالی نہیں ہوتی وہاں میگنیٹک فیلیڈ موجود ہوتی ہے اس طرح آپ دو مقناطیسوں کو خلا میں بھی ایسے ہی قریب لائیں تو یہ وہاں بھی یہی رویہ ظاہر کریں گے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کائنات میں کوئی بھی جگہ مکمل طور پر خالی نہیں ہے جیسے سورج سے آنے والی روشنی( فوٹانز) بغیر کسی واسطے کےزمین تک پہنچ جاتی ہے

جہاں کچھ بھی موجود نہ ہو مختلف فورسز کی فیلیڈز وہاں بھی موجود ہوتی ہیں. اس تھیوری کوفیلیڈ تھیوری کہا جاتا ہے . جب ہم کوانٹم فزکس اور فیلیڈ تھیوری کو آپس میں ملاتے ہیں تو ہمیں “کوانٹم فیلیڈ تھیوری ” ملتی ہے

کوانٹم فیلیڈ تھیوری کہ مطابق یہ پوری کائنات فیلیڈز پر مشتمیل ہے ہرجگہ مختلف فیلیڈز کا جال بچھا ہوا ہے جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے جیسے میگنیٹک فیلیڈ، گریوٹیشنل فیلیڈ، الیکٹرک فیلیڈ، وغیرہ ایسے ہی ہر ذرہّ کی اپنی اپنی ایک الگ فیلیڈ ہے

کوانٹم فیلیڈ تھیوری کہ مطابق ہر ایلیمنٹری پارٹیکل کی اپنی فیلیڈ موجود ہے جیسے الیکٹران فیلیڈ، ہگز فیلیڈ، کوارکس فیلیڈ، گولؤن فیلیڈ فزیسسٹ ان تمام فیلیڈ کو نمبرز سے ظاہر کرتے ہیں سپیس میں ہر پوائنٹ پر ایک یا ایک سے ذیادہ نمبرز ہوتے ہیں ایک فیلیڈ کو کتنے نمبرز کی ضرورت ہوتی ہے اس بناء پر ان تقسیم کیا گیا یے جیسے کہ ہگز فیلیڈ ایک سکیلر فیلیڈ ہے اس لئے اسے بیان کرنے کیلئے ایک نمبر کی ضرورت پڑتی ہے الیکٹرک اور میگنیٹک فیلیڈ کو ویکٹر فیلیڈ مانا جاتا ہے کیونکہ انہیں سپیس میں ہر پوائنٹ پر نمبر کہ ساتھ سمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے
نیوٹن کہ مطابق گریوٹیشنل فیلیڈ بھی ویکٹر فیلیڈ ہوتی یے
جبکہ آئنسٹائن کہ مطابق گریوٹیشنل فیلیڈ ایک کثیف
فیلیڈ ہے

جب کسی فیلیڈ کو انرجی ملتی ہے تو وہ ہائر انرجی سٹیٹ میں چلی جاتی ہیں اور جس طرح پانی میں لہریں بنتی ہیں ویسی ہی لہریں فیلیڈزمیں بھی بنتی ہیں جنہیں ریپلز کہا جاتا ہے انہی بننے والی ریپلز کو ہم پارٹیکل کہتے ہیں جسطرح الیکٹران فیلیڈ میں لہریں (ریپلز) بنتی ہیں تو الیکٹران ملتا ہے اور جب کوارکس فیلیڈ میں ریپلز بنے تو ہمیں کوارکس ملتے ہیں ان ریپلز کہ غائب ہوتے ہی پارٹیکل بھی غائب ہوجاتے ہیں جنہیں ہم پارٹیکل کا ختم ہونا کہتے ہیں ان فیلیڈز میں جہاں ہم انرجی دیتے ہیں یہ وہاں پارٹیکل کہ روپ میں نظر آتے ہیں جیسے جیسے وہ انرجی اُس فیلیڈ میں پھیلیتی جاتی ہے تو ہمیں لگتا ہے پارٹیکل موو کر رہا ہے مختلف فیلیڈز میں پارٹیکل جنریٹ کرنے کیلیے مختلف انرجی درکار ہوتی ہے جس پارٹیکل کا جتنا ذیادہ ماس ہوگا اُسے جنریٹ کرنے کیلئے اُتنی ہی ذیادہ انرجی درکار ہوگی

جیسے ہگز بوزون کو جنریٹ کرنے کیلئے الیکٹران جنریٹ کرنے سے کہیں ذیادہ انرجی درکار ہوتی ہے جس کیلئے ہمیں لارج ہیڈرون کلوائیڈر کی ضرورت پڑتی ہے جس میں ہگز فیلیڈ کو بہت ذیادہ انرجی دی گئی اور ہمیں ہگز بوزون ملے!

سپیس اور ٹائم میں تمام فیلیڈز ایک ہی جگہ موجود ہوتی ہیں اس وجہ سے کچھ پارٹیکلز ایک دوسرے میں بھی بدل سکتے ہیں اور اسطرح تمام فورسز بھی کام کرتی ہیں
کائنات پارٹیکلز کی بجائے فیلیڈز پر مشتمیل ہے ان فیلیڈز کو انرجی ملنے پر ہی پارٹیکلز بنتے ہیں اور یہی مادہ کی بنیاد ہے
اسطرح مختلف فیلیڈز کی مدد سے انرجی مادہ میں تبدیل ہوتی ہے بنیادی طور پر کائنات میں موجود تمام مادہ انرجی کا مرہون منت ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں