28

ٹڈی دل کی وجہ سے انسان کو کئی دفعہ قحط کا سامنا کرنا پڑا ہے؛ پروفیسر مدحت کامل

بہاولپور : ماضی میں ٹڈی دل کی وجہ سے انسان کو کئی دفعہ قحط کا سامنا کرنا پڑا ہے۔رواں سال بے موسمی بارشوں، لاک ڈاؤن اور ٹڈی دل کی وجہ سے زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار زرعی ماہر پروفیسر ڈاکٹر مدحت کامل حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وفاقی سطح پر ایک آن لائن انفارمیشن سیل قائم کرے جس کے ذریعے عوام کو ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں، متوقع حملے اور احتیاطی تدابیر سے باخبر رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی جائیں جن میں زرعی گریجویٹس کو شامل کیا جائے۔یہ ٹیمیں کاشتکاروں کے ساتھ ملک کرٹڈی دل کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر کام کرسکتی ہیں۔ٹڈی دل کے متوقع حملے سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں کی نہ صرف تربیت کی جائے بلکہ انہیں سپرے مشینیں بھی فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس وبا سے متاثر کاشتکاروں کے اعداد و شمار مرتب کیے جائیں اور ان کے لیے رواں سال ریلیف کا اعلان کیا جائے۔کیوں کہ اگر ہم نے ٹڈی دل کے خلاف متحد ہو کر موثر اقدامات نہ کیے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں