کیا آنے والے وقت میں پانی گاڑیوں میں متبادل ایندھن کے طور پر استعمال ہو گا ؟؟

کچھ عرصہ قبل اِیجینئیر آغا وقاراحمد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانی سے کار چلانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے ، جسکی کامیاب ڈیمانسٹریشن اس نے جیو ٹی وی پر حامد میر اور اے آر وائی نیوز پر اقرار الحسن کے پروگرام میں دی تھی – مگر بعد میں بیچارے کے ساتھ کیا ہوا اس کا پتا نہیں چل سکا –

پانی سے کار چلانے کا مطلب دراصل پانی کے ایک جزو یعنی ہائیڈروجن سے کار چلانا ہے – پانی سے ہائیڈروجن کو بجلی گزار کر الگ کیا جاتا ہے جس سے پانی دو گیسوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ ہائیڈروجن ایک الیکٹروڈ پر اور آکسیجن دوسرے الیکٹروڈ پر جمع ہونے لگتی ہے اس عمل کو پانی کی برق پاشیدگی کہتے ہیں ۔ ہائیڈرو جن جلنے والی گیس ہے، جبکہ آکسیجن خود جلتی نہیں لیکن جلنے میں مدد دیتی ہے –

بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو ابھی تک توانائی کے حصول کے اس متبادل طریقے پر اتنا کام نہیں ہو سکا مگر ہندوستان میں بہت ساری کمپنیاں موٹر سائیکل اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کو اسی طریقہ کار سے چلانے والے گیس پروڈیکشن پمپ بنا رہی ہیں جس کے استعمال سے فیول ” پیٹرول ، گیس ” کی تیس سے ساٹھ فیصد تک بچت ہو رہی ہے –

مکمل ویڈیو دیکھیں

کچھ عرصہ قبل اِیجینئیر آغا وقاراحمد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانی سے کار چلانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے ، جسکی کامیاب ڈیمانسٹریشن اس نے جیو ٹی وی پر حامد میر اور اے آر وائی نیوز پر اقرار الحسن کے پروگرام میں دی تھی – مگر بعد میں بیچارے کے ساتھ کیا ہوا اس کا پتا نہیں چل سکا –

پانی سے کار چلانے کا مطلب دراصل پانی کے ایک جزو یعنی ہائیڈروجن سے کار چلانا ہے – پانی سے ہائیڈروجن کو بجلی گزار کر الگ کیا جاتا ہے جس سے پانی دو گیسوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ ہائیڈروجن ایک الیکٹروڈ پر اور آکسیجن دوسرے الیکٹروڈ پر جمع ہونے لگتی ہے اس عمل کو پانی کی برق پاشیدگی کہتے ہیں ۔ ہائیڈرو جن جلنے والی گیس ہے، جبکہ آکسیجن خود جلتی نہیں لیکن جلنے میں مدد دیتی ہے –

بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو ابھی تک توانائی کے حصول کے اس متبادل طریقے پر اتنا کام نہیں ہو سکا مگر ہندوستان میں بہت ساری کمپنیاں موٹر سائیکل اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کو اسی طریقہ کار سے چلانے والے گیس پروڈیکشن پمپ بنا رہی ہیں جس کے استعمال سے فیول ” پیٹرول ، گیس ” کی تیس سے ساٹھ فیصد تک بچت ہو رہی ہے –

مکمل ویڈیو دیکھیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں