عالمی یومِ مزدور اور ہمارا المیہ

مزدوروں کا عالمی دن آیاتو ملک بھر میں تقریبات منعقد کی گئیں ۔سول سوسائیٹی نے مزدور کے عالمی دن کے حوالے سے واک مارچ کا اہتمام کیا جس میں مزدور کے حق میں نعرے درج تھے ۔اسکول کالجز و جامعات میں پروگرامز منقعد ہوئے ۔جس میں طلباؤ طالبات نے مزدور کے عالمی دن حوالے سے خاکے پیش کئے ۔اور حکومت وقت کے نمائندینے شرکت کی اور تقریب کے آخر میں مزدور کو دو جملوں میں خراج تحسین پیش کیا اور باقی جملے اپنی حکومت کی کارکردگی بتانے پر صرف کئے تاکہ آئندہ الیکشن میں ملک کے نوجوانان انھیں ہی دوبارہ منتخب کریں ۔اور اگر تقریب میں اپوزیشن جماعت کے
نمائندے مدعو ہوئے تو دو جملوں میں مزدور کو خراج تحسین پیش کیا اور باقی جملوں حکومت وقت کی ناقص کارکردگی کو بتانے اور اپنی جماعت کو اگلے الیکشن میں موقع دینے صرف کئے ۔ٹیلی ویژن پر مزدور کے عالمی دن کو مد نظررکھتے ہوئے پروگرام پیش کئے اور پھر آخر کار 1مئی کے دن اختتام ہوا ۔ اب آئیے ذرا پاکستان میں مزدور کی حالت زار دیکھئے ۔پاکستان میں مزدور کی اجرت روپے15000 مہینہ اوراسکے اخراجات ؟کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ایک مزدور کس طرح 15000روپے میں گھر کا کرایہ بجلی و پانی اور گیس کا بل ‘راشن سبزی وپھل فروٹ ‘علاج و معالجہ ‘ خوشی غمی اور مستقبل میں آنے والے اچھے اور برے وقت کے لئے بچت کیسے کر پاتا ہو گا ۔پاکستان میں وبائی امرض کا شکار بھی یہی مزدور طبقہ زیادہ ہوتا ہے جسے وہ اللہ پاک کی کرنی سمجھ کر قبول کر لیتا ہے ۔اس مزدور طبقے نے ہمیشہ رات کو ہی چھانٹی شدہ سبزی خریدنی ہوتی ہے کیونک یہ چھانٹی شدہ سبزی اسے سستی مل جاتی ہے ۔آٹا ملاوٹ شدہ چینی کے نام چورا دالیں ہلکی کوالٹی کی کم روپوں میں ٹوٹا چاول اس کے نصیب میں ہوتے ہیں۔کیونکہ اچھی کوالٹی کی اشیاء خرد و نوش خریدنے کی سکت نہیں ۔ گھٹیا کوالٹی کی اشیاء اس کی پہنچ میں چاہے اسے کھا کر کوئی بیماری ہی کیوں نہ لگے ۔اور پھر اس بیماری کو وہ نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے ۔پاکستان میں اکثر مزدور طبقہ نے کبھی اپنی یکمشت اجرت نہیں لی۔ کیونکہ تھوڑی تھوڑی لی گئی ایڈوانس رقم نے یکمشت والی نوبت ہی نہ دی ۔ مزدور نے گھر کے لئے دودھ بھی کلو کبھی نہیں خریدا ،پاؤصبح تو آدھا پاؤ شام میں ،دودھ تو مزدور کے لئے مہنگا ترین مشروب بن چکا ہے جو اس کی پہنچ سے دور ہے ۔مزدور کے بچوں کو وہی پھل فروٹ کھانا نصیب ہو گا جو سب سے زیادہ سستا ہو گا ۔1مئی کو تقریبات اور سیمنار منقعد کرنے والے مزدور کے مسائل کیا جانیں جن کے صبح کے ناشتہ کا خرچہ بھی مزدور کی مہینے کی اجرت سے زیادہ ہوتا ہے ۔ارے یہ کیا جانیں جب مزدور کے گھر مہمان تشریف لاتے ہیں تو مزدور کی بیوی کو کس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جب مزدور کے بچے اپنی ماں کو کہتے ہیں کہ اماں ہم بھی آج گوشت کھائیں گے ا ور جب مزدور کے بچوں کی ماں انھیں کہتی ہے کہ پہلے مہمانوں کو پورا کروں گی اور پھر تم لوگوں کو دوں گی ۔مزدور جو 12 گھنٹے مشین کی طرح کام کرتا ہے،وہ اپنے بچوں کو اچھا مستقبل تو کیا حال بھی اچھا نہیں دے پاتا ۔مزدور کو تو آندھی طوفان اوربیماری میں بھی گھر کی دال روٹی کی فکر رہتی ہے ۔آرام کا لفظ اس کی زندگی سے ہمیشہ کے نکل چکا ہے۔ارے 1مئی کو بھرپور سے تقریبات منقعد کرکے مزدور کے گھر کا چولہا متحرک نہیں ہوتا ۔اسکے بچوں کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں ۔مزدور کی بیٹی کی شادی نہیں ہوتی ۔ارے 1مئی کو منانے سے مزدور کے خوشحالی نہیں آتی ۔مزدور تو پھر بھی سارا سال دال روٹی کی فکر میں ہلکان ہوتا رہتا ہے ۔
*ملکی سطح پر مزدور کے بچوں کی تعلیم کے لئے بغیر فیس والے اعلی معیار کے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں ۔
*ملکی سطح پر مزدورالی معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔
*ملکی سطح پر مزدور کو تں خواہ کے ساتھ کچھ رقم گھرکے راشن کے لئے بھی دینی چاہیئے۔
*سال کے بونس کو مزدور کے بچوں کی اعلی تعلیم پر صرف کرنا چاہیئے ۔
اگر نجی و سرکاری ادارے ان کچھ سفارشات پر عمل کرلیں تو یقین جانئیے پاکستان میں مزدور کاحق ادا ہو جائے گا ۔اور پھر 1مئی کو مزدور کاعالمی دن منانے کے صحیح معنوں اہل ہوں گے۔

تحریر:مدیحہ ریاض

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں