21

اسٹیل مل ملازمین فارغ

کوئی شک نہیں کہ قومی ادارے ملک کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں تاہم بسا اوقات ملکی مفاد کی خاطر ان اداروں کے حوالے سے کچھ تلخ فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں، ایسا ہی فیصلہ پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے سامنے آیا ہے کہ حکومت نے یکمشت ادائیگی کے لئے 20ارب روپے کی منظوری کے ساتھ ادارے کے 9ہزار 350ملازمین کو فارغ کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے، فیصلہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، یوں اسٹیل ملز کے 100فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا اور متذکرہ فیصلے کی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں توثیق کے بعد تمام ملازمین کو برطرفی کے نوٹسز جاری کر دیے جائیں گے اور ہرملازم کو اوسطاً 23لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ سی پیک اور اس سے منسلک منصوبوں کے تناظر میں اسٹیل ملز کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن دوسری جانب یہ حقائق بھی قابلِ قبول نہیں کہ ادارے کے 14ہزار 753ملازمین کیلئے انسانی وسائل کا کوئی منصوبہ تشکیل دیے بغیر جون 2015میں تجارتی سرگرمیاں روک دی گئیں اور ملازمین کی تعداد 9ہزار 350رہ گئی جن کی ماہانہ تنخواہ 35کروڑ کے لگ بھگ ہے جو بطور قرض اسٹیل ملز کے اکائونٹس میں ایڈجسٹ ہوتی ہے اور 2013سے وفاقی حکومت تنخواہوں کی مد میں 34ارب روپے جاری کر چکی ہے۔ ملک کی اس سب سے بڑی انڈسٹری کی بربادی میں سیاسی سطح پر ہونے والی بدعنوانی، نااہلی اور بےجا بھرتیاں شامل ہیں۔ رپورٹ سے ظاہر ہے کہ ادارہ رہے گا تو حکومتی ملکیت میں البتہ فعال نہ رہے گا۔ جسے چین کی معاونت سے بوقتِ ضرورت فعال بھی کیا جا سکے گا تاہم اس ادارے کو اس حالت تک پہنچانے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں کہ کئی دوسرے اداروں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں