کیا پاکستان سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والےعسکری اتحاد کو چھوڑ رہا ہے ؟؟

پاکستانی میڈیا میں غیر مصدقہ خبر چل رہی ہے کہ ریٹائرڈ آرمی چیف راحیل شریف سعودی عسکری اتحاد کی سربراہی چھوڑ رہے ہیں – سابق آرمی چیف کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا 39 ممالک کا عسکری اتحاد دہشت گردی کے بجائے کسی ایک ملک کے خلاف ہو سکتا ہے ، اسکے علاوہ انہیں اتحاد میں امریکی مداخلت پر بھی تحفظات ہیں –

روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق پاکستان اس اتحاد کے حوالے سے حدود متعین کرتا رہا ہے تاکہ اس کے منفی اثرات سے بچا جائے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ اپریل میں جب حکومت نے راحیل شریف کو اس اتحاد کی سربراہی کرنے کی اجازت دی تھی تو یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اسلام آباد نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی ہے لیکن ایک سرکاری ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ اس اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا-

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کے مطابق پاکستان کا سعودی عسکری اتحاد میں شمولیت کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ، ہم اتحاد کے کام اور نوعیت کے ٹی آر اوز کے طے ہونے کے بعد ہی پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ کریں گے –

تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان پر یہ بات پہلے دن سے ہی واضح تھی کہ یہ ایک ایران مخالف اتحاد ہے مگر اب اسے چھوڑنا کرنا حیران کن ہے – پاکستانی حکومت بلخصوص میاں نواز شریف ایسے مشکل سیاسی حالات میں سعودی عرب کو ناراض نہیں کریں گے –
راحیل شریف کا اتحاد کو چھوڑنے یا اس پر تحفظات کا اظہار کرنے کا فیصلہ ذاتی ہوسکتا ہے – کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب جانا ریٹائرڈ چیف کا ذاتی فیصلہ تھا اس لیئے وہ صرف حکومت کے کہنے پر واپس نہیں آئیں گے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں