بلیو وہیل گیم، حقائق جانیے، اگلا شکار آپ بھی ہوسکتے ہیں

حالیہ دنوں میں بلیو وہیل نامی خوفناک اور جان لیوا آن لائن گیم غیر ملکی اخباروں کی شہ سرخیوں کا حصہ بنا ہوا ہے، یہ گیم اب تک 130 نوجوانوں کی موت کا سبب بن چکا ہے۔

بلیو وہیل چیلنج نے دنیا میں خو ف پھیلا یا ہوا ہے، یہ بہت خطرناک گیم ہے، جس کے کھیلنے والوں کو مختلف ٹاسک دیئے جاتے ہیں،

بلیو وہیل چیلنج ایک ایسا کھیل ہے جس کی جیت اس کے کھیلنے والے کو موت سے ہمکنار کردیتی ہے، 50چیلنجز پر مشتمل گیم کا آخری چیلنج خودکشی ہے۔

بلیو وہیل گیم کا آغاز 2013ء میں روس سے ہوا اور اب دنیا کے کئی ممالک تک پہنچ چکا ہےاور 130 افراد اسے کھیلنے کے بعد خودکشی کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایسا گاؤں‌جہاں‌ہر فرد کروڑ پتی ہے، وجہ جانیے

اس گیم کا تصور ساحل پر آنے والی وہیل سے لیا گیا ہے ساحل پر پھنسے والی کچھ وہیل خودکشی کرنے کے لیے ساحل کا رخ کرتی ہے۔

گیم کا ہر ٹاسک مکمل کرنے پر پلیئر کو کہا جاتا ہے کہ اپنے بازو پر چاقو سے نشان بنائے، جیسے جیسے ٹاسک مکمل ہوتےہیں بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنتی جاتی ہے۔

blue-wheel-game

اس گیم کو بنا نے والے 22سالہ نفسیات کے طالب علم فلپس بڈیکن کو مئی میں گرفتار کیا گیا اور یہ گیم بنانے پر اسے تین سال قید کی سزا ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود یہ موت کا کھیل ابھی بھی جاری ہے اور لوگوں کی جان لے رہا ہے۔

اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ایجاد کے ذریعے معاشرے کی گند صاف کر رہا ہے، اس کے گیم سے متاثرہ افراد معاشرے کے لئے بیکار تھے اور انہوں نے خودکشی اپنی مرضی اور خوشی سے کی ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس گیم کا شکار ہونے والوں میں اکثریت نو عمر لڑکیوں کی ہے جو اپنے والدین کی جانب سے عدم توجہ اور پیار کی کمی کا شکار رہی ہیں۔فلپ نے ان کی اس کمزوری کو ہتھیار بنا کر انہیں نشانہ بنا یا۔

یہ بھی پڑھیں:تاریخ کے ایسے معمولی لوگ جنہوں نے دنیا کی تقدیر بدل دی

اس نے اپنا یہ گیم 2013 میں متعارف کرایا اور نوجوانوں کو خطرناک اقدام پر مجبور کیا۔جو نوجوان پہلےمرحلے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ،وہ گیم کو آگے بڑھانے کی غرض سے دوسرے مرحلے میں شامل ہو جاتے ہیں۔

گیم کے ابتدائی مرحلے کےتحت نوجوانوں کو مختلف ٹاسک دیئے جاتے ہیں جن میں ڈراؤنی فلمیں دیکھنا، آدھی رات کو جاگنا اور خود کو تشدد کا نشانہ بنانا شامل ہے۔

دوسرا مرحلہ پہلے سے دوگنا خطرناک اور صحیح معنوں میں موت کا کھیل ہے جس میں نوجوانوں کو ہاتھ کی رگ کاٹنے، بلند عمارت کی منڈیر پر چلنے، جانور کو مارکر اس کی ویڈیو اور تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر مائل کیا جاتا ہے۔

ان ٹاسکس کو پورا کرنا ضروری ہو تا ہے، اس کی سب سے خطرنا ک بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ اس گیم کا حصہ بننے کے بعد اسے ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، آخری ٹاسک میں خودکشی ہے، جسے پورا کرنا ہی کھیل کا خاتمہ ہے اور لوگ اسے انجام دینے کیلئے موت کو منہ لگا لیتے ہیں۔

ٹاسک سے انکار پر اس کی ذاتی معلومات شائع کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے، اسی وجہ سے گیم شروع کرنے والے کے لیے ایک بار گیم شروع کر کے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ گیم دراصل وائرس کے طورپر کام کرتا ہے،اس گیم کی با قاعدہ کوئی ایپلیکیشن نہیں ہے، یہ ایک لنک کی صورت میں ملتا ہے اور اس کو شروع کرتے ہی وائرس کھیلنے والوں کی ڈیوائس میں منتقل ہوجاتا ہے اور کھلاڑی کی تمام معلومات حاصل کر کے اسی انفارمیشن کی بنیاد پر آپریٹر مختلف ٹا سک پورا کرنے کو کہتا ہے۔

اس گیم کی وجہ سے ارجنٹائن، برازیل،بلغاریہ، چلی،چائنہ، کولمبیا، جارجیا،انٖڈیا، سعودی عرب،اٹلی، کینیا، پیراگوائے،پرتگال،روس، سربیا، امریکہ، اسپین، یوراگوائے اور وینرویلا سمیت بیشتر ممالک میں بیسوں ٹین ایجز لڑکے لڑکیاں خود کشیاں کر چکے ہیں اور بہت سے ابھی بھی نازک حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں۔

بلیو وہیل گیم کا خوف پھیلتا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر اس سے دور رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

حال ہی میں اس گیم کی وجہ سے بھارت میں 5افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں، اس گیم سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کی پوری ذمہ داری والدین پر عائد ہو تی ہے کہ وہ ان کی ہر حرکات پر نظر رکھیں اور انہیں اس بارے میں آگاہ کریں ۔

یہ بھی پڑھیں:مور ساری زندگی جنسی تعلق قائم نہیں کرتا ۔۔۔پھر مورنی حاملہ کیسے ہوتی ہے؟انوکھی بات پتہ چل گئی

سائبرسیکورٹی ایکسپرٹ فاروق خان کا کہنا ہے کہ یہ ایک انٹر نیٹ گیم ہے، جو پاکستان سمیت پوری دنیا میں پنجے گاڑ رہا ہےجس کی وجہ سے خوف وہراس پھیل گیا ہے،اسے ہم نے خودکشی گیم کا نام دیا ہے۔

یہ کھیل نوجوانوں کو نفسیاتی، سماجی اور دیگر طریقوں سے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے، بچوں پر اس کا حملہ بڑی جلدی مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ بچے پیسوں کے لا لچ میں یا کسی اور دبائو کے نتیجے میں ان ہدایات پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔

یہ گیم مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے لنک کے ذریعے لوگوں کو بھیجا جارہا اور پھر اس کے کھیلنے والے کے مصیبت کے دن شروع ہوجاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس گیم یا ایسی کسی بھی غلط سمت میں انہیں جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

یہ بھی پڑھیں:برما میں‌ظلم و ستم کی داستان…کیا حقیقت کیا فسانہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں