ہرپاکستانی ایک لاکھ روپے کا مقروض، ہم وطنوں کے لیے لمحہ ِفکریہ

کہاوت ہے:’’اچھے دنوں کی امید رکھو اور برے دنوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر تیار رہو۔‘‘

ناسازگار حالات سے نپٹنے کی تیاری کے پیش نظر پچھلے دنوں اخبارات میں یہ افسوس ناک خبر پڑھنے کو ملی کہ دنیا میں آنے والا ہر پاکستانی بچہ دھرتی پر قدم دھرتے ہی ایک ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض بن جاتا ہے تو اسے پڑھ کر دھچکا سا لگا کیونکہ ہمارے معاشرے میں قرض لینے والے کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔ حکما کا تو کہنا ہے کہ قرض لینے سے بہتر ہے کہ انسان بھوکا سو جائے۔

بعض دانش ور قرضدار کو ایک قسم کا غلام سمجھتے ہیں۔ بعض علاقوں کے نزدیک قرض لینے کا مطلب اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دینا ہے۔جدید مورخین کے خیال میں قرضہ اب استعماری قوتوں کا مہلک ترین ہتھیار بن چکا۔ ماضی میں یہ قوتیں بزور کمزور ممالک پر قبضہ کر وہاں کے وسائل کی لوٹ مار کرتی تھیں۔ اب یہ قوتیں چھوٹے ممالک کوقرض دے کر اپنا زیردست بناتی اور سود لے کر ا ن کا لہو نچوڑتی ہیں۔ وطن عزیز میںقرضوں کی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے‘ تو اسی دلیل میں دم نظر آتا ہے۔

ستر سال پہلے جب پاکستان معرض وجود میں آیا‘ تو قرض کی لعنت سے پاک تھا۔ چار برس بعدامریکی استعمار کا نمائندہ ‘ عالمی بینک آ پہنچا۔ اس نے ترغیبات، ’’لارے لپے‘‘ دے کر اور سہانے خواب دکھا کے پاکستان حکومت کو ابھارا کر وہ قرضہ لے۔ پاکستانی حکومت دام میں پھنس گئی۔ چنانچہ عالمی بینک پاکستان کو ساڑھے تین کروڑ ڈالر بطور قرض دینے میں کامیاب ہوگیا۔ اس قرضے سے پاک ریلوے کا ایک منضوبہ شروع ہوا۔

عالمی بینک المعروف بہ ورلڈ بینک نے حکومت پاکستان کو یقین دلایا تھا کہ قرضوں کی رقم سے غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ حالانکہ انگریزوںہی کی مشہور ضرب المثل ہے : ’’قرضہ ایک قسم کی بدترین غربت ہے۔‘‘ بہر حال پاکستانی حکومت پہلا قرضہ لینے کے بعد وطن میں غربت ختم کرنے کی خاطر عالمی مالیاتی اداروں اور مقامی بینکوں سے پے در پے قرضے لینے لگی۔ اس روش نے ممکن ہے پاکستان میں کچھ حد تک غربت کم کر دی۔ مگر یہ سچائی اظہر من الشمس ہے کہ قرض خوری نے حکومت کے ایک طبقے کو امیر و بااثر بنا دیا۔ انہی قرضوں کے باعث وطن عزیز میں ’’کمیشن‘‘ ’’کک بیکس‘‘ اور ’’خفیہ پے منٹس‘‘ جیسی اصطلاحوں کا چلن شروع ہوا۔

قرضوں کی رقم سے جو سرکاری ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے ، نجی شعبے کے کرپٹ طبقے نے بھی ان میں کرپشن کی اور مال بنا لیا۔پاکستان کے حکمران طبقے کو رفتہ رفتہ قرضے لینے کی چاٹ پڑ گئی۔ دراصل یوں نہ صرف انہیں اپنے اللّے تللّے پورے کرنے کے لیے وافر رقم مل جاتی بلکہ وہ اپنے پیاروں کو بھی کھل کر نواز سکتے تھے۔ قرضوں کی رقم کا معمولی حصہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی لگ جاتا تاکہ غریب پاکستانیوں کا بھی کچھ بھلا ہوتا رہے۔ اسی طرح عوام الناس انہیں اپنا نجات دہندہ بھی سمجھتے رہتے۔

امریکہ کا رہائشی جان پرکنزبزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کئی سال عالمی مالیاتی اداروں مثلا! عالمی بینک‘ آئی ایم ایف وغیرہ سے منسلک رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2004ء میں پرکنز نے ایک انگریزی کتاب’’Confessions of an Economic Hit Man‘‘ لکھی اور اس میں عالمی مالیاتی اداروں کے طریق واردات کو تفصیل سے بیان کیا۔ پرکنز نے انکشاف کیا کہ ان اداروں نے ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو ایسے ترقیاتی منصوبے بھی بناکر پیش کیے جن کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ یعنی ان سے عوام کو کسی قسم کا فائدہ نہ پہنچتا… ان کو محض قرض دینے کی خاطر معرض وجود میں لایا گیا۔

حیرت انگیز بات یہ کہ تیسری دنیا کے حکمران ان منصوبوں کی خامیاں جانتے بوجھتے بھی انہیں قبول کر لیتے۔ گویا قرض دے کر عالمی مالیاتی ادارے پھلتے پھولتے رہے اور قرضے لے کر حکمران طبقے کی دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ضرورت پڑنے پر ادھار رقم لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔لیکن کوئی حکومت مالیاتی اداروں سے قرضے لے‘ تو اس رقم سے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے مثبت اثرات سامنے آنے چاہیں یعنی غربت و بیروزگاری کا خاتمہ! لیکن تیسری دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں حکومتیں اربوں ڈالر کا قرض لینے کے باوجود اپنے معاشروں میں مثبت اثرات نہ لا سکیں۔ آج بھی وہاں غربت و بیروزگاری کا دور دورہ ہے۔ البتہ قرضوں کی رقم نے ایک مخصوص طبقے کو پہلے سے زیادہ دولت مند اور بااثر ضرور بنا دیا۔

پاکستان کی مثال لیجیے۔ آج پاکستان پر ’’23کھرب ایک سو چالیس ارب روپے‘‘ کا قرض چڑھ چکا ۔ اس قرض میں سے 7کھرب آٹھ سو ارب روپے (74ارب ڈالر) عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی ممالک کے ہیںجبکہ بقیہ قرضے مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروںنے دے رکھے ہیں۔(یاد رہے‘ ایک کھرب روپے ایک ہزار ارب روپے کے برابر ہے)۔ حکومت پاکستان ہر سال اس دیوہیکل قرض کا سود بمشکل اربوں روپے کی صورت ادا کرتی ہے۔ حقیقتاً ہمارے سالانہ بجٹ کا بیشتر حصہ قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔گویا عوام الناس کی تقدیر بدلنے و سنوارنے والے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی خاطر بہت کم رقم بچتی ہے۔

قارئین کو یاد ہو گا‘ 1998ء میں برسر اقتدار آ کر وزیراعظم نواز شریف نے خودانحصاری کی راہ پر چلنے کے لیے قرضے نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ مگر بووجوہ وہ اس فیصلے پر قائم نہ رہ سکے۔ 2013ء میں اقتدار سنبھال کر بھی نواز شریف حکومت نے عالمی و ملکی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی روش جاری رکھی۔

یہی وجہ ہے‘ پاکستان پر چڑھے قرضوں کا عدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ گویا آج ہر نوزائیدہ پاکستانی بچہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہے‘ تو مستقبل میں جنم لینے والے بچوں پر لاکھوں روپوں کا قرض چڑھا ہو گا۔ آنے والی مقروض پاکستانی نسلیں اپنی حالت زار کا ذمہ دار حکمرانوں کو ہی قرار دیں گی۔ وطن عزیز کو مقروض کرنے میں کھاتے پیتے پاکستانیوں کا بھی اہم کردار ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق بیس کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف دس لاکھ پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں۔ یہ کل آبادی کا صرف ’’0.50‘‘ فیصد حصہ بنتا ہے۔

بھارت میں یہ عدد 1.5فیصد ‘ بنگلہ دیش میں 3 فیصد اور سری لنکا میں 38 فیصد ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو تقریباً ہر کمائی کرنے والا ایمان داری سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بیشتر کمانے والے ٹیکس بچانے کی خاطر مختلف حیلے بہانے ایجاد کر چکے۔کئی امیر پاکستانی اپنی حکومت کو ناقابل اعتماد سمجھ کر ٹیکس نہیں دیتے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو دی گئی رقم سیاست دانوںیا سرکاری افسروں کی تجوریوں میں ہی جائے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب پاکستانی ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟حکومت کو پھر اپنے اخراجات پورے کرنے کی خاطر مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ یوں وہ قرض لینے اور اتارنے کے ایسے چکر میں پھنس جاتی ہے جس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جو شہری زیادہ کمائی کرے‘ وہ اتنا ہی زیادہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ اکثر مغربی ممالک میں امیر شہری تو اپنی 50 فیصد کمائی تک خوشی خوشی حکومت کو دے ڈالتے ہیں لیکن پاکستان میں الٹا پہیہ چل رہا ہے۔ بہت سے امیر پاکستانی ایک عام پاکستانی شہری سے بھی کم ٹیکس دیتے ہیں۔ امرا کے ٹیکس نہ دینے سے سب سے زیادہ نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔ وہ اس طرح کہ حکومت اپنی آمدن بڑھانے کی خاطر عوام پر نت نئے ٹیکس لگا دیتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک پاکستانی بازار سے کوئی بھی شے خریدے‘ تو اسے سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔کئی اشیاء کے لین دین پر ایڈوانسڈ ٹیکس‘ کیپٹل ویلیو ٹیکس ‘ ودہولڈنگ ٹیکس وغیرہ ادا کرنا ہوتاہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی حکومت مختلف ٹیکس ڈال دیتی ہے۔ غرض حکومت نے عوام الناس بلکہ غریب پاکستانیوں کی جیبوں سے بھی رقم نکلوانے کی خاطر ایک ظالمانہ نظام ایجاد کر لیا۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حکمران تو قرضے لے کر عیش کرتے ہیں‘ جبکہ قرضوں کی واپسی کے واسطے عوام کو کولہو کا بیل بنا دیا جاتا ہے۔ بعض دانش وروں کا یہ بھی دعوی ہے کہ پاکستان کی تمام معاشی پالیسیاں قرضے دینے والی قوتیں بناتی ہیں۔ گویا مقروض ملک مملکت ہونے کے ناتے پاکستان قرضہ دینے والی قوتوں کا غلام بن چکا ہے ۔

پاکستان کی معیشت کئی چھوٹے بڑے مسائل میں گرفتار ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ارسال کردہ رقوم بھی ایک جگہ منجمند ہیں۔ اُدھر قرضوں کے سود کی رقم بڑھتی جا رہی ہے۔ مستقبل میں خدانخواستہ تیل کی قیمت بڑھ گئی‘ تو ملک میں مہنگائی آسمان پر جا پہنچے گی۔ تب پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف یا کسی اور مالیاتی ادارے کا در کھٹکٹا نا پڑے گا تاکہ دیوالیہ ہونے سے بچا سکے۔

حکومت وقت نے سی پیک منصوبے سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔اسے امید ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان میں معاشی خوشحالی لے آئے گا۔ تاہم اس منصوبے کے ناقد سکے کا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں۔ ان کا سب سے خطرناک دعویٰ یہ ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کو مزید اربوں ڈالر کا مقروض بنا دے گا۔ٹاپ لائن سیکورٹیز کراچی کی ایک ممتاز بروکیج فرم ہے ۔ اسی سے منسلک معاشیات داں مختلف معاشی موضوعات پر تحقیقی رپورٹیں مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے سی پیک منصوبے پر بھی ایک تحقیقی رپورٹ مرتب کی جو وسط مارچ 2017ء میں منظر عام پر آئی۔ اسی رپورٹ کی رو سے سی پیک منصوبہ پاکستان کو ’’90ارب ڈالر‘‘ میں پڑ سکتا ہے ۔

یاد رہے ‘ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں پیسنٹھ سے زائد ذیلی منصوبے جاری ہیں۔ یہ ذیلی منصوبے سڑکوں اور شاہراؤں کی تعمیر ‘ بجلی گھروں کی تنصیب ‘ بندرگاہوں کی بحالی اور سپیشل انڈسٹریل زونز بنانے سے متعلق ہیں ۔ان منصوبوں پر 50سے 55ارب ڈالر کے مابین خرچ آئے گا۔چین کے مالیاتی ادارے 55ارب ڈالر میں سے بیشتر رقم فراہم کریں گے۔

اسی رقم کا بڑا حصّہ قرضوں پر مشتمل ہے۔ چناںچہ ٹاپ لائن سیکورٹیز کے ماہرین کا دعوی ہے کہ ان قرضوں کے سود کی ادائیگی اور دیگر اخراجات پر تیس سال میں پاکستان40 سے 35ارب ڈالر کے مابین رقم خرچ کرے گا۔سی پیک منصوبے کے ناقدین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ معاشی کی نسبت جغرافیائی وعسکری لحاظ سے تزویراتی اہمیت زیادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے بیشتر کارخانے اور کمپنیاںبحیرہ جنوبی چین کے قریب واقع ہیں۔ لہٰذا ان کو بذریعہ سمندر اپنا مال بجھوانا اور منگوانا سستا پڑتا ہے۔ پاکستان کے راستے سڑک یا بذریعہ ریل اپنا مال بجھوانا انہیں مہنگا پڑے گا۔ یہ راستہ اسی صورت قابل عمل ہے کہ امریکا بحیرہ جنوبی چین اور ملحق سمندری راستوں کی ناکہ بندی کر دے۔

گویایہ نظریہ اجاگر کرتا ہے کہ چین کو سی پیک منصوبے سے معاشی فائدہ کم ہو گا‘ وہ بس تجارت کے متبادل اور محفوظ راستے کی تلاش میں ہے۔ پاکستانی حکومت نے سی پیک منصوبے میں اسی لیے دلچسپی لی کہ چین کی صورت اسے طاقتور اتحادی مل جائے گا۔ تب بھارت کے لیے پاکستان کو خفیہ وعیاں جنگوں میں شکست دنیا آسان نہیں رہے گا۔ چین سی پیک منصوبے اور اپنی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کر سکتا ہے۔

سی پیک منصوبے پر ہونے والی تنقید اپنی جگہ‘ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے وابستہ ذیلی منصوبے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ نیز وسیع پیمانے پر سرمایہ بھی گردش میں آئے گا۔ ان عوامل کی بنا پر غربت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ غرض سی پیک منصوبہ ہر منصوبے کی طرح فوائد اور خامیاں‘ دونوں کا حامل ہے۔ اسی کی بڑی خامی یہی ہے کہ یہ پاکستان پر قرضوں کا مزید بوجھ لاد دے گا۔

یہ بوجھ کم کرنے کی خاطر ہمارے حکمران کئی اقدامات کر سکتے ہیں۔ مثلاً سرکاری اخراجات گھٹالیے جائیں۔ پاکستانی عوام آئے دن اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں دورے پر اتنے کروڑ روپے خرچ ہو گئے۔ وزیراعظم ہاوس اور قصر صدارت کا خرچ اتنے کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس قسم کے شاہی خرچے کیا قرضوں میں جکڑی مملکت کے حکمرانوں کوزیب دیتے ہیں؟

حال ہی میں پاکستان نے سوئس بینکوں میں محفوظ پاکستانیوں کی غیر قانونی رقوم تک پہنچنے کے لیے سوئٹرزلینڈ سے معاہدہ کیا ہے۔ 2014ء میں وفاقی وزیر خزانہ نے انکشاف کیا تھا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے ’’200ارب ڈالر‘‘ غیر قانونی طور پر جمع ہیں۔ اگر حکومت پاکستان اس رقم کا محض پچاس فیصد حصہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے‘ تو وطن عزیز کم از کم بیرونی قرضوں سے نجات پاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں پہاڑ جیسے قرضوں کا محض سود ہی ہمیں زبردست معاشی بحران میں گرفتار کرا دے گا۔ اہل پاکستان کو یہودی بنیوں کی یہ ضرب المثل یا رکھنی چاہے:’’سود دنیا کا واحد پودا ہے جو بارش کے بغیر بھی نشوونما پا تا رہتا ہے۔‘‘

تحریر: سید عاصم محمود

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں