8

غیرمعمولی حالات، غیرمعمولی فیصلے

ملک بھر کے تعلیمی بورڈوں کو اس وقت ان 40لاکھ طلبہ کے مستقبل کا مسئلہ درپیش ہے جن کی نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے لئے گزشتہ چھ ماہ پہلے رجسٹریشن ہو چکی ہے، دو ماہ سے امتحانات کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے جمعرات کے روز اسلام آباد میں منعقدہ وفاقی و صوبائی وزرا تعلیم اور تعلیمی بورڈوں کے حکام کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نویں اور گیارہویں کے امتحانات نہیں ہونگے جبکہ دسویں اور بارہویں کے طلبہ اپنی گزشتہ برس کی کارکردگی (نویں اور گیارہویں جماعت کے نتائج) کی بنیاد پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس ہو جائیں گے جس کے ساتھ انہیں تین فیصد اضافی نمبر ملیں گے۔ اس حوالے سے مجموعی طور پر تمام امیدواروں کے چار گروپ بنائے گئے ہیں۔ پہلی کیٹگری میں گیارہویں کے نتائج سے غیرمطمئن، دوسری میں چند مضامین میں فیل، تیسرے گروپ میں 40فیصد سے کم نمبر لینے والے جو دوبارہ امتحانات دینا چاہتے ہوں اور چوتھی کیٹگری میں کمپوزٹ (دو سال کا اکٹھا) امتحان دینے والے طلبہ شامل ہیں۔ ایسے طالب علم ستمبر میں خصوصی طور پر امتحانات دے سکیں گے۔ ان امیدواروں کو یکم جولائی کو اپنے تعلیمی بورڈ میں اطلاع کرنا ہوگی تاہم ان تمام فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے متعلقہ قوانین میں تبدیلی لانا پڑے گی کیونکہ مروجہ قانون کے تحت طلبہ کو امتحان کے بغیر اگلی کلاسوں میں جانے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے جس کے لئے تعلیمی ماہرین اور بورڈ حکام کو ایک کٹھن صورت حال سے گزرنا پڑا کیونکہ اعلیٰ و ثانوی درجے تعلیمی زندگی میں وہ موڑ سمجھے جاتے ہیں جہاں سے گزر کر ہر طالب علم اپنے مستقبل کا تعین کرتا ہے اور اس کے پیچھے والدین کی شبانہ روز محنت کے دس بارہ سال شامل ہوتے ہیں۔ تعلیم کے وفاقی و صوبائی وزرا اور ماہرین کی کانفرنس کا یہ ایک بہتر فیصلہ ہے یقیناً اس سلسلے میں مزید آپشن بھی زیر غور آئے ہوں گے۔ تاہم اس سے آگے چل کر پیشہ ورانہ کالجوں اور اداروں میں میرٹ کی بالادستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے جس کے تحت 1998میں پنجاب میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ شروع ہوا اور اُس وقت سے ملک بھر کے میڈیکل اور انجینئرنگ کالج اس طریقہ کار پر کاربند ہیں۔ ان کے موثر انعقاد کے لئے سرکاری سطح پر داخلہ کونسلیں قائم ہیں اس حوالے سے متذکرہ اجلاس کے شرکا نے یہ بات تسلیم کی کہ موجودہ حالات نارمل نہ ہونے کے باعث کچھ مسائل ضرور پیش آئیں گے جن کے حل کے لئے حسبِ ضرورت اجلاس منعقد کئے جائیں گے۔ اس بارے میں یونیورسٹیوں اور ہائیر و سیکنڈری بورڈوں کے حکام رابطے میں ہیں۔ ان حالات میں جب عالمی ادارے اور ماہرین صحت یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کورونا کی وبا شاید کبھی ختم نہ ہو انسان کو اس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہو گا جس سے آنے والے دنوں میں ہمیں اپنی اقدار اور طرز زندگی بدلتی دکھائی دینا ایک فطری امر ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں نفسا نفسی کا عالم ہے جو کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں۔ ملکی صورت حال کے تناظر میں متذکرہ اقدام ایک بہتر فارمولا ہے تاہم یہ ایک وقتی حل ہے بہت سے عالمی اداروں میں فاصلاتی (آن لائن) ذریعہ تعلیم کامیابی کے ساتھ رائج ہے پاکستان میں یہ اپنے ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے جس کی کامیابی بہر حال ضروری ہے۔ کورونا ایک ناگہانی آفت ہے تاریخ شاہد ہے، انسان ایسی آفات سے گزر کر اپنی نئی سمتوں اور ترجیحات کا تعین کرتا آیا ہے۔ من حیث القوم ہمیں بھی ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیئے ضروری ہو گا کہ جامعات اور دوسرے پیشہ ورانہ ادارے داخلوں کے سلسلے میں پیش آنے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہوم ورک کرلیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں