15

کورونا: احتیاط واحد حل

دنیا کے دوسرے ملکوں میں جہاں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے وہاں پاکستان میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ اسپتالوں میں کورونا کٹس، وینٹی لیٹرز اور بستروں کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ پیر کو کورونا کے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے جس سے اس مرض، جس کی ابھی تک کوئی دوا بھی تیار نہیں کی جا سکی، میں مبتلا افراد کی تعداد ایک لاکھ 7ہزار 845تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں عام آدمی ہی نہیں، حکومتی وزرا، ارکان اسمبلی اور کئی نامی گرامی شخصیتیں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی جان کی بازی بھی ہار گئے۔ پچھلے 24گھنٹے میں مزید 107مریضوں کے انتقال کی تصدیق ہوئی ہے جس سے ملک میں اب تک ہونے والی اموات کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب پہنچنے والی ہے۔ وزیراعظم عمران خان جو محنت کش طبقے کو مشکلات سے بچانے کے لئے سخت گیر قسم کے لاک ڈائون کے شروع ہی سے حامی نہیں تھے، مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عوام اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے خود احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں تاکہ حکومت کو سختی نہ کرنا پڑے۔ پیر کی شام ایک بار پھر انہوں نے قوم کو کورونا کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ ہر شخص ماسک پہنے، اس طرح وہ 50فیصد اس بیماری سے بچ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آگے مشکل وقت آنے والا ہے۔ اگلے ڈھائی ماہ انتہائی خطرناک ہیں۔ جولائی اور اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہوں گے۔ انہوں نے درست کہا کہ لوگ کورونا وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور احتیاط نہ کرکے اپنوں کی زندگی کو خطرے اور ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا درست ہے کیونکہ حکومت لاکھ حفاظتی اقدامات کرے، جب تک عوام خود احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کریں گے صورت حال قابو میں نہیں آئے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے طور پر اس وبا کے مقابلے کے لئے تمام ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور اسد عمر نے این سی او سی کے اجلاس کے بعد بتایا ہے کہ کورونا کے مریضوں کے لئے وفاقی حکومت جون کے مہینے میں ایک ہزار آکسیجن بیڈز کا انتظام کر رہی ہے اور جولائی میں اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اسپتالوں میں طبی عملے کی کمی بھی پوری کی جائے گی۔ اس حوالے سے ایک پیکیج تیار کیا جا رہا ہے ادھر حکومت اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے اور ادھر ایسے لوگ بھی ہیں جو بقول وزیراعظم اس وبا کو ’’فلو‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں، بحیثیت قوم ہمیں ادراک ہونا چاہئے کہ جن ملکوں میں کورونا نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں (امریکہ میں تو سوا لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں) انہوں نے جہاں لاک ڈائون کے ذریعے سخت پابندیاں لگائیں وہاں خود عوام نے بھی احتیاط کا راستہ اختیار کیا جس سے صورتحال بتدریج بہتر ہوتی گئی۔ چنانچہ ان میں سے بیشتر ملکوں نے لاک ڈائون ختم کر دیا ہے یا اس میں نرمی لائے۔ نیوزی لینڈ پہلا ملک ہے جسے مکمل طور پر کورونا فری قرار دے دیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں بھی کورونا قابو میں ہے، پاکستان میں پہلے تو حکومت گومگو کی کیفیت میں رہی اور لاک ڈائون سے گریز کیا۔ جب کیا بھی اس میں اتنی رعایت رکھی کہ لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا، یہ تو خوش قسمتی کی بات ہے کہ یہاں اتنی تباہی نہیں ہوئی جتنی مغربی ملکوں میں، برطانیہ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق لاک ڈائون نہ ہوتا تو صرف گیارہ یورپی ملکوں میں 30لاکھ لوگ مر جاتے۔ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر عوام کو وزیراعظم کے مشورے پر سختی سے عمل کرنا چاہئے تاکہ اس بحران کے جانی و مالی نقصانات سے حتی الامکان بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں