برما میں‌ظلم و ستم کی داستان…کیا حقیقت کیا فسانہ

اس تصویر کا برما میں ہونے ولے مظالم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ دراصل جولائی 2010 میں افریقی ملک کانگو میں پیش آنے والے تباہ کن حادثہ کی ہے جہاں ایک آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ ہوا تھا اور اس کے نتیجہ میں 220 افراد جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ریفرینس ڈیلی میل اخبار
اس تصویر کا نہ تو برما سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ترکی یا کسی اور اسلامی ملک کی فوج سے۔یہ تصویر دراصل سال 2008 کی ہے جس میں چائنہ کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے بدھ مت کے مذہبی پیشواؤں کو چینی سیکورٹی فورسز کے اہلکار گرفتار کر کے لیجا رہے ہیں۔
فیس بک پر لاکھوں مرتبہ شیئر کی جانے والی اس تصویر کا برما کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ تصویر تبت (چین) کے بدھ مت مذہبی لوگوں کی ہے جو 2010 میں آنے والے زلزلہ میں امدادی کاموں میں حصہ کے رہے ہیں۔
یمن پر سعودی افواج کی بمباری کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اعضاء کو بھی برما کے مظالم سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے، جس کی ایک مثال یہ تصویر ہے۔
اس تصویر کا بھی برما سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ دراصل انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کے سکول میں ہونے والے “سٹنٹ” کی تصویر ہے جس پر بعد ازاں پابندی عائد کر دی گئی۔ریفرینس، دی گارڈین اخبار
اس تصویر کا برما سے کوئی تعلق نہیں، یہ دراصل چائنہ میں اولمپک گیمز کی ٹریننگ کی تصویر ہے جس کے دوران بچوں کو بہت “ظالمانہ انداز” سے تیاری کروائی جاتی ہے۔ریفرینس ڈیلی میل یوکے
ان میں جو ترکی کے فوجی دکھائے گئے ہیں یہ ترکی کی اندر ہی ٹریننگ کے دوران کی ہے اور نیچے دائیں طرف والی تصویر میں نارنجی رنگ میں ملبوس امریکی صحافی کو داعش کے دہشت گردوں نے قتل کیا ہے اور بائیں طرف والی تصویر میں داعش کے دہشتگرد عراقی فوجیوں کو قتل کر رہے ہیں۔
جذبہ ایمانی نام کے فیس بک پیج سے شیئر کی جانے والی یہ تصاویر بھی برما کی نہیں ہیں۔اور نہ ہی ان کا ترکی سے کوئی تعلق ہے۔یہ دراصل نومبر 2014 میں کمبوڈیا کی ایک عدالت کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے بعد گرفتاریوں کی تصاویر ہیں۔بحوالہ دی گارڈین

یہ بھی دیکھیں: یوم دفاع پر پاک آرمی کی طرف سے اسلحہ نمائش

روہنگیائی مسلمانوں کے قتلِ عام سے جہاں میڈیا کو چٹخارے دار موضوع مل گیا ہے وہیں مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیائی ” مجاہدین” کی بھی دکان چمک اٹھی ہے۔۔۔بابا کوڈا آج کل اپنی ہر پوسٹ میں “فوٹو شاپڈ” تصویروں کا ذکر کر کے گالیاں کھا رہا ہے لیکن ان تصاویر کا ثبوت دینے کی اسے فرصت نہیں ہوئی۔۔خیر، یہ ویب سائٹس اور پیجز کی ریٹنگ کا گورکھ دھندہ ہی ایسا ہے کہ جس قدر آپ کی پوسٹ میں مصالحہ ہوگا اور لوگ اختلاف کریں گے اتنی زیادہ آپ کی دکان چلے گی۔۔۔
دنیا کا صرف ایک اصول ہے وہ یہ کہ طاقتور پر کوئی اصول لاگو نہیں ہے، عام زبان میں اسے “مائٹ از رائٹ” کہا جاتا ہے۔۔۔ستر سال گزر جانے کے باوجود ہم متوازن خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے پائے،کل جو ہمارے “دوست” تھے آج وہی ہمارے پر کترنے پر تلے ہیں۔۔۔یہ اتفاق نہیں ہے کہ برما کے خلاف خواجہ آصف کے بیان کے فوراً بعد مودی نے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برما کا دورہ کیا اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔۔۔اس دوران آنگ سان سو چی نے بیان جاری کیا کہ میانمار حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر جعلی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔۔۔۔
کل میں نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک شخص کلہاڑی سے دوسرے شخص کی انگلیاں کاٹ رہا ہے، اس ویڈیو کو ساڑھے چار لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے تھے اور اس ویڈیو پر عنوان تھا “برما کے مسلمانوں پر مظالم”۔۔۔۔گوگل پر ویڈیو سرچ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو وینزویلا کی ہے جس میں موٹر سائیکل چور کی انگلیاں کاٹی جارہی ہیں۔۔۔اسی طرح برمی مسلمانوں سے ہمدردی جتانے اور لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے پچھلے کچھ دنوں سے ایسی کئی تصاویر برما سے منسوب کرکے شیئر کی جارہی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔برمی مسلمانوں پر گزشتہ سو سالوں سے ہونے والے مظالم سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن عقل کے اندھوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ کسی بھی معاملہ پر جعلی تصاویر اور جھوٹی ویڈیوز شیئرکرنے سے آپکا موقف/کیس کمزور ہو جاتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ آپ جھوٹ پھیلانے کے مرتکب بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ مودی سرکار اس وقت اس سارے معاملے سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ آپ ان تصویروں کا اوریجن اٹھا کر دیکھ لیں تو وہ انڈیا ہی نکلتا ہے۔وہ تصویریں اور ویڈیوز پاکستان میں وائرل کررہا ہے تاکہ انکو دیکھ کر پاکستان کی عوام میں اشتعال پھیلےاور اس اشتعال کی وجہ سے چین کے خلاف پاکستانیوں کی نفرت میں اضافہ ہوکیونکہ برما چین کی کالونی ہے۔۔۔۔۔
اس معاملے کو جان بوجھ کر مذہبی مسئلہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ مسلمان نہ بھی ہو ں تو انسانیت کے ناطے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔۔۔برما پر دباؤ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس کی ڈوریں چین کے ہاتھ میں ہیں، اس ضمن میں ایک وفد تشکیل دے کر چین سے مدد کی درخواست کی جاسکتی ہے، بنگلہ دیش سمیت قریبی ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے،اگر ذرا غیرت بیدار ہوجائے تو مہنگے ترین پلازے، بلندو بالا عمارتیں او ر عیاشی کے اڈے بنانے والے حکمرانوں کے لیے چند لاکھ روہنگیائی مسلمانوں کی آباد کاری کرنا کوئی مشکل نہیں۔۔۔۔!!

تحریر: سعد الرحمٰن ملک

Comments

comments

2 تبصرے “برما میں‌ظلم و ستم کی داستان…کیا حقیقت کیا فسانہ

  1. Pingback: My title
  2. Pingback: Hum Pakistan

اپنا تبصرہ بھیجیں