11

دنیا کے مہنگے ترین ’چوکور تربوز‘ جنہیں کھایا نہیں جاسکتا

ٹوکیو: 

جاپانی قصبے تاکاماتسو کے کاشتکاروں نے اپنے علاقے کو مشہور بنانے کےلیے آج سے تقریباً 50 سال پہلے وہاں عجیب و غریب تربوز اُگانے شروع کیے جو عام تربوزوں کی طرح گول نہیں بلکہ چوکور ہوتے ہیں۔ آج یہ تربوز نہ صرف جاپان کی شناخت بن چکے ہیں بلکہ اتنے مہنگے ہیں کہ ایسے ایک تربوز کی قیمت 100 ڈالر (16 ہزار پاکستانی روپے) سے شروع ہو کر 1000 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) یا اس سے بھی زیادہ جا پہنچتی ہے۔ اس کے باوجود، ان تربوزوں کو ڈرائنگ روم میں سجایا تو جاسکتا ہے لیکن کھایا نہیں جاسکتا۔

آج ان کی کاشت صرف تاکاماتسو تک محدود نہیں بلکہ جاپان کے مختلف علاقوں میں انہیں اگایا جارہا ہے اور آن لائن فروخت بھی کیا جارہا ہے۔ اگرچہ ان کی کاشت قدرتی طریقے پر ہی کی جاتی ہے مگر یہ چھلکے سے لے کر اندرونی حصوں تک بہت سخت اور بدذائقہ ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت کھایا نہیں جاسکتا۔

البتہ، ان ’’چوکور تربوزوں‘‘ کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ان تربوزوں کا مقصد ہی سجاوٹ اور آرائش ہے جبکہ کھانے پینے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لہذا وہ اندر سے ان کے سخت ہونے یا کھانے کے قابل نہ ہونے کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔

اگر آپ بھی جاپان کی یہ انوکھی سوغات خریدنا چاہتے ہیں تو انٹرنیٹ پر Square Watermelon لکھ کر تلاش کیجیے، کئی آن لائن اسٹورز پر ایسے چوکور تربوز آپ کےلیے موجود ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں