یہ سوال بھی اہم ہیں (جاوید چوہدری)

پاکستان کے باسیوں کیلیے شاید یہ تین سوال بھی اہم ہوں۔

پہلا سوال ‘کیا لندن میں صرف میاں نواز شریف خاندان کے فلیٹس ہیں؟ جی نہیں لندن‘ امریکا‘ کینیڈا‘ اسپین‘ پیرس‘ ملائیشیا‘ دوبئی اور استنبول میں ہزاروں پاکستانیوں کی جائیدادیں ہیں اور ان ہزاروں پاکستانیوں میں چوٹی کے درجنوں سیاستدان بھی شامل ہیں‘کیا یہ حقیقت نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی دوبئی اور لندن میں رہتی تھیں‘ یہ دونوں میاں بیوی لندن‘ نیویارک‘ فرانس اور دوبئی میں اربوں روپے کی پراپرٹی کے مالک تھے اور یہ پراپرٹی اب آصف علی زرداری کے پاس ہے‘ جنرل پرویز مشرف بھی دوبئی اور لندن میں مہنگے فلیٹس کے مالک ہیں‘ یہ درجن بھر اکاؤنٹس بھی رکھتے ہیں اور ان میں بھی کروڑوں اربوں روپے پڑے ہیں۔

یہ تسلیم کر چکے ہیں عرب شہزادوں نے انھیں پیسے دیئے تھے اور یہ پراپرٹیز انھوں نے اس ’’امدادی‘‘ رقم سے خریدی تھیں‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادے بھی اس وقت اربوں روپے کی پراپرٹی اور کھربوں روپے کی فیکٹریوں کے مالک ہیں‘ یہ بھی برطانیہ اور امریکا میں جاتے اور رہتے ہیں اور آپ اگر کسی دن تحقیق کریں گے تو آپ کو ان کے خاندانی فلیٹس اور محل بھی مل جائیں گے‘ چوہدری صاحبان بھی ایجویئر روڈ پر نصف درجن فلیٹس کے مالک ہیں‘ آپ کو اسپین‘ اٹلی اور ملائیشیا میں ان کے پراپرٹی بزنس کی جھوٹی سچی کہانیاں بھی مل جائیں گی اور ’’فرنٹ مین‘‘ بھی۔ جہانگیر ترین اور علیم خان بھی لندن میں فلیٹس کے مالک ہیں اور یہ دونوں ان فلیٹس کے وجود کو تسلیم بھی کر چکے ہیں۔

آفتاب احمد شیرپاؤ کے برطانوی اکاؤنٹ میںپانچ ملین پاؤنڈ نکل آئے تھے اور شیرپاؤ نے اس دور میں فرمایا تھا ’’میں نے یہ رقم برے دنوں کیلیے رکھی ہوئی تھی‘‘ آصف علی زرداری کے دودھ شریک بھائی مظفر ٹپی بھی ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں اور یہ بھی اربوں روپے کی پراپرٹی کے مالک ہیں‘ رحمن ملک کا کاروبار اور گھر بھی لندن میں ہیں‘ آپ اے این پی اور جے یو آئی کی قیادتوں کی تحقیقات بھی کر لیں‘ یہ بھی آپ کو اکثر ملک سے باہر جاتے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوتے نظر آئیں گے اور یہ رہائش گاہیں بھی ان کے پاس دس بیس سال سے ہیں‘ بلوچستان کے درجنوں لیڈر بھی لندن‘ نیو یارک اور دوبئی میں پراپرٹی کے مالک ہیں‘ آپ ایم کیو ایم کے کسی لیڈر کا نام لیں آپ کو ملک سے باہر اس کے فلیٹس بھی مل جائیں گے اور مکان اور کاروبار بھی‘ آپ اسی طرح حاضر سروس اور ریٹائر ججوں کے بارے میں بھی تفتیش کر لیں۔

آپ ریٹائر جرنیلوں کے بارے میں بھی تحقیقات کر لیں‘ آپ ملک کے سو بڑے بزنس مینوں‘ صنعت کاروں اور زمینداروں کا ڈیٹا بھی نکال لیں‘ آپ میڈیا مالکان کے بارے میں بھی تحقیقات کر لیں‘ آپ ملک کے تمام ریٹائر سیکریٹریوں کی تلاشی بھی لے لیں‘ آپ ملک کے دس بڑے مدارس اور دس بڑے علماء کرام کو بھی چیک کر لیں اور آپ ملک کے دس ریٹائر آئی جیز کو بھی کسوٹی پر پرکھ لیں آپ کو ان کی جائیدادوں کا ’’کھرا‘‘بھی آسٹریلیا تک جاتا ملے گا لہٰذا جب اس حمام میں سارے ننگے ہیں تو پھر صرف میاں برادران کیوں؟ آپ سب کا حساب کیوں نہیں لیتے؟ آپ ایک بڑا کمیشن بنا کر ملک کے تمام بااثر لوگوں کا کچا چٹھا کیوں نہیں کھولتے‘ آپ کرپشن کے اس بدبودار تالاب سے صرف میاں برادران کو کیوں اٹھا رہے ہیں‘ آپ باقی لوگوں کو کیوں نہیں چھیڑ رہے‘ آپ باقی مقدس جانوروں کو بیرون ملک جائیدادیں خریدنے اور رکھنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے۔

آپ اب دوسرا سوال بھی ملاحظہ کیجیے‘ یہ سارا کھیل‘ یہ سارا مقدمہ پاناما لیکس سے شروع ہوا‘ یہ لیکس 4 اپریل 2016کو ہوئیں‘ ان کی دوقسطیں آئیں اور ان قسطوں میں چھ سو پاکستانیوں کے نام سامنے آئے‘ پاناما لیکس کی ساری دستاویز ابھی سامنے نہیں آئیں‘ ملکی ادارے اگر ذرا سا کام کریں تو پاناما لیکس کے ’’متاثرین‘‘ ہزاروں میں چلے جائیں گے لیکن ہم نے ان سیکڑوں ہزاروں لوگوں میں سے صرف ایک خاندان کے دو لوگوں کا احتساب شروع کیا‘ کیوں؟ کیا صرف یہ لوگ گناہ گار ہیں‘ کیا صرف یہ لوگ کرپٹ ہیں اور کیا صرف ان کا کتا کتا ہے اور دوسروں کے کتے ٹامی ہیں‘کیا کسی کے پاس اس سوال کاجواب بھی ہے؟ آپ اب تیسرا سوال بھی ملاحظہ کیجیے‘ ہمیں جرمن اخبار زیتوشے زائتونگ(Süddeutsche-Zeitung) نے مئی 2016ء میں بتایا ’’آپ کے سیکڑوں لوگوں نے دنیا بھر میں جائیدادیں بنا رکھی ہیں اور یہ تمام جائیدادیں ’’آف شور کمپنیوں‘‘ کی ملکیت ہیں‘ ‘ڈیلی زیتوشے زائتونگ کو یہ اطلاع پاناما کی لاء فرم ’’موزیک فانسیکا اینڈ کو‘‘ کے کسی خفیہ ملازم نے دی ۔

ملازم نے کمپنی کے 11.5 ملین کاغذات چوری کیے اور یہ کاغذات اخبار تک پہنچا دیئے‘ اخبار نے تفتیشی صحافیوں کا فورم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلزم (آئی سی آئی جے)بنایا اور یہ کاغذات 80 ممالک کی107 میڈیا آرگنائزیشنز میں تقسیم کر دیئے اور یوں یہ سکینڈل سامنے آ گیا‘ آپ فرض کیجیے یہ کاغذات چوری نہ ہوتے‘ یہ اخبار تک نہ پہنچتے اور رپورٹروں کا کنسورشیم نہ بنتا تو کیا ہوتا؟ شاید کچھ بھی نہ ہوتا‘کیوں؟ کیونکہ یہ فلیٹس 1993ء سے شریف فیملی کے زیرتصرف ہیں‘ حکومتیں آتی رہیں‘ حکومتیں جاتی رہیں‘ اس دوران جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء اور نیب بھی آیا‘ ملک کی درجنوں بااثر شخصیات ان فلیٹس میں بھی گئیں‘ دنیا بھر کے بااثر لوگوں نے بھی ان کا دورہ کیا اور دنیا جہاں کے صحافی بھی وہاں گئے لیکن ملک کے کسی ادارے‘ کسی اہم شخصیت نے ان فلیٹس کی ’’منی ٹریل‘‘ پوچھی اور نہ ہی میاں برادران کا ٹرائل ہوا‘ کیوں؟ ہم لوگ اور ہمارے ادارے 24 سال پاناما لیکس کا انتظار کیوں کرتے رہے؟

ہمارے ادارے 24 سال کہاں سوئے رہے؟ اور ہماری اپوزیشن بھی 1993ء سے 2016ء تک کہاں چھپی رہی اور اگر آج بھی پاناما لیکس نہ ہوئی ہوتیں تو مجھے یقین ہے سپریم کورٹ اس ایشو کو اٹھاتی اور نہ ہی میاں نواز شریف کی فیملی کے خلاف ’’جے آئی ٹی‘‘ بن رہی ہوتی چنانچہ نواز شریف کے احتساب کا سارا کریڈٹ پاناما لیکس‘جرمن اخبار اور لاء فرم موزیک فانسیکا اینڈ کو کے خفیہ ملازم کو جاتا ہے‘ یہ لوگ اگر ہماری مدد نہ کرتے تو ہم آج بھی اپنے وزیراعظم کے احتساب کی جرات نہ کرتے‘ میں سمجھتا ہوں ہمیں ایف آئی اے‘ نیب اور ایف بی آر ختم کر کے پاکستان کے تمام وائیٹ کالر کرائم کا ٹھیکہ جرمن اخبار زیتوشے زائتونگ اور آئی سی آئی جے کے رپورٹروں کو دے دینا چاہیے کیونکہ انھوں نے وہ کام کر دکھایا جو ہمارے ادارے 24برسوں میں نہیں کر سکے اور آپ اب آخری سوال بھی ملاحظہ کیجیے۔

شریف فیملی نے یہ فلیٹس کب خریدے تھے؟ یہ فلیٹس 1992-93ء میں خریدے گئے تھے‘ ہم مان لیتے ہیں یہ فلیٹس کرپشن کی رقم سے خریدے گئے تھے‘ گلف اسٹیل مل‘ گلف اسٹیل مل کی فروخت‘قطری خاندان کو رقم کی ترسیل اور آخر میں قطری شہزادے شیخ حمد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط یہ ساری کہانی جھوٹی ہے اور میاں نواز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے قوم کے مجرم ہیں لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے وہ نواز شریف جو 1992ء میں ناتجربہ کار بھی تھا اور کرپٹ بھی ہم نے اسے اس وقت کیوں نہیں پکڑا‘ ہم نے اس وقت اس کا راستہ کیوں نہیں روکا‘ وہ سیاست میں کیوں آگے بڑھتا چلا گیا؟ کیا یہ حقیقت نہیںمیاں نواز شریف 1997ء میں دوسری بار وزیراعظم بنا اوریہ 14 سال کی جلاوطنی اور بھرپور مخالفت کے باوجود 2013ء میں تیسری بار وزیراعظم بن گیا یوں ان فلیٹس کو 24 سال گزر گئے‘میاں نواز شریف 24سال کے اس سیاسی سفر میں تجربہ کار بھی ہو گیا اور وہ یہ بھی جان گیا۔

میں نے اگر تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو پھر مجھے ڈیلیور کرنا ہوگا‘ مجھے پرفارم کرنا ہوگا‘ وہ جب یہ ساری حقیقتیں جان گیا ‘وہ جب یہ بھی جان گیاکہ آپ مکہ ہوں‘ مدینہ ہوں‘ ریاض میں ہوں یا جدہ میں ہوں یا پھر آپ لندن جیسے محفوظ اور پرآسائش شہر میں رہ رہے ہوں اپنا ملک اپنا اور اپنے لوگ اپنے ہوتے ہیں تو ہم نے 2016ء میں 1992ء کے جرم میں اس کا احتساب شروع کر دیا‘ہم نے اسے 24 سال پرانے جرم میں پکڑ لیا‘ کیا ہمارا یہ قدم یہ ثابت نہیں کرتا ہمارے لیڈر جب تک ناتجربہ کار اور کرپٹ ہوں ہم انھیں سر پر بٹھاتے ہیں۔

ہمارے کسی ادارے کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہو تی لیکن جس دن یہ کرپشن چھوڑدیں ‘یہ جس دن تجربہ کار ہو جائیں اور یہ جس دن پرفارم کرنا شروع کر دیں ہم اس دن انھیں بھٹو کی طرح پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں‘ ہم انھیں بے نظیر بھٹو کی طرح خودکش دھماکے میں اڑا دیتے ہیں اور ہم انھیں نواز شریف کی طرح 24 برس پرانے کیس میں پھنسا دیتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ شاید ہمیں ہر حال میں ناتجربہ کار‘ کرپٹ اور نااہل لیڈرز چاہئیں‘ ہم شاید تجربہ کاراور ڈیلیور کرنے والے لوگوں کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں رہتے‘اس سوال کا جواب بھی کون دے گا؟۔

میری عدلیہ سے درخواست ہے آپ میاں نواز شریف کو سزا ضرور دیں لیکن آپ ساتھ ہی مہربانی فرما کر ایک اور جے آئی ٹی بنائیں اور یہ سوال اس جے آئی ٹی کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سوال بھی اہم ہیں اور قوم کو ان سوالوں کا جواب بھی ملنا چاہیے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں