32

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی نئی مثال

جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد بااثر اقوام نے اقوامِ متحدہ کے نام سے نیا عالمی ادارہ قائم کرتے ہوئے عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ دنیا کو جنگ کی ہولناکیوں اور انسانی المیوں سے بچایا جائے گا۔ بعض بین المملکتی و علاقائی تنازعات کے ضمن میں نئے ادارے نے اگرچہ مثبت کردار ادا کیا مگر کشمیر اور فلسطین جیسے معاملات میں اس کا کردار مخصوص طاقتوں کے مفادات کا اسیر نظر آیا۔ 5اگست 2019کو نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیر کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع ریاست کو بھارت میں مدغم کرنے کے اعلان کے ساتھ بھارتی فوج کے زیر تسلط مسلم اکثریت پر مشتمل کشمیر کے علاقے اور خود بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ جس ظلم و زیادتی کا رویہ اختیار کیا، وہ دنیا دیکھ رہی ہے مگر جمعرات 2جولائی 2020کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر اس اعتبار سے بھارتی بربریت کی نئی مثال کہی جا سکتی ہے کہ اس نوع کے جانے کتنے واقعات کا جموں و کشمیر کی وادی اور بھارت کی مسلم یا عیسائی یا دیگر مذہبی و نسلی آبادیوں کے لوگوں کو گئوکشی جیسے الزامات کے تحت سامنا تو کرنا پڑا ہے مگر کوئی ایسا ٹھوس تصویری ثبوت سامنے نہیں آسکا جو بھارتی حکمرانوں کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا سکے۔ تصویر میں تین سال کی عمر کا ایک بچہ عیاد ایک لاش کے سینے پر بیٹھا رو رہا ہے۔ لاش اس کے نانا، سری نگر کے رہائشی ٹھیکیدار، بشیر احمد کی ہے جو نواسے کو تعمیراتی سائٹ پر سوپور لیکر جا رہا تھا کہ سی آر پی ایف کے یونیفارم میں ملبوس اہلکار نے اسے گاڑی سے اتارا اور گولیاں مار کر شہید کر دیا جبکہ بچے کو نانا کی لاش پر بٹھا کر اپنی حیوانی جبلت کی تسکین پر مبنی تصویریں بنائیں۔ اس واقعہ پر احتجاج کے لئے سیکڑوں افراد جمع ہو گئے جبکہ بھارتی فوجیوں کی انسانیت دشمنی کا مزید مظاہرہ راجوری کے علاقے میں دو نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کی صورت میں سامنے آیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف سمیت پاکستانی رہنمائوں کی طرف سے ہی نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں کی طرف سے بھی اس واقعہ کی بھرپور مذمت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے یورپی یونین سمیت کئی اداروں سے اس باب میں رابطہ کیا ہے۔ عالمی ضمیر بھارتی حکمرانوں کو تاحال یہ سمجھانے میں ناکام ہے کہ جس معاشرے میں مختلف مذاہب کے پیروکار اور مختلف زبانیں بولنے والی بڑی بڑی اقلیتیں آباد ہوں وہاں وقتی سیاسی ضرورتوں کیلئے اندرونی طور پر آگ بھڑکائی جائے یا ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اشتعال و کشیدگی کا رویہ رکھا جائے۔ وہ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ سے نہیں بچ سکتا۔ بھارت کا اپنا مفاد اس میں مضمر ہے کہ وہ لسانی و مذہبی اقلیتوں کی حفاظت کرے اور اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ بھارت صدیوں سے جن حملہ آوروں کا ہدف رہا ہے ان کا راستہ پاکستانی علاقے رہے ہیں۔ بھارتی دانشوروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سماج کو ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے روکنے کے ضمن میں مستحکم پاکستان کی اہمیت اجاگر کریں۔ آج کورونا وائرس سے پیدا شدہ کیفیت میں اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ جب جب ہولناک وبائوں، قحط سالیوں، بلائوں کے نزول کو ملکوں اور گروہوں کی طرف سے جنگ کیلئے مناسب موقع سمجھنے کی غلطی کی گئی، تہذیبوں اور علوم و فنون کا کوئی نہ کوئی حصہ انسانی دسترس سے نکل گیا جن کےکچھ آثار اہرام مصر جیسے عجائبات کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ نئی دہلی میں یا کسی اور مقام پر بیٹھا کوئی حکمران آگ سے کھیلنے کی غلطی کرے گا تو وہ صفحات تاریخ سے اپنا اور اپنی قوم کا نام و نشان تک ختم کرنے کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں