یکجہتی کشمیر کانفرنس

وادی کشمیر ،جنت نظیر کشمیر ،بھارتی ظلم و بربریت کی وجہ سے لہو لہو کشمیر میں تبدیل ہوچکی ہے ،مگر سلام ہے ان کے جذبوں کو کہ جن میں کمی نہیں آئی ،بلکہ مسلسل تیزی آرہی ہے،اور پاکستان سے محبت کا اظہار ہر مواقع پر کررہے ہیں ،حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیری طالبات نے ،قابض بھارتی فوج کے خلاف جس جرات او بہادری کا مظاہرہ کیا ،اس نے ثابت کردیا ہے کہ کشمیری نوجوان،،بزرگ ،خواتین کے بعد اب کشمیری طالبات بھی بھارت کے خلاف میدان عمل میں اتر چکی ہیں ،اور قربانیوں کی داستان رقم کی جارہی ہے ،ایسے جذباتی ماحول میں جب کشمیری جوانوں کے تابوت پاکستانی پرچم میں لپہیٹ کر دفن کئے جارہے ہیں ،بھارت نے ظلم کی انتہا کردی ہے اور دوسری جانب ،پاکستانی حکمرانوں کی خاموشی و بے حسی کو کیا نام دیا جائے ،خارجہ پالیسی کا نام ونشان نہیں نظر آتا، ہاں اگر نظر آتا ہے ،تو سجن جندال نظر آتا ہے کہ جس کو مری کے نظارے دکھائے جاتے ہیں ،اسے ماحول میں کشمیریوں سے اظہار یکجتی کرنے پورے پاکستانی قوم کا فرض بنتا ہے ،کسی کی توجہ نہیں ،اسی سلسلے میں اسی اہم پیغام کو اجاگر کرنے کے لئے گذشتہ دنوں کراچی میں دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا اور اس کے بعد یکجہتی کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی ،جس میں راقم بھی موجود تھا ،کانفرنس سے ،مولانا فضل الرحمان خلیل،قاری محمد یعقوب شیخ،حافظ نعیم الرحمان، راقم و دیگر نے خطاب کیا ،راقم نے اس موقع پر حاضرین سے سوال کیا کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کیوں کہا ؟ شہ رگ وہ رگ ہے کہ جس کو اگر مسلسل دبا کر رکھی جائے تو انسان کی موت واقع ہوتی ہے ،اس موضوع پر قاری محمد یعقوب شیخ اور مولانا فضل الرحمان خلیل صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی ،اور کہا کہ یہ سال بلکہ آزادی کشمیر تک ہردن کو کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجھتی اور ہر محاذ پر تعاون کو فورغ دیا جائے گا ،او ر کشمیریوں کی آواز کو بین الاقومی سطح تک مزید اچھے انداز میں اجاگر کیا جائے گا اس فورم سے یہ پیغام بھی دیاکہ قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے حکمران جرات کا مظاہرہ کرکے کشمیر کو آزاد کرائیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویداربھارت جوکہ اصل میں ہندوستان ہے،میں دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ مسلمان انتہاہی مظلومانہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،بالخصوص کشمیری مسلمانوں پر بھارت نے ہر قسم کے مظالم ڈھائے ،مگر سلام ہے کشمیری مسلمانوں کو اور ان کی عظیم جہاد کو کہ جنھوں نے بھارت کے ناپاک عزائم کو پورا کرنے سے روک رکھا ہے
بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو ختم کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا مگر کشمیری جہاد کونہ دبا سکے ،افضل گورو اور برہان مظفر وانی کی شہادت نے اسے اور تقویت دے دی ہے ،کشمیری عوام مسلسل تشدد اورپابندیوں کا شکار ہیں مگر آزادی سے کم کسی بات پر تیار نہیں جس سے بھارت بوکھلا گیا ہے اور اب ہندوستان نے تحریک کو ختم کرنے کیلئے امریکہ کو استعمال کرنے کا پروگرام بنایا ہے ،ہندوستان کا دعوی ہے کہ وہ دنیا کاپرامن ملک ہے۔ اس کا یہ دعوی ایک طرف دوسری جانب گینز بک ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑاملٹری زون مقبوضہ کشمیر ہے،جس میں ہندوستان نے آٹھ لاکھ مسلح فورسز کو تعینات کیا ہوا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی آئے روز کا معمول بن چکی ہے۔
ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کوبسانے کی تیاری کی جارہی ہے اور ان کو زمینوں کے حقوق دیکر مستقل کیا جارہاہے کشمیر میں اسرائیلی حکمت عملی کو اختیارکی جارہی ہے، جس نے فلسطین میں اپنا کر وہاں کی زمینوں پر اپنے حقوق حاصل کئے تھے۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ کشمیری مسلمان پاکستان کے حکمرانوں سے بدظن ہوکر چپ ہوجائیں تاکہ تحریک آزادی کو دبانے کا ایک اور موقع میسر آجائے ۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے تو واضح کہہ دیا ہے پاکستان کشمیر پر اپنا موقف نرم کرے اور زیادہ زور نہ دے، کیا حکومتی ایوانوں کی دیواریں ساونڈ پروف ہیں جہاں کشمیریوں کی دلوں کی آوازنہیں پہنچ رہی یا ان کے کان انڈین گانوں سے فارغ نہیں ؟یا ان کے کانوں اور آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں؟ان سب باتوں اور سازشوں کے باوجود کشمیر کی آزادی ان کا بنیادی حق ہے جو آج نہیں کل ضرور مل جائے گئی مگر حکومت پاکستان اور اس کی خارجہ پالیسی بنانے والے کیا اس بات سے بے خبر ہیں کہ کشمیر وہ سلگتا مسئلہ ہے کہ جسے حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں نہ تو امن ہوسکتا ہے ؟نہ ہی کاروبار آگے بڑھ سکتا ہے؟ کشمیر کمیٹی کو بھی تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اب بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بھی اس پر عدم اطمئنن کا اظہار کھل کے کیا ہے ،کشمیر کمیٹی کشمیریوں کی ترجمان اور فعال ہونے سے مسئلے کا حل سامنے آسکتا ہے ورنہ پھر جنگ ہی اس کا آخری حل نظر آتا ہے ، ۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور افغانستان پڑوسی مسلم بردار ملک ہے دونوں کا موضوع الگ نہیں ہے ا،اس وقت ایک دوسرے جڑ چکے ہیں ،ہندوستان کشمیر میں اپنے مظالم چھپانے کے لئے افغانستان کے چند عناصر کو پاکستان کے مخالفت میں استعمال کررہاہے ،اب سوال یہ ہے کہ دونوں بنیادی معاملات پر حکمران جماعت کا موقف کیا ہے ؟ اورایسا نظر آتا ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے ،تو پھر دوسرا سوال اس کا حل اور نعم البدل کیا ہےَ ؟ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں جو دفاع پاکستان کونسل میں شامل ہیں یا نہیں سب ملکر اس میں کردار ادا کریں ،افغان عوام اور حکمران دونوں علما کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں ، پہل ہماری جانب سے اگر ہوجائے تو کوئی بری بات نہیں ،مگر خطے میں بھارتی اثر رسوخ رک سکتا ہے ،وقت آگیا ہے کہ سفارتی ڈپلومیسی میں علما کے کردار کو مزید بڑھایا جائے ،تاکہ مسائل کم ہونا شروع ہوں ،ورنہ نوبت یہاں تک آگئی ہے ،کہ افغان صدر پاکستان کا دورہ کرنے کو تیار نہیں ،سفارتی محاذ پر بہت بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ،پاکستان کی شہ رگ جو مستقبل میں پاکستان معاشی حب یا پھر ریگستان بن سکتا ہے ،ہمارے جواب کا انتظار کررہاہے ،سارے سوالوں کے جواب ہمارے پاس ہی ہیں ، بس ابتدا کرنے کی دیر ہے

تحریر: بادشاہ خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں