ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

ہمارے دن کا آغاز اور اختتام ایک تماش بین کی صورت میں ہوتا ہے۔ہماری زندگی کا سفر محض تماشہ دیکھنے ،تماشہ بننے ،اور تماشہ موت کی آغوش میں جانے کا عمل بن چکا ہے۔90فیصد لوگ اپنے شب و روز اسی نہج پر گزارتے ہیں 8فیصد لوگ ان تماشوں پر غور کرتے ہیں ۔ان تماشوں کی مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہیں۔دل خراش معاشرتی تماشوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں لیکن عملی طور پر ان تماشوں کو روک نہیں پاتے یا تو وہ بے بس ہیں یا پھر محو تماشہ ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں۔البتہ 2فیصد لوگ ایسے ہیں جو آگے بڑھتے ہیں ،خوں ریز تماشہ بند کرواتے ہیں۔انہی لوگوں کی وجہ سے یہ کرہ ارض مکمل طور پر تباہی کی نذر ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ چونکہ ان کی تعداد کم ہے لہذٰا یہ سحر انگیز خونی تماشے دنیاکے کسی نہ کسی علاقے میں جاری رہتے ہیں۔فسادی اپنا کام کر جاتے ہیں اور روکنے والے ہاتھ اکثر اوقات وہاں تک پہنچنے میں دیر کر دیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایک بڑا تماشہ دنیا کو دکھا یاگیا۔ہم سب نے اربوں روپے کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ ہوتے دیکھا۔ ایک اسلحہ
بیچنے والا ملک جو کہ دنیا میں خود کو نسل انسانی کا سب سے بڑا دوست ثابت کرنے کے لیے دن رات مصروف کار نظر آتا ہے۔ یہ ملک دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دنیا کے امن و سکون کی خاطر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گا۔ یہ ممکنہ حد کیا ہیں؟کبھی عراق پر کیمیکل ہتھیار بنانے کا جھوٹا الزام لگا کر لاکھوں مسلمانوں پر گولہ بارود برسا کر انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور ہزاروں مسلمانوں کو معذوربنا دیا۔کبھی اسرائیل کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کر کے فلسطینی مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا تو کبھی داعش اور طالبان کو اپنے ہاتھوں پال کر ان کے ذریعے حیات انسانی کو بندوق کی ایک گولی سے بھی ارذاں کر دیا۔پھر انہی طالبان و داعش کو مارنے کے لیے مسلمان ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کا داعی ملک ہی دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ بنانے والا بیچنے والا اور دوسروں پر بے دریغ استعمال کرنے والا ملک ہے۔
ایک تماشہ تو ہے اسلحہ بیچنے والے کا دوسرا تماشہ اس اسلحہ کو خریدنے والے کا ہے ۔ اس فتوے والی سرزمین کا جس نے اسلام کی اپنے شاہی قوانین سے تشریح کی۔جس کی تدریس کی تشریح کرنے والے آئے دن ہم کم فہم مسلمانوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ یہودو نصاریٰ کی مارکیٹ میں بکنے والے مشروبات اور عام استعمال کی چیزیں خریدنے سے ہم ان کے کاروبار کو فروغ دے کر انھیں مالی طور پر مستحکم کرتے ہیں جو کہ اسلام دشمنی ہے۔غالباًیہ اربوں کا اسلحہ خرید کر امریکی اسلحہ سازفیکٹریوں کو جو منافع پہنچایا گیا ہے اس کا مقصد اسلامی دفاع کو مضبوط کرنا ہے یہ اسلحہ خریدنے والے کا تماشہ ہے۔
اسلحے کی تجارت اگر فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے اور یہودیوں کو دھمکانے کے لیے کی گئی تو اس سے بڑھ کر ایک عرب مسلم ملک دوسرے عرب مسلم ملک کے لیے کیا کرسکتا ہے ۔اگر یہ اسلحہ امریکہ کو خبردارکرنے کے لیے خریداگیا کہ وہ آئندہ عراق، شام،لیبیا،ا فغانستان یا کسی اور اسلامی ملک پر جنگ مسلط کرنے پر بھیانک نتائج کے لیے تیار رہے تو سعودی حاکم کی یہودونصاریٰ سے کی گئی اس تجارت پر ہم ہدیہ کے طور پر جزاک اللہ ہی کہہ سکتے ہیں۔اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کی بقاء کے لیے جو اربوں کا اسلحہ خریدا ہے اس کا صلہ ہم غریب آپ کے تماش بین مسلمانوں کے بس میں نہیں۔ اس کا صلہ تو اللہ ہی دے سکتا ہے کہ وہ نیتوں کے حال سے نیت کرنے والے سے بھی زیادہ باخبر ہے۔
بڑے پیمانے پر اسلحہ کے اس خرید و فروخت کے پیچھے کیا تماشہ ہے؟ عام مسلمان تو اپنے حرمین شریفین کے دفاع کا حصہ سمجھتا ہے۔ حرمین شریفین کے لیے ہر مسلمان مال سے دفاع کرنا تو ادنیٰ سی خدمت سمجھتا ہے۔اس کے لیے تو وہ اسلحہ خریدنے والے کو ثواب کا درجہ بھی دینے کو تیار ہے۔ہم مسلمانوں کو تو سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ بندی میں اس طرح غرق کر دیا گیا ہے کہ وہ اس اسلحے کو شیعہ یا کسی اور فرقے کے خلاف استعمال کرنے کو بھی جائز اور خدمت اسلام سمجھتے ہیں۔
گولہ بارود کی خریدوفروخت کے پیچھے کیا تماشہ ہے یہ اہل بصیرت ،اہل قلم،اہل علم اور اہل اقتدار بخوبی جانتے ہیں یہ اسلحہ تباہی کے کن مقاصد کی تکمیل کے لیے بیچا گیا ہے شاید اس کا اندازہ خریدنے والے کو توہوسکتا ہے مگر جنھوں نے اس تماشے کا ایندھن بننا ہے وہ محو تماشہ ہیں۔ اگر وہ دو فیصد لوگ آگے نہ بڑھے اور اس گولہ بارود کا تماشہ نہ بند کروایا تو عنقریب امت مسلمہ کی بڑی تعداد موت کے تماشے میں گم ہو جائے گی.

تعارف: مسز آسیہ کامل بہاول پور کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں.بہاول پور کے مسائل اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیتی ہیں.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں