کینسر کو شکست دینے کے بعد رومن رینز کی فاتحانہ واپسی

رومن رینز گزشتہ سال اکتوبر میں لیوکیمیا (خون کے کینسر) کے باعث یونیورسل چیمپئن شپ سے دستبردار اور ریسلنگ سے دور ہوگئے تھے۔

اور اب انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ای میں فاتحانہ واپسی کی ہے۔

فروری کے آخر میں رومن رینز 4 ماہ بعد ڈبلیو ڈبلیو ای را میں واپس آئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ کینسر کے مرض سے نجات پاچکے ہیں اور رنگ میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ای فاسٹ لین میں کینسر کے خلاف جنگ جیتنے والے ریسلر نے زبردست واپسی کی۔

رومن رینز شیلڈ گروپ کا حصہ بن کر بیرن کوربن، بوبی لیشلے اور ڈریو میکنٹائر کے مدمقابل آئے۔

رومن رینز، ڈین امبروز اور سیٹھ رولنز پر مشتمل گروپ شیلڈ کا یہ آخری مقابلہ بھی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ڈین امبروز جلد ڈبلیو ڈبلیو ای کو الوداع کہنے والے ہیں۔

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ای
اسی طرح یہ گزشتہ سال اکتوبر کے بعد یہ رومن رینز کا پہلا مقابلہ تھا تو یہ میچ شیلڈ کے لیے زیادہ خاص بن گیا تھا اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کینسر سے لڑنے کے باوجود ریسلر پہلے جتنے ہی باصلاحیت اور پرجوش نظر آئے۔

میچ کے دوران وہ شیلڈ کے آئیکونک داﺅ ٹرپل پاور بم کا حصہ بنے اور آخر میں بیرن کوربن کو سپرمین پنچ سے چت کرکے کامیابی بھی حاصل کی۔

اس موقع پر رومن رینز اور ان کے ساتھی کافی جذباتی نظر آئے اور مداحوں نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔

فوٹو بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ای
ایک ٹوئٹر صارف نے اس پر لکھا ‘رومن کے چہرے پر مسکراہٹ نے اس پورے مقابلے کو بہتر بنادیا ‘۔

اسی طرح متعدد افراد نے کہا کہ انہیں رومن رینز کی واپسی اور ان کی خوشی دیکھ کر اچھا محسوس ہورہا ہے۔

ایک مداح نے لکھا کہ رومن رینز کی مسکراہٹ نے سب کچھ کہہ دیا جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ رومن رینز کی خوشی سے پتا چلتا ہے کہ کینسر کو ہرانے کے بعد ان کے لیے رنگ میں لوٹنا کتنا اہمیت رکھتا ہے۔

33 سالہ ریسلر کو متاثر کن پرفارمر بھی قرار دیا گیا جنہوں نے کینسر جیسے مرض کو شکست دے کر فاتحانہ انداز سے رنگ میں واپسی کی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں