24

ٹڈی دَل کی یلغار

وطن عزیز میں خریف کا سیزن ہونے کے باعث جہاں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے وہاں لاکھوں ایکڑ اراضی پر کپاس، مکئی، کماد، سورج مکھی، سبزیاں اور باغات اپنی اپنی بہار دکھا رہے ہیں، بدقسمتی سے یہ سب علاقے ان دنوں ٹڈی دَل کے حملوں کی زد میں ہیں، یہ ایک نہایت سنگین صورتحال ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو فوڈ سیکورٹی میں ملک کو 669ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھی ٹڈی دل نے بہت سے علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ موجودہ یلغار کی شدت اس سے کہیں زیادہ بیان کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ لہر آئندہ دو سال جاری رہ سکتی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اس حوالے سے متاثرہ علاقوں میں آپریشن میں مصروف ہے، کسانوں کیلئے ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت ملک کے 61اضلاع میں ٹڈی دل موجود ہے جس کے خاتمے کیلئے چاروں صوبوں میں اسپرے کا کام جاری ہے۔ پاکستان میں چین کے پہلے زرعی سفارتکار نے ٹڈی دل کے تدارک کیلئے پاکستانی ماہرین کے ساتھ مل کر تمام تکنیکی وسائل استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس سے نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں بھی ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ چونکہ چین سب سے وسیع زرعی ٹیکنالوجی، سب سے وسیع زرعی رقبے اور سب سے زیادہ پیداوار کا حامل ملک ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1949میں اس کی غذائی پیداوار جو گیارہ کروڑ ٹن سالانہ تھی آ ج یہ 50کروڑ ٹن سے زیادہ ہے، ہمیں اس کے تجربات سے فائدہ ا ٹھانا چاہئے۔ تاہم سردست ملک کو ٹڈی دل کی موجودہ یلغار سے بچانا ہے جس کیلئے ضروری ہوگا کہ ہنگامی بنیادوں پر تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں