کامیاب لکھاری بننے کے راہنما اصول

تحریروں کی مختلف اقسام ہیں مثلا مضامین’ رپورٹس’ خطوط اور تقریریں. ہر طرح کی تحریر کو لکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے کیونکہ ہر تحریر کا مقصد مختلف ہوتا ہے- آپ کا انداز تحریر ایسا ہونا چاہئے کہ آپ کا مقصد پوری طرح حاصل ہو جائے- درج ذیل ہدایات کو زیرغور رکھ کر اچھی تحریر لکھی جا سکتی ہے:

لکھنے کے مقصدسے واقفیت

لکھنے سے پہلے آپ سوچیں کہ آپ کیوں لکھ رہے ہیں- مضامین یا اسائنمنٹ میں آپ کا مقصد حقائق اور معلومات کی فراہمی اور ان کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا ہے- لیکن اگر آپ کاروباری رپورٹ لکھ رہے ہیں توکسی ممکنہ عمل کے لیے سفارشات دینا بھی آپ کا مقصد ہو سکتا ہے – ایک شکایتی خط لکھتے وقت آپ کا مقصد ایک مثبت جواب ہو گا جیسے رقم کی واپسی وغیرہ

دوران تحریر اپنا مقصد ہمیشہ ذہن میں رکھیں اور اپنے اصل موضوٰع سے دور جانے سے گریز کریں.


انداز تحریر کا انتخاب

دوران گفتگو ہم اپنے الفاظ اور خیالات کا انتخاب اپنے سامعین کی مطابقت سے کرتے ہیں – ہمارا اپنے مینیجریا استاد سے گفتگو کا دوستوں کے ساتھ گفتگو کے انداز سے بالکل مختلف ہوتا ہے- مختلف لوگوں سے ہم مختلف طرح سے بات کرتے ہیں- اچھی تحریر کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم یہی روش اپنائیں- لکھنے کا طریقہ ایسا ہوکہ جس قاری کے لیے آپ لکھ رہے ہیں وہ آسانی سے پڑھ کرسمجھ سکے اور جواب دے سکے- مختلف مقاصد کے تحت لکھائ کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے جیسا کہ تعلیمی لکھائی کا طریقہ کاروباری لکھائی اور بلاگ لکھنے کے طریقے سے مختلف ہے

منصوبہ کے ساتھ لکھنے کی ابتدا

اکثر لوگ بغیر منصوبہ بندی کے لکھنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے تحریر بے ترتیب ہو جاتی ہے اور مختلف حصوں میں کوئی خیالات کا ربط نہیں رہتا- اگر آپ دس ہزار لفظ کی رپورٹ یا ایک مختصر شکائتی خط لکھنے جا رہے ہیں تو ایک واضح منصوبہ اور اس منصوبہ کے تحت بنا ہوا ایک مکمل خاکہ ہی ایک کامیاب اور پر اثر تحریر لکھنے میں مددگار ہو گا

قاری کے لئے لکھیں اپنے لئے نہیں

آپ کا لکھنے کا مقصد اپنی تجاویز اور معلومات دوسروں تک پہنچانا ہے -ہر لفظ اور جملہ لکھتے ہوئے یہ مقصد آپ کے ذہن میں رہنا چاہئے- اپنے آپ سے پوچھتے رہیں جو کچھ لکھا ہے وہ کس قاری کے لیے ہے

آپ کو پتہ ہے جو لکھا ہے کیوں اور کس لیے لکھا ہے ورنہ آپ آسانی سے مقصد سے بھٹک سکتے ہیں- -بعض اوقات آپ قاری کو بالکل بھول کر اپنے لیے لکھنا شروع کر دیتے ہیںاس طرح نا صرف آپ کا وقت ضائع ہوتا بلکہ آپ دوسروں کا بھی وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں

قاری کی رہنمائی

آپکا کام پڑھنے والوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ آپ کا پیغام آسانی سے اور مکمل طور پر سمجھ سکیں- یہ ضروری ہے کہ ان کو پڑھ کر ہر چیز سمجھ آ جائے- ایک فقرے کا دوسرے فقرے سے اور ایک پیراگراف کا دوسرے پیراگراف سے ربط ہونا بہت ضروری ہے- یہ ربط تحریر میں روانی لاتا ہے اور قاری کو آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے .تحاریر کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ عام فہم ہوں’ اپنے مقاصد کو ظاہر کریں اور لکھنے والے کا پیغام قاری تک پہنچایئں .
:
ادبی سرقہ سے اجتناب
کسی کتاب کااقتباس تھا حوالہ نہیں دیا۔یہ خیانت ہے،جس کتاب سے کوئی تحریر لیں،اس کا حوالہ ،کم از کم کتاب کا نام ضرور آخر میں ذکر کیا کریں۔کسی اورکی تحریراپنے نام سے بھیج دی۔یہ علمی سرقہ اور بد دیانتی اور جھوٹ بھی ہے کہ ایک چیز آپ کی نہیں،اور آپ کا دعویٰ ہے کہ وہ میر ی ہے۔ایسے لکھاری کا پول کھلتا ہے تو بدنامی تو ہوتی ہی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ اکثر ادارے ایسے لوگوں کو بلیک لسٹ بھی کردیتے ہیں،جو ایک مستقل محرومی ہے۔

ادارتی پالیسی سے مطابقت
جس اخباریارسالے اورویب سائٹ کوتحریربھیجی اس کی پالیسی جاننے کی کوشش کی اورنہ ہی شایع ہونے والی تحریروں سے اس کااندازہ لگایا۔کئی لکھاری حضرات میلنگ لسٹیں بناتے اور ہر تحریر لسٹ میں درج ہر ادارے کو بھیجتے ہیں ،ایسی تحریروں کے ضایع ہونے کے چانس شایع ہونے سے زیادہ ہوتے ہیں۔اسی زمرے میں یہ بھی آتا ہے کہ :مثلاً:مدارس کے اخبارمیں نمازروزے کی ابتداء معلومات بھیح دیں یاسیاسی اخبار کو اصلاحی مضمون بھیح دیا یاکرکٹ اورصحت کے حوالے سے کالم جمعہ ایڈیشن کوبھیج دیا۔موقع محل کے خلاف لکھامثلا:رجب کے مہینے میں رمضان کاذکروغیرہ۔ تحریر کے ضائع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جس سیکشن یاپیج کے لیے تحریرلکھی میل میں اس کاحوالہ دیااورنہ ہی تحریرکے شروع میں اس کی صراحت کی مثلا:ادارتی صفحہ۔اسلامی صفحہ وغیرہ۔

املا اور دیگر غلطیاں
اپنی تحریر کو کئی کئی مرتبہ اصلاح کی نیت سے خود بھی پڑھیے اور کسی ماہر لکھاری سے بھی اصلاح لینے کی کوشش کیجیے۔اس کی نشان دہی کردہ امور کو سمجھ کر ان کم زوریوں کو دور کرنے کی کوشش آ کی تحریر میں مزید نکھار پیدا کرنے کاباعث بن سکتی ہے۔
لغت دیکھنا خامی نہیں خوبی ہے،یہ آپ کی علمی وقلمی مہارت کے بھی خلاف نہیں ،بڑے بڑے لکھاریوں کی میزیں لغات سے بھری رہتی ہیں،اس لیے لغت کو ہمیشہ ساتھ رکھا کیجیے۔اسی طرح یہ بھی تحریر کے رد ہونے کی وجہ بن سکتی ہے کہ :تحریرکسی اجنبی فارمیٹ میں ٹائپ کی،جو عام طور پر مستعمل نہیں ۔میرے پاس کئی ایسی تحریریں آتی ہیں ،جو کھلتی ہی نہیں،ان کا ضایع ہونا یقینی ہے۔یہ بھی ایک خامی ہے کہ:لکھنے سے پہلے مطالعہ کیااورنہ ہی غوروفکربس جی میں جوآیالکھنے بیٹھ گئے۔تحریرمیں درج اشخاص۔مقامات۔سنین وتواریخ کی درستی کے لیے متعلقہ کتب یاویب سائٹس کی مراجعت نہیں کی بس اپنے حافظے پرتکیہ کیااورلکھ مارا۔یا درکھیے!اچھا لکھنے کے لیے اچھا ذوق مطالعہ ضروری ہے،ہمیشہ پڑھیے اورخوب پڑھیے،اس سے خیالات میں ندرت اور مواد میں قوت پید اہوتی ہے۔
رموزاوقاف کی رعایت نہیں کی،یاپیراگرافنگ کے اصول وضوابط کے خلاف پیراگراف بنادیے۔۔رموز اوقاف اور پیراگراف سے معنی ومفہوم کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے،اس کا عدم استعمال بھی جرم ہے اور غلط وبے موقع استعمال بھی،یہ ایک مستقل فن ہے ،جس کو اردو ادب کی کتابوں سے سیکھا جاسکتا ہے۔

کامیاب لکھاری وہ ہے جو:
کبھی اپنی تحریرسے مطمئن نہ ہو۔خودکوسب کچھ نہ سمجھ بیٹھے۔ہرتحریرکامطالعہ اس نیت سے کرے کہ مجھے اس سے سیکھناہے۔ہرچیزکامشاہدہ ایک ناقداورمبصرکی حیثیت سے کرے۔اردوزبان کے تحریری اسلوب میں آنے والی تبدیلیوں اوراجنبی الفاظ سے باخبررہنے کے لیے ادبی رسائل وجرائد جرنلزاورکتب کامطالعہ کرتارہے۔

بشکریہ: مولانا محمد جہان یعقوب

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں