کٹاس راج کے مندر ، نجم الحسن کے ساتھ بیتی صدیوں کا سفر-

ان دنوں جہاں میرے شب وروز گذررہے ہیں تو وہاں گذشتہ دن ہلکی ہلکی بونداباندی، بادلوں ،اور لہلہاتیں ہواؤں نےموسم کی گرمائش کو ٹھنڈک میں تبدیل کردیا۔
کچھ دوستوں نے دوپہر کھانے پر مدعو کیا، محترم کامران صاحب کے ہاتھوں سے بنے لذیذ چاول تناول کیے اور اسی دوران دوستوں کے ہمراہ “کٹاس”جانے کا پروگرام بن گیا- مختصر سی تیاری کی ، محترم شرجیل صاحب کو ہمراہ کیا، پنڈدادنخان کے لاری اڈے پہنچے اور اڈے پہ محترم بلال صاحب اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محبت دینے والے دوست محترم حافظ سراج صاحب بھی ہمراہی کے لیئے تشریف لے آئے- اڈے سے مناسب کرایہ پہ ایک کار کی اوردعا سفر پڑھتے ہی عازم سفر ہوگئے۔دوکلومیٹر کی مسافت طے کرکے کھیوڑا کراس کیا –

کوہستان نمک کے پہاڑی سلسلہ میں بل کھاتی سڑک پہ رینگتی کار اُونچائی کی طرف چڑھنے لگی، بلند پہاڑوں کے قدرتی حسین مناظر سے آنکھیں لطف اندوز ہونے لگی۔کہیں پتھریلے خشک پہاڑوں کا منظر تو کہیں سبزہ ودرختوں سے ڈھکے پہاڑ، کبھی دائیں طرف سے حیران کردینے والی پہاڑوں کی بلندی کا منظر تو کبھی بائیں طرف سر چکرادینے والی گہری کھائی کاخوفناک منظر، پہاڑ کی بلندیوں سے آبادی کا حسین اور لطف اندوز منظر اوجھل ہونے لگا-

پہاڑوں کے دامن میں “سیمنٹ فیکٹری” سخت پتھروں کو پیس کر سیمنٹ میں تبدیل کررہی تھی۔اور فیکٹری کی مشینری فضا میں سفید دھواں چھوڑ رہی تھی ۔کچھ مسافت طے کرنے کے بعد ہم ضلع چکوال کی حدود میں داخل ہوچکے تھے۔

آسماں میں سورج بادلوں کے اوٹ میں چھپ گیا تھا، ٹھنڈی ہوائیں بادلوں کو اُڑارہی تھی۔میرے ذہن کے دریچے پہ دستک کی آواز آئی ،دریچہ کھلااور سوچ میں مگن ہوگیا،جو آنکھیں دیکھ رہی تھی وہ ذہن سوچ رہا تھا، کہ وہ کونسی ہستی ہے جس نے زمین پر پہاڑوں کو گاڑ دیا، اس میں عجب نایاب خزینے دفینے کردیے۔گہری کھائیوں میں خلا چھوڑ دیا، بلندی پہ ٹھنڈی ہوائیں چلادی، پتھروں سے پانی کے چشمے بہادیے، مضطرب دل سے صدا آئی وہ ہستی وہ ہستی ہے جو نظام ہستی چلارہا ہے۔

کٹاس پہنچتے ہی اچانک ایسا لگا کہ مجھے کسی نے صدیوں پہلے کے زمانہ میں پہنچادیا، میں مندرمیں داخل ہوا، مندر کی دیواریں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی تھی ۔بلندی پر ہندوں کا مندر تھا تو دوسری جانب بدھ مت کا معبد کدہ اور نیچے مقدس چشمہ اور ایک قلعہ اور ست گھرہ –

کٹاس راج مندر چکوال سے25 کلومیٹر دور چواسیدن شاہ سے چارکلومیٹر سلسلہ کوہ نمک میں واقع ہندؤں کا ایک مقدس مقام ہے، جسےکٹاس راج بھی کہتے ہیں – ﮐﭩﺎﺱ ﺭﺍﺝ ﮐﺎ ﻣﻨﺪﺭ 60 ﺻﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﭩﺎﺱ ﺭﺍﺝ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭼﮫ ﺳﻮ ﻣﻠﯿﻦ ﺑﺮﺱ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﭩﺎﺱ ﺭﺍﺝ ﮐﮯ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻣﮩﺎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺟﻮ ﻣﺴﯿﺢ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ذکرﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔

شیو کا آنسو

ﺑﺮﺍﮨﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺟﺐ ﺷﯿﻮ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﺘﯽ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﮐﮫ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻧﺪﯼ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﻌﺮﺽ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﺍﺟﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﭘﺸﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﭩﮏ ﺷﯿﻞ۔ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻟﮍﯼ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﺜﺮﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﭩﺎﺱ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔

مقدس چشمہ

ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﺱ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻭﺳﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺳﯿﺎﺣﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻻﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﺳﻤﯿﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﯾﺎﺗﺮﯼ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺳﻮﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

قلعہ اور مندروں کا طرزتعمیر

ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺱ ﭘﺮﺍﺳﺮﺍﺭ ﻗﻠﻌﮯ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﻃﺮﺯ ﺗﻌﻤﯿﺮﮐﮯ ﺳﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﮐﭩﺎﺱ ﺭﺍﺝ ﮐﮯ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﺯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﭖ ﮨﮯ، ﺻﺪﯾﺎﮞ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﮑﯽ ﺩﻟﮑﺸﯽ ﻣﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻗﻠﻌﮧ ﮐﭩﺎﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻄﺮﺗﯽ ﺣﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﻭﯾﺪﺍﮞ ﮨﮯ۔

ہندوؤں کے وفود

ﯾﮧ ﮨﻨﺪﻭ ﯾﺎﺗﺮﯼ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﻮﻣﺒﺮ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ

تاریخی مندروں کی کشش

ﺍﻥ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺶ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻻﺋﯽ۔ ﻣﻨﺪﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮩﺎﻥ ِ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﻭ ﺑﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﻦ ﯾﮧ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻣﻨﺪﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ویرانی

ﯾﮧ مندر ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﮭﻨﮉﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﯿﺘﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ تو ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ یوں لگتا ہے کہ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺗﮩﺬﯾﺒﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺭﻭﺷﻦ، ﻣﺎﺿﯽ ﺳﮯ لوٹ کر ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ اور ﺍﭘﻨﯽ ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ عدم توجہی ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮫ ﺭہیں ہیں۔

سات گھرا

مطلب سات مندر تھے اس وقت پانچ موجود ہیں دو کے کچھ آثار باقی ہے۔اور ان کی تعمیر کشمیری مندروں کے طرز کی عکاسی کرتی ہے۔اوریہ ساتویں صدی سے دسویں صدی کے درمیان کی تعمیر یں ہیں۔

واپسی
مندروں میں سیاحوں کی آمدورفت جاری تھی ہم مندروں کے اکثر حصے دیکھ چکے تھے ۔سورج غروب ہونے لگا تھا، مندروں پر اندھیرا چھانے لگا، شب کے اندھیرے نے پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور ہم واپسی کی طرف عازم سفر ہوئے، ہماری سواری پہاڑوں کی بلندی سے زمین کی پستی کی طرف اترنے لگی۔اور ہم ایک گھنٹے کی مسافت پہ اپنی منزل پر بخیر وعافیت پہنچ گئے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں