ہندو بنیے کی کھیل دشمن پالیسیاں

کھیل اور کھلاڑی ہمیشہ سے ہی امن کا ذریعہ رہے ہیں ماضی اس طرح کی داستان سے بھرا ہوا ہے۔ آج چاہے وہ کرکٹ ہو،ہاکی یا دیگر کھیل بھارت ہمیشہ سے ہی پیسوں کی ہوس میں مبتلا رہا ہے اور سیاست کو کھیلوں سے وابستہ رکھا ہے.
گیم آف جینٹلمین کے لفظ پر بھارتی کھلاڑی تو کم و بیش پورے اترتے ہیں مگر بورڈز کے سربراہوں کی ڈکشنری میں ایسا لفظ ابھی تک درج ہی نہیں ہوا اسی لئے بھارتی بورڈ کے سربراہان کی من مانیاں جاری رہتی ہیں. کبھی ویزوں کا مسئلہ تو کبھی کوئی ایشو بنا کر پاکستانی کھیلوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی سرزمین پر ہونے والے انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت سے روکنے کیلئے ہر طرح کے حربے اپنائے رہے ہیں. حال ہی میں ایشین سکوائش چمپیئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کرنا اور اسی طرح اگلے ہفتے بھارت ہی میں شروع ہونے والی ایشین ریسلنگ چمپیئن شپ میں پاکستانی ریسلرز پر شرکت کے دروازے بند کرنا، کچھ ماہ قبل جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کو میگا ایونٹ کی دوڑ سے دور رکھنا اور اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی دستے کی شرکت کی محرومی بھی بھارتی بورڈز کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے .
اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ برس بھارت میں شیڈول ہاکی ورلڈکپ کے لئے اگر پاکستانی ہاکی ٹیم نے کوالیفائی کرلیا تو کیا تب بھی دولت کے پجاری بھارتی بورڈ پاکستانی ہاکی ٹیم کی راہوں میں کوئی مشکلات حائل کرےگا؟ یہ کہنا یقینآ قبل از وقت ہوگا لیکن ماضی کی پاکستان دشمنی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع عبث‌نہیں.
اب بات کرکٹ کی تو 2014 میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے بگ تھری کی شکل میں جو جوا کھیلا تو تھا آج وہی اسی کیلئے درد سر بن گیا ہے جن بورڈز کو بی سی سی آئی نے لالی پاپ دیا تھا آج وہی اسکے خلاف بول پڑے اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی رنگین باغ دکھانے والا خود دلدل میں پھنس گیا ہے بگ تھری کے خاتمے کے بعد اب بھارتی کرکٹ بورڈ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے حقیقی ممعنوں میں اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور وہاں کی سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے پاس ہے۔
بگ تھری کے معاملے میں منہ کی کھانے کے بعد کمیٹی میں موجودہ اراکین نے رواں ماہ جون میں منعقدہ چمپیئن ٹرافی سے بائیکاٹ کی د ھمکیاں دینا شروع کردیں تو اس بورڈ کے کئی ارکان میں آپس میں ہی اختلاف شروع ہو گئے کیونکہ منی ورلڈکپ سے بائیکاٹ بھارتی کرکٹ کو کافی نقصان پہنچائے گا اور شاید 2023 تک آئی سی سی کے ایونٹس سے بھی دور کردے گا اور عالمی کرکٹ میں بھارت اکیلا رہ جائے گا ۔
بگ تھری کے خاتمے کے سبب سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو ملنے والی آمدنی بھی کافی کم ہوجائے گی اور عالمی کرکٹ پر اس کے اثرورسوخ بھی کم ہوجائیں گے جو کہ بھارتی بورڈ ہرگز نہیں چاہتا اسی لئے اتوار کو ہونے والی آئی سی سی کی جنرل میٹنگ میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھا جائے گا اور امید تو یہی ہے کہ چمپیئن ٹرافی سے بائیکاٹ کی دھمکی والی بات کو بھارتی کرکٹ بورڈ عملی جامہ نہیں پہنانے گا مزید جو کچھ اس معاملہ میں آمدورفت ہوگی وہ تو سب کے سامنے آجائے گی ۔
دراصل عسکری اور سیاسی محاذوں پر منہ کی کھانے کے بعد بھارت اب کھیل دشمنی پر اتر آیا ہے اور کھیلوں کی عالمی تنظیموں میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی مقابلوں سے دور رکھنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور مستقبل میں بھی بھارت کسی نہ کسی طرح پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی مقابلوں سے دور رکھنے کی مذموم کوششیں جاری رکھے گا اب کس طرح پاکستانی حکومت اور موجودہ بورڈز بھارت کو اسکا جواب کیسے دیتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔

تحریر: فیض‌رسول ہاشمی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں