آئزک نیوٹن۔۔۔۔۔ایک عظیم اور پُراسرار سائنسدان

1642 ء میں کرسمس کے دن آئزک نیوٹن لنکن شائر انگلینڈ میں اپنے باپ کے خاندانی پتھر کے بنے ہوئے کھیت گھر (Farm House) میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔انیس برس کی عمر میں وہ کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوا اور جلد ہی علمِ ریاضی کے ان تمام درجوں اور مسائل سے آگاہ ہو گیا جو اس کے پروفیسر پیش کر سکتے تھے۔ اس نے علمِ ریاضی میں اپنی ترقی جاری رکھی اور کچھ ایسی اور دریافتیں بھی کیں جو صحیح معنون میں دریافتیں تھیں۔ مثلاً مسئلہ شنائی اور تکملی احصاء (آخر عمر میں اس نے اختلافی احصاء ایجاد کیا)۔کہا جاتا ہے کہ ایک روز نیوٹن گھر کے باغ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس نے ایک سیب کو زمین پر گرتے دیکھا۔ اس بات پر اس نے سوچنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ سیب اوپر جانے کی بجائے زمین پر کیوں گرا؟ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کششِ ثقل ہے۔ کششِ ثقل کیا ہے؟ عین ممکن ہے کہ کششِ ثقل صرف زمین پر ہی کارفرما نہ ہو، ہو سکتا ہے یہ چاند تک پھیلی ہوئی ہو۔ کون جانے؟

ہو سکتا ہے یہ کششِ ثقل ایک عالمگیر قوت ہو۔ اس وقت نیوٹن کے قاعدہ نے جنم لیا۔نیوٹن نے جب کششِ ثقل کے مسئلہ پر جدوجہد کی تھی، اس کے تقریباً بیس برس بعد اسے فرانس کے ایک سائنسدان کا پیغام موصول ہوا۔ جس نے زمین کے متعلق آج تک پیش کیے گئے اعدادوشمار میں شدید غلطیاں ڈھونڈ نکالی تھیں۔ خطِ استوا آج تک جتنا لمبا سمجھا جاتاتھا وہ اس سے چار ہزار میل زیادہ لمبا نکلا۔ عرض بلد کا درجہ ساٹھ میل کے برابر ہونے کے بجائے ساڑھے انہتر میل تھا۔ جس وقت نیوٹن نے یہ خبر سنی تو وہ پھر اپنے ان تخمینوں کی طرف پلٹا جنہیں وہ کئی برس پہلے ترک کر چکا تھا۔ اب درست اعدادوشمار کی بدولت وہ آخرکار درست نتیجہ نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کا عظیم جوش و خروش سچا تھا۔ کششِ ثقل واقعی ایک عالمگیر ضابطہ تھی۔ مگر نیوٹن اتنا منکسر المزاج تھا کہ اس نے اپنے کاغذات ایک طرف رکھ دیئے اور اپنی توجہ دوسرے امور کی طرف مبذول کر دی۔ ایک دن اس کے دوست اور عظیم ماہرِ فلکیات ہیلی کو، جس کے نام پر ایک سیارے کا نام ’’ہیلی‘‘ رکھا گیا ہے، یہ معلوم ہو گیا کہ نیوٹن نے کششِ ثقل کے سلسلہ میں کچھ کام کیا ہے۔
وہ اس کے متعلق اس سے ملنے آیا۔ ’’کیا تم واقعی یہ بتا سکتے ہو کہ سورج کے گرد ایک سیّارے کی گزرگاہ کیا ہے؟‘‘ ’’ہاں‘‘ ’’تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟‘‘ ’’میں نے تخمینہ لگایا ہے۔‘‘ ’’کیا کہا۔۔۔ وہ اعدادوشمار کہاں ہیں؟‘‘ نیوٹن نے ان کو تلاش کیا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ کاغذات اسے مل نہ سکے۔ وہ بھول گیا تھا کہ اس نے وہ کاغذ کہاں رکھے تھے۔ بہرحال وہ اپنے دوست کی خاطر کام کرنے بیٹھ گیا اور اس سوال کو دوبارہ حل کر دیا۔ ہیلی اسے تعریفی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بھونچکا رہ گیا اور بولا ’’یہ ایک حیرت ناک دریافت ہے، تاریخ کی سب سے بڑی دریافت۔اسے شائع کیا جانا چاہیے۔‘‘اگر ہیلی نہ ہوتا تو شاید یہ کتاب کبھی شائع نہ ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1687 ء میں وہ کتاب شائع ہوئی جس نے آئزک نیوٹن کے نام کو سائنس کی تاریخ سے ہمیشہ کے لیے منسلک کر دیا۔ ان دنوں چونکہ عالموں کی بین الاقوامی زبان ابھی تک لاطینی تھی لہٰذا یہ کتاب بھی لاطینی زبان میں لکھی گئی اور اس کا عنوان بہت لمبا تھا۔ اب اس کتاب کے نام کو اسی کے ایک لفظ ’’پرنسپیا‘‘ تک مختصر کر دیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب ’’ریاضیاتی اصول‘‘ (Mathematical Principles) کے نام سے معروف ہے۔ یہ بات قطعاً حیران کن نہیں ہے کہ ایسا ذہین آدمی چوبیس سال تک ہر سال کیوں رائل سوسائٹی کا صدر چُنا جاتا تھا۔ وہ اس عہدہ پر اپنی موت تک فائز رہا۔
1704 ء میں ملکہ این نے اسے سر کے خطاب کا اعزاز بخشا اور اس دن سے وہ سر آئزک نیوٹن ہو گیا۔ پچاس برس کی عمر میں موت کا پیغام آنے سے ذرا پہلے، جس وقت ساری دنیا اس کے کردار اور اس کی ذہانت کا احترام کرتی تھی، اس نے یہ الفاظ کہے جو اس کی خُوئے انکسار کے مظہر ہیں۔ ’’میں نہیں جانتا کہ میں دنیا کو کیا نظر آتا ہوں لیکن میں تو اپنے آپ کو ایک بچہ سمجھتا ہوں جو سمندر کے کنارے کھیل رہا ہو، میں کبھی کبھار ایک ہموار پتھر یا خوبصورت سیپی ڈھونڈنے میں مصروف رہا جب کہ صداقت کا ایک عظیم سمندر (اپنے موتیوں کے ساتھ) میرے سامنے موجود ہے اور بڑی حد تک ناقابلِ دریافت۔‘‘ یہ الفاظ اس شخص نے کہے ہیں جس شخص کے متعلق یہ کہا جاتا ہے۔ ’’اس کی ذہانت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔‘‘ آئزک نیوٹن کا افسانہ حیات نامکمل رہے گا، اگر اس کی موت کے بہت بعد کے ایک واقعہ کو پسِ نوشت کے طور پر قلمبند نہ کیا جائے جو کششِ ثقل کے متعلق اس کے قاعدہ کے ڈرامائی مظاہرہ کے طور پر رُونما ہوا۔ 1757 ء میں جرمنی کا ایک بانسری بجانے والا ایک فوجی بینڈ کے ہمراہ لندن آیا۔ اس نوجوان نے بانسری تو ایک طرف رکھ دی اور دُوربین اٹھا لی۔ اس نے دُوربین سے متعلق جو کام کیا اس سے اس کو بھی سرکا خطاب مل گیا اور اسے آج سرولیم ہرشل کہا جاتا ہے۔ 1781ء میں اس نے یہ بات دریافت کی کہ جس ستارے کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ وہ دراصل ہمارے نظام کا ایک سیّارہ ہے، اس سیّارے کا نام ہے ’’یورانس‘‘۔ جب ماہرینِ فلکیات نے ایک نئی دلچسپی سے اس سیّارے کی طرف دیکھا تو وہ اس کے برتائو پر بہت پریشان ہوئے۔ نیوٹن کے قاعدہ کے مطابق یہ سیارہ مناسب ڈھنگ سے عمل نہیں کر رہا تھا۔ یہ سیارہ اپنی گزرگاہ پر سے مجنونانہ انداز سے کروٹ بدلتا ہے اور اس طرح کوئی بھی مہذب سیارہ نہیں کرتا۔ کہیں نیوٹن غلطی پر تو نہیں تھا؟ برسوں تک یورانس سیارہ ماہرینِ فلکیات کے لیے ایک معمہ بنا رہا۔ آخرکار 1845-46 ء میں ایک انگریز اور ایک فرانسیسی ماہرِ فلکیات نے مشورہ دیا کہ اَن دیکھا سیارہ شاید یورانس کی عجیب و غریب حرکت کا نتیجہ ہو۔ انہوں نے یہ مزید تخمینہ لگایا کہ اَن دیکھے ستارے کا تودہ اور اس کی اصل جائے قیام بھلا کیا ہو گی؟ یقینا اس اجنبی ستارے کو برلن گرین وچ اور برطانیہ کی مشاہدہ گاہوں میں ایک ساتھ دیکھا گیا۔ آسمان میں اس ستارے کی اصل جائے قیام کے متعلق پتہ چلا کہ وہ پہلے سے بتائی گئی جائے قیا م سے ایک درجہ سے بھی کم فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سیارہ ثابت ہوا۔ زمین سے 85 گنا زیادہ بڑا۔ یہ سیارہ نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ دُور ہے۔ اس کا تودہ ہی یورانس سیارہ کے عجیب و غریب برتائو کا ذمہ دار تھا۔ لہٰذا نیپچون سیارہ کی دریافت نیوٹن کے قاعدہ کا ایک شاندار ثبوت بن گئی۔ یہ سب دریافتیں سر آئزک نیوٹن کو ویسٹ منسٹر ایبے میں دفنانے کے ایک صدی بعد ظہور میں آئیں۔ (ولیم آلیور سٹیونز کی کتاب’’نامور سائنسدان‘‘ سے ماخوذ)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں