25

کورونا اور پاکستان

کورونا کی وبا اس وقت دنیا کی تلخ ترین اور ایسی بھیانک حقیقت ہے کہ جس کے سامنے دنیا کی تمام تر سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ گئی ہے۔تقریباً دو ہفتے قبل کورونا کی ویکسین پر کام کرنے والے برطانوی ڈاکٹروں کی ٹیم نے بڑے یقین سے کہا تھا کہ اگلے ماہ تک کورونا کا علاج دریافت کر لیا جائے گا تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نک ہوربے کے مطابق ویکسین سے وائرس کا مکمل خاتمہ نہ ہوگا اس کے بعد پوری دنیا کے سائنس دانوں کی یہ رائے سامنے آئی کہ اب دنیا کو کورونا کے ساتھ ہی رہنا سیکھنا ہوگا۔ اسی دوران پاکستان میں قومی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے اندیشہ ظاہر کیا کہ لاک ڈائون ہٹانے سے روزانہ کی بنیاد پر کورونا کیسز کی تعداد میں 15سے 20فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ لاک ڈائون میں شہریوں کی بےاحتیاطی کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عوام یہ وائرس اب اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ سندھ میں اسپتالوں نے مزید کیسز لینے سے انکار کر دیا ہے، خیبر پختونخوا میں بھی یہی صورتحال بن رہی ہے۔ بدھ کے روز کورونا کے 30مریض جاں بحق ہو گئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 1240ہو گئی جبکہ 1073نئے کیس سامنے آئے اور مریضوں کی تعداد 60ہزار سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان میں کورونا کو بہت بہتر طریقےسے کنٹرول کیا گیا لیکن بعد ازاں وفاق اور صوبوں کے مابین اس پر کچھ ایسے معاملات سامنے آئے جنہوں نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا، تاجر برادری اور غربا کا خیال رکھنا بھی ضروری تھا چنانچہ لاک ڈائون کے حوالے سے نرمی کی گئی لیکن ایس او پیز کے ساتھ مشروط۔ افسوس کہ عوام نے اس پر عمل نہ کیا اور اب حالت تشویشناک نہ سہی پریشان کن ضرور ہے جس کا صحیح اندازہ بھی چند روز بعد ہوگا۔ حکومت کو ایسی صورتحال کو قابو کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار اور مستعد رہنا ہوگا کہ اب کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں