ہم قلم کار (روفی سرکارؔ )

اپنے ذہن میں ایک خیال کو جنم دینا اور پھر اُسے موزوں الفاظ کا پیرہن پہنا کر دنیا بھر کی تنقید ی نظروں کے سامنے پیش کر دینا بلا شبہ کوئی عام بات نہیں ہے مگر کبھی ہم نے سوچا کہ کیا ہم اپنا خُون محض چند کلماتِ تحسین یا تھوڑے سے مالی نفع کے لیے جلاتے ہیں؟ کیا یہ جنس اتنی ارزاں ہے کہ معمولی فوائد کے عوض اسے نیلام کر دیا جائے ؟ یہ سب جاں فشانی ، مشقت اور تگ و دو آخر کس لیے ؟
ہماری اس ساری تگ و تاز کا مقصد ہمیں خالقِ کائنات بتا سکتا ہے یا ہمارا ضمیر ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ ہمارا ضمیر کہتا ہے کہ ہمیں یہ ذمہ داری اس لئے سونپی گئی ہے کہ ہم اپنی تمام فکری و عملی کاوشوں کے ذریعے معاشرتی بہتری کی طرف راستہ بنائیں۔ لوگوں کے خیالات و رحجانات کو مثبت راہ پر ڈالنے کے لئے تمام ہمت بروئے کار لائیں اور پھر ان کاوشوں کا نتیجہ اس کریم ذات پر چھوڑ دیں جو دلوں کے حال اور نیتوں سے بخوبی واقف ہے۔
ہمارا مقصد محض الفاظ کا ہیر پھیر نہیں بلکہ الفاظ کو وسیلہ بنا کر زندگی کی حقیقتوں کو منکشف کرنا ہے تا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے پہلو نکل سکیں۔ہمارا مقصد صاحبِ کتاب بننا نہیں بلکہ بنی نوع انسان کو کتابِ لاریب میں موجود علم و حکمت کے موتیوں پر عمل کرنے کی طرف مائل کرنا ہے تا کہ سماج میں مثبت تبدیلی آ سکے۔ ہمارا مقصد دولت و شہرت نہیں بلکہ لوگوں میں شعور کی بیداری ہے تا کہ دولت اور وسائل کے منصفانہ استعمال کا احساس پیدا ہو سکے۔ ہمارا مقصد کانفرنسز میں مہمان خصوصی بننا نہیں بلکہ تمام بنی آدم کو خصوصی سمجھنے کی راہ ہموار کرنا ہے تا کہ سماج سے آقا و غلام کے فرق کو مٹایا جا سکے۔
ہمارا مقصد سیاست دانوں پر کیچڑ اچھالنا نہیں بلکہ سیاسی شخصیات اور اداروں میں موجود خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی ہے جن کے رویے کی وجہ سے سیاست گندی گالی بن کر رہ گئی ہے۔ہمارا مقصد مذہب پر تنقید نہیں بلکہ مذہب کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں کو بے نقاب کرنا ہے، جنہوں نے اپنے ذاتی، جماعتی اور مسلکی مفادات کے لیے مذہب کا نام استعمال کیا۔ ہمارا مقصد عسکری اداروں کا مورال ڈاؤن کرنا نہیں بلکہ ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان میں سے ایسے عنا صر کا خاتمہ کیا جائے جو ایک طرف تو مختلف گروہوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور دوسری طرف سیاست میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔
ہماری کسی بھی شعبے کے افراد سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے چاہے وہ ڈاکٹرز ہوں یا اساتذہ کرام، پولیس والے ہوں یا عدلیہ کے معزز اراکین یا پھر ہماری اپنی صحافتی برادری کے افراد ہوں، ہم تو تمام شعبہ ہائے زندگی سے کرپٹ عناصر کے خاتمے کے لیے مثبت تعمیری تنقید کرتے ہیں۔ہمارا مقصد خدانخواستہ یہ نہیں کہ ہم اپنے ملک، اپنے اداروں یا اپنے ملک کے باسیوں کی تضحیک کریں۔ ہمارا مشن تو یہ ہے کہ اس ملک سے کرپشن و نا انصافی کا خاتمہ ہو، ادارے اپنا کام ملکی قوانین کے تحت کریں اور ذمہ دار افراد اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے ایمانداری سے نبھائیں اور رشوت و سفارش جیسی لعنت سے دور رہیں تاکہ سماج میں بہتری آئے اور ہمارا پیارا وطن ترقی کرے۔ ہمارا مقصد بس اتنا ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس کے بدلے میں کسی ستائش یا صلے کی تمنا نہ کریں۔
ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے قلم پہ برائے فروخت کا بورڈ نہیں لگائیں گے، اپنے افکار کو نیلام نہیں کریں گے اور ہمیشہ خُدا اور اپنے ضمیر کو جواب دہ رہیں گے۔
؂میں صدق کا راوی ہوں مجھے فخر ہے اس پہ
میرا یہ قلم شہ کے قصیدے نہیں لکھتا۔۔
(روفی سرکار)
اپنے ذہن میں ایک خیال کو جنم دینا اور پھر اُسے موزوں الفاظ کا پیرہن پہنا کر دنیا بھر کی تنقید ی نظروں کے سامنے پیش کر دینا بلا شبہ کوئی عام بات نہیں ہے۔

تحریر: روفی سرکارؔ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں