ہندوستانی جاسوس نیول آفیسر کلبھوشن یادو کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نمائندگی کرنے والے قانونی ماہرین کی طرف سے ہندوستان کی طرف سے دائر کیئے گئے کلبھوشن یادو کیس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت انصاف یا آئی سی جے کو اس مقدمے کی سماعت کا کوئی اختیار ہی نہیں کیونکہ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں پاکستان مخالف سرگرمیاں پاکستان کی ’قومی سلامتی‘ اور اس سے متعلقہ ملکی قوانین کے دائرہ اثر میں آتی ہیں –
پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادو کو صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے اور جاسوسی کے جرم میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل یعنی آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا کر گزشتہ ماہ موت کی سزا سنائی تھی –

بلوچستان سے پکڑا گیا ہندوستانی جاسوس نیول آفیسر کلبھوشن یادو

اس سزا کے خلاف بھارتی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک اپیل دائر کر دی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی گئی سزائے موت غلط ہے جس اب کاروائی شروع ہو چکی ہے –

اس مقدمے میں پاکستان کی قانونی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی اور ہندوستان کی طرف سے سینیئر وکیل ہریش سالوے عالمی عدالت انصاف میں نمائندگی کر رہے ہیں –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں