گستاخان رسول سے محبت کیوں؟

نواز شریف نے 2013 کے انتخابات سے پہلے عاصمہ جہانگیر کا نام پنجاب کی وزات اعلی کے لیے پیش کیا۔ جیسے ہی اقتدار ملا تو عاصمہ جہانگیر نواز شریف کی خصوصی رفقا میں شامل ہوگئیں!عاصمہ جہانگیر گستاخاںنرسولۖ کی پاکستان میں سب سے بڑی وکیل ہیں اور ایسے لوگوں کا کیس مفت لڑتی ہیں۔ وہ گستاخی رسول والے قانون کی بدترین مخالف ہیں اور خود اللہ ۖ کی شان میں گستاخی کر چکی ہیں۔
1984 میں اس ملعون عورت نے رسول اللہ ۖ کے لیے مبینہ طور پر ” جاہل ” لفظ استعمال کیا تھا جس پر اس کے خلاف احسن اقبال کی والدہ محترمہ فاطمہ نثار نے قومی اسمبلی میں تحریک بھی چلائی تھی۔
اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے ” لبرل پاکستان ” بنانے کا اعلان کیا اور پہلا کام یہ کیا کہ ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ لیکن ساتھ ہی آسیہ معلونہ کی پھانسی پر عمل درآمد رکوا دیا جس کو عدلیہ گستاخی کے جرم میں سزائے موت سنا چکی ہے۔
جب سوشل میڈیا پر نواز شریف پر تنقید تیز ہوئی تو اسکی روک تھام کے لیے فورا سائبر کرایم بل پاس کیا اورتنقید کرنے والوں کو سخت وارننگز دیں۔ لیکن اسی اثنا میں رسول اللہ ۖ کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں پر مکمل خاموشی اختیار کی۔
یہ گستاخیاں جب حد سے بڑھ گئیں تو کچھ لوگوں کی ذاتی کوششوں پر بلاآخر ایف آئی اے اپنے طور پرحرکت میں آئی اور گستاخیاں کرنے والیچند مشہوری ملعونوں کو اٹھا لیا۔
لیکن ان گرفتاریوں کے خلاف جیو چینل، ڈان نیوز ( پرو نواز شریف چینلز )اور پاکستان میں متحرک مختلف سماجی تنظمیوں نے طوفان برپا کر دیا۔ نواز شریف کے حکم پر چودھری نثار نے نہ صرف فوری طور پر حکومت کی طرف سے ان گرفتاریوں سے اظہار لاتعلقی ظاہر کی بلکہ ان کو بازیاب کرانے کا بھی وعدہ کیا جس کے چند دن کے بعد ہی وہ سارے گستاخ اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان پر ہاتھ ڈالنے والوں سے جواب طلب کیا گیا!
بلاآخر تنگ آکر لوگوں نے گستاخوں کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا اور اللہ رحم فرمائے جسٹس شوکت صدیقی پر جس نے اس کیس کی فوری سماعت کا فیصلہ کر لیا۔ تب انکشاف ہوا کہ وقاص گورایا اور سلمان حیدر سمیت تمام گستاخوں کو نہایت خاموشی سے پاکستان سے نکال دیا گیا ہے۔
جسٹس صاحب نے وزیرداخلہ کو عدالت میں طلب کیا تو اس نے عدالت آنے سے معذوری طاہرکی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے گستاخون کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دیا تو حکومتی دبا پر وہ ایف آئی آر ” نامعلوم ” افراد کے خلاف کاٹی گئی۔ روزنامہ امت کے مطابق پولیس پر حکومتی دبا آیا اور یوں مشہور شاتمین رسول کو صاف بچا لیا گیا۔ ( اسد کھرل اور عامر لیاقت کے مطابق وہ ایف آئی آر اس تھانے کے انسپکٹر ابڑو صاحب نے ذاتی طور پر کاٹی ہے حکومت ایف آئی آر بھی نہیں کٹوا رہی تھی)عدلیہ نے گستاخی پر مبنی پیجز بند کرنے کا حکم دیا تو پی ٹی اے کی طرف سے یہ نرالی منطبق پیش کی گئی کہ ” فیس بک کے ڈیڑھ ارب پیجز ہیں گستاخانہ پیجز چھاننے میں وقت لگے گا اس لیے اس حکم پر فوری عمل نہیں ہوسکتا یعنی جو پیجز سامنے ہیں ان کو ہاتھ بھی نہیں لگانا ۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پی ٹی اے پر نواز شریف حکومت کا دبا ہے وہ پیجز بند نہیں کریگی۔
نواز شریف کی نہ صرف آل اولاد اور ساری دولت ان کے پاس محفوظ ہے جہاں گستاخان رسول پناہ لے چکے ہیں بلکہ خود اپنی ذاتی بقا کے لیے بھی اسکا انحصار انہی قوتوں پر ہے۔ بھلا ان سے اپنی وفاداری کیوں ثابت نہیں کرینگے ؟
ڈان لیکس اور پانامہ لیکس کے حوالے سے یہ بات مسلم لیگیوں کی جانب سے بارہا دہرائی جا چکی ہے کہ اگر نواز شریف کو کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو ” امریکہ پاکستان کو تورا بورا بنا دے گا اور انڈیا حملہ کر دے گا ” ۔۔۔۔
کیا واقعی اللہ اور اسکے رسول کے دشمنوں کی مدد و حمایت ان کو رسوائی سے بچا لے گی ؟
ویسے بھٹو بھی سیکولر تھا۔ اسفند یار اور الطاف حیسن بھی سیکولر ہیں جبکہ فضل الرحمن انکا اتحادی ١ورجمہوریت ہماری جان اور مال کے بعد ایمان کی بھی دشمن بنی ہوئی ہے۔

بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس گھٹن دور میں ہمیں اسلام پر سلامتی اور اہل گستاخوں کے خلاف آپنی تمام صلاحتیں نچاور کرنے کی توفیق مرمت فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین۔

تحریر: جنید رضا
متعلم ,جامعہ بنوریہ عالمیہ،سائٹ کراچی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں