لڈو سٹار، پرزم اور ڈیجیٹل جاسوسی

آج کل سوشل میڈیا پر بیری کمپنی کی متعارف کردہ “لڈو سٹار” گیم کا چرچا ہے جس سے متعلق تبصرے اور معلومات ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں۔حال ہی میں ایک مفتی نے اس گیم کو غیر اسلامی قرار دیا جبکہ دوسری طرف ایک اور خبر مشہور ہوگئی کہ بھارتی ایجنسیاں “لڈو سٹار”کے ذریعے پاکستانیوں کی جاسوسی کر رہی ہیں اس لیے اس گیم کا بائیکاٹ کیا جائے۔سننے میں یہ مضحکہ خیزمعلوم ہوتا ہے کہ کہ ایک گیم کے ذریعے جاسوسی کیونکر ممکن ہوسکتی ہے اور ایک عام شخص کی جاسوسی کر کے ملک دشمن عناصر کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں؟لیکن یہ حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے جہا ں ہر شعبہ زندگی میں انقلاب برپا کیا ہے وہیں روایتی جاسوسی کا نظام بھی الیکٹرونک ہوچکا ہے۔
اگر آپ غور کریں تو فیس بک پر سائیڈ بار میں چلنے والے اشہارات آپ کے رجحان اور مزاج کے مطابق ہوتے ہیں ۔یہی نہیں اگر آپ کو کسی ایسے دوست کی فون کال یا میسج موصول ہو جو آپ کے پاس فیس بک پر ایڈ نہیں تو چند دنوں میں ہی آپ اس دوست کی پروفائل کو فیس بک پر ریکمنڈڈ فرینڈز 129(People you may know) کی فہرست میں پائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک آپ کے موبائل پر ہونے والی تمام کالز اور میسجز کو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔ وکی لیکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے جدید موبائل سافٹ ویئر، اسمارٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ کو آلاتِ جاسوسی کے طور پر استعمال کررہا ہے جبکہ آن لائن وڈیو کالنگ سروس “سکائپ”اور وائی فائی نیٹ ورکس کے ذریعے بھی سیاسی رہنماؤں، سرکاری عہدیداروں اور عام لوگوں تک کی جاسوسی کی جارہی ہے۔ہیکنگ کے دیگر آلات میں ونڈوز، اینڈروئیڈ، ایپل آئی او ایس/ او ایس ایکس اور لینکس آپریٹنگ سسٹم والے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ راؤٹرز کو نشانہ بنانے والے سافٹ ویئرز شامل ہیں۔اس ہولناک حقیقت کاانکشاف 2013 ء میں سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ ایڈور ڈ سنوڈ ن نے کیا۔انہوں نے برطانوی اخبار “دی گارڈین” کے ذریعے دنیا کو امریکہ کے ڈیجیٹل جاسوسی پروگرام “پرزم”سے آگاہ کیا جس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں سراغ رسانی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں فیس بک، یو ٹیوب، سکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی(NSA) ،برطانیہ کی گورنمنٹ کمیونیکشن ہیڈکوارٹرز (GCHQ) اور اسرائیل کی موساد دنیا میں ڈیجیٹل جاسوسی کا سب سے بڑا منبع ہیں جو سینکڑ وں این جی اوز، ٹیکنالوجی کمپنیز اور مختلف فرموں میں موجود دلالوں کے ذریعے لوگوں کی ذاتی تصاویر، ویڈیوز، ای میلز اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل جاسوسی کے تین بڑے ذرائع جن میں سب سے ہم انٹرنیٹ ہے۔فیس بک اورگوگل سمیت نو بڑی کمپنیوں کے سرورز سے براہِ راست معلومات حاصل کرنے کے علاوہ مختلف ایپس کے ذریعے موبائل کی گیلری، کیمرہ، مائیک اور دیگر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔جب ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں تو وہ ہمارا ڈیٹا مختلف سرورز کو بھیج رہی ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق 53 فیصد ایپس ڈیٹا چوری کرتی ہیں جس کی ایک عام مثال فلیش لائٹ ایپ ہے جس کا مقصد اندھیرے میں موبائل کو ٹارچ بنانا ہے مگر یہ آپ کی کانٹکیٹ لسٹ کو چوری کرتی ہے۔دوسرا بڑا ذریعہ فائبر آپٹک ہے جس کے ذریعے عالمی کمیونیکیشن کی نگرانی کی جاتی ہے۔”گارڈین” کے مطابق برطانیہ کو دو سو فائبر آپٹک کیبلز تک رسائی حاصل ہے جس کے ذریعے وہ یومیہ چھ سو ملین کمیونیکشن کی نگرانی کر سکتا ہے۔جاسوسی کے ایک اور طریقہ کار کے مطابق موبائل کمپنیز کے ذریعے فون ٹیپنگ کے علاوہ ہر روز 18وائرس ( ٹروجن )بنائے جاتے ہیں جو لوگوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی جاسوسی پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے پس پردہ عالمی اداروں کے کیا مقاصد ہیں تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ نیور ورلڈ آرڈر کے مطابق ہر ملک عالمی سطح پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے جس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کی ڈیجیٹل پروفائلنگ کی جاتی ہے جس کے ذریعے اس کی سوچ، خیالات، لین دین، رجحانات اور تمام دلچسپیوں کو ڈیٹا بیس میں مسلسل ریکارڈ کیا جاتا ہے۔اس طرح جب بھی کسی شخص کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تو اس ڈیٹا بیس سے ایک کلک سے حاصل ہو جاتی ہے۔ کسی خطے اور قوم سے متعلق بنیادی معلومات اگر آپ کے پاس موجود ہوں تو آپ اس خطے کے لوگوں کا مجموعی نفسیاتی طرزِ عمل آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ نا صرف نفسیاتی طرزِ عمل بلکہ قوموں کے مجموعی طرزِ فکر، ایکشن، ری ایکشنز اور متوقع فیصلہ سازی کے بارے میں آپ بڑی آسانی سے ایک زائچہ تیار کر سکتے ہیں۔ یہی وہ معلومات ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتیں کسی ملک کے حالاتِ زندگی، نفسیات اور معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ”ٹاپ سیکرٹ بجٹ ڈاکومنٹس” میں بلیک بجٹ کے نام سے ترتیب دی گئی 178 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں امریکی خفیہ اداروں نے پاکستان میں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کے سلسلے میں جاسوسی نیٹ ورک کو توسیع دی ہے۔واضح رہے کہ مارچ 2013ء کے انکشافات کے مطابق پاکستان عالمی جاسوسی اداروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں سے ایک ماہ میں ساڑھے تیرہ ارب خفیہ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ماضی میں برطانوی خفیہ ادارہ ٹیکنالوجی کمپنی “سسکو” کے راؤٹرز کو ہیک کر کے پاکستان میں مواصلاتی نظام کی جاسوسی کرتا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کے لیے تیزی سے جال بننے میں مصروف ہیں۔
*******

تحریر: سعد الرحمٰن ملک

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں