زکوٰۃ فنڈ سے تنخواہ لینے والے ملازمین حکومتی توجہ کے طالب

محکمہ زکوٰۃ و عشر کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی ۔ محکمہ کے قیام کا مقصد غریب ، نادار، لاوارث ، ضرورت مندبزرگ مرد و عورت اور بیوہ کی مالی خدمت تھا۔ محکمہ میں مختلف مدات میں فنڈ ز دیئے جانے لگے جوں جوں وقت گزرتا گیا محکمانہ انتظامیہ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ ہر ڈویژن اور ضلع کی سطح پر آڈٹ سٹاف تعینات کیا جائے تاکہ خردبرد اور فراڈ جیسے معاملات سے بر وقت بچا جا سکے اور غیر قانونی حرکات کرنے والوں کو پکڑا جا سکے ۔اِس بات کے پیش نظر محکمانہ انتظامیہ نے ضلع اور ڈویژن کی سطح پر آڈٹ سٹاف نام کے سے ایک ٹیم تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم کا سٹرکچر کچھ اِس طرح ہے کہ
ڈویژن کی سطح پر آڈٹ ٹیم ایک آڈٹ آفیسر جو ایم کام پاس ہو، دو عدد آڈیٹرز جو بی کام پاس ہوں اور ایک جونیئر کلرک جو آئی کام پاس ہو پر مشتمل ہے اسی طرح ضلع کی سطح پر ایک آڈٹ آفیسر جو ایم کام پاس ہو،،ہر تحصیل کی سطح پر ایک آڈیٹر جو بی کام پاس ہو اور ایک آڈٹ اسسٹنٹ جوبی کام پاس ہو پر مشتمل ہے۔ ضلعی سطح کی آڈٹ ٹیم کی تعیناتی ضلعی چیئرمین زکوٰۃ و عشر اور ضلعی زکوٰۃ آفیسرکرتے ہیں جو اپنی سفارشات برائے منظوری صوبائی ہیڈ کوارٹر لاہور بھیجتے ہیں۔ لیکن ڈویژنل سطح پر آڈٹ ٹیم کی تعیناتی برائے راست صوبائی ایڈمنسٹریٹر پنجاب لاہور کی منظوری سے ہوتی ہے۔ اِن ملازمین کو تنخواہ سرکاری خزانہ کی بجائے زکوٰۃ فنڈ سے دی جاتی ہے ۔جونیئر کلرک کو 14250/- Lump Sumماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ آڈیٹر کو تنخواہ 16000/- دی جارہی ہے اورآڈٹ آفیسر کو ماہانہ تنخواہ 27000/- دی جارہی ہے۔ صوبائی زکوٰۃ کونسل اگر چاہے تو تنخواہ میں اضافہ کیا جاتا ہے ورنہ ہر سال پیش ہونے والے بجٹ میں ان ملازمین کا شمار نہیں ہوتا۔ اسی محکمہ میں بھرتی ہونے والے اَن پڑھ نائب قاصد، ڈرائیور اور چوکیداران پڑھے لکھے پروفیشنل ملازمین سے کہیں زیادہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں وہ بھی مستقل بنیادوں پر۔انہیں کسی قسم کے کوئی مراعات نہیں دیے جارہے اور نہ ہی تنخواہ سالانہ بنیاد پر بڑھائی جاتی ہے ۔ ان ملازمین میں بہت سے ایسے ملازمین ہیں جو ” سید ” ذات سے تعلق رکھتے ہیں بھلا یہ ملازمین زکوٰۃ فنڈ سے تنخواہ کیسے لے سکتے ہیں۔ حکومتی سطح پر اس معاملے کو نہیں دیکھا جا رہا۔ ان کا set up آڈٹ ٹیم پر مشتمل ہے اور یہ سب کنٹریکٹ پر ملازمت کر رہے ہیں ، انہیں محکمہ میں ایک الگ شناخت سے یاد کیا جاتا ہے یعنی زکوٰۃ پیڈ سٹاف۔ بہت دکھ کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی ملازم دوران ڈیوٹی وفات پا جاتا ہے تو ان کے وارثان کے لیے کسی قسم کی کوئی مالی امداد نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کے بچوں کو والدین کی جگہ نوکری دی جاتی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہو ں کہ ایسی پالیسی بنانے والے شاید عقل کے اندھے تھے جنہوں نے ایک ایسی پالیسی بنائی جس میں بجائے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرنے کے ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے تو مسلسل کئی سالوں سے چل رہا ہے ان کو پڑھے لکھے ہونے کا جان بوجھ کر سزا دی جارہی ہے۔
میری میاں محمد شہباز شریف صاحب سے پر زور اپیل ہے کہ آپ نے ہمیشہ تعلیم دوست کا نعرہ لگایا ہے اور آپ ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کی بہتری کے لیے بہت سی پالیسیاں عوام کو دے رہے ہیں خدارا ان پڑھے لکھے ملازمین کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کو فی الفور مستقل کر کے پڑھے لکھے ہونے کا فائدہ دیا جائے۔

تحریر:طاہر رحیم (بہاول پور)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں