ریمنڈ‌ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی…..اہم رازوں سے پردہ اٹھ گیا

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی لکھی ہے جس میں انھوں نے لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلی روداد بیان کی ہے جس میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی بحران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

“دا کنٹریکٹر” پی ڈی ایف میں‌ڈاؤن لوڈ کرنے لیے یہاں کلک کریں.

وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔ریمنڈ ڈیوس انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے اور انھوں نے ایسی ہی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی بارہا مشق کی تھی۔ انھوں نے فوراً اپنا پستول نکال کر اس کے میگزین میں موجود 17 میں سے دس گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین سے فائر کر کے ان دونوں موٹر سائیکل سواروں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو جان سے مار ڈالا۔

ریمنڈ ڈیوس کو ان دونوں کی ہلاکت کا ذرا بھر افسوس نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ میں نے نہیں بلکہ محمد فہیم نے پستول نکال کر کیا تھا: ‘اگر کوئی مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو (انھیں مار کر) میرا ضمیر صاف رہے گا کیوں کہ میرا اولین مقصد اپنے خاندان میں واپس آنا ہے۔’
ریمنڈ ڈیوس کو اسی دن گرفتار کر کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اسی وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کے لیے آئی تو اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی اور یوں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں گرفتارکر کے پہلے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد میں لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب امریکی سفارت خانے کو پتہ چلا تو انھوں نے ڈیوس کو رہائی دلوانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔

اہم پاکستانی شخصیات کی ساکھ پر سوالیہ نشان

ریمنڈ‌ڈیوس نے لکھا ہے کہ ان کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی میں مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف، پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا اور امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اہم کردار ادا کیا.
ریمنڈ ڈیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ جنرل پاشا نے میری رہائی کےلئے منصوبہ بنایا جبکہ کیمرون منٹر نے لاہور میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد میری رہائی کی راہ ہموار ہوئی، ریمنڈ ڈیوس نے دعوی کیا کہ کیمرون منٹر اور جنرل پاشا نے بیٹھ کر میری رہائی کا منصوبہ بنایا، ریمنڈ ڈیوس نے لکھا کہ جن دو افراد کو میں نے قتل کیا تھا ان کے لواحقین مجھے معاف کرنے کیلئے بالکل بھی راضی نہیں ہورہے تھے، تاہم انہیں پیسے دینے کے ساتھ دھمکیاں‌بھی دی گئیں جس پر وہ دیت لینے پر راضی ہوئے، انہوں نے لکھا کہ مقتولین کے ورثاء کو دیت لینے پر راضی کرنے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے اہم کردار ادا کیا تھا،انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ مقتولین کے ورثاء کو 23 کروڑ روپے دیت دی گئی اور یہ رقم آئی ایس آئی نے اپنی جیب سے ادا کی تاہم امریکہ نے بعدازآں‌ یہ رقم آئی ایس آئی کو کسی اور مد میں ادا کردی تھی.
ریمنڈ ڈیوس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن نے مجھے فون کرکے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس ہمیں تم پر فخر ہے،انہوں نے مزید لکھا کہ جب ہم جہاز میں سوار ہوگئے اورپاکستانی حدود سے باہر نکلنے تک میرے ساتھ بیٹھے امریکی سفارتکار خوفزدہ تھے کہ کہیں ہمیں دوبارہ پاکستان میں روک نہ لیا جائے تاہم ایسا بالکل نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جب امریکی حکام کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور انھوں نے اسامہ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر اسامہ کے خلاف آپریشن ہوا اور اس دوران ڈیوس پاکستانی حراست میں رہے تو انھیں مار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خود اس وقت کے صدر براک اوباما نے 15 فروری کو خود ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘ہمارا سفارت کار ہے’ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔
کتاب کے مطابق ریمنڈ ڈیوس پر تشدد نہیں کیا گیا، تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی دیا جاتا تھا اور اس دوران آنکھیں انھیں گھورتی رہتی تھیں۔ رات کو ان کے کمرے میں تیز بلب روشن رہتے تھے اور تیز موسیقی بجائی جاتی تھی تاکہ وہ سو نہ سکیں۔
اس دوران اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت منجدھار میں پھنسی ہوئی ہے، ‘اگر عوام کی سنی جاتی ہے تو دنیا ناراض ہو جاتی ہے اور اگر دنیا کے سنی جاتی ہے تو پھر عوام ناراض ہو جاتی ہے۔’
حسبِ توقع پاکستانی حکومت دباؤ میں آ گئی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مقدمہ عدالت میں تھا اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس لیے تیز اذہان سر جوڑ کر بیٹھے اور یہ تدبیر سوچی گئی کہ دیت اور خون بہا کے شرعی قانون کو حرکت میں لایا جائے۔
چنانچہ مقتولین کے ورثا کو منوا کر انھیں 24 لاکھ ڈالر خون بہا دیا گیا اور یوں 49 دن پاکستانی حراست میں رہنے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کر دیا گیا۔
اس وقت پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔

کتاب کی خوبی یہ ہے کہ ایک طرف ریمنڈ ڈیوس کے نقطۂ نظر سے ان سے کی جانے والی تفتیش اور مختلف عدالتوں میں پیشیوں کا احوال بیان ہوتا ہے، پھر اگلے باب میں امریکہ میں موجود ان کی بیوی کی زبانی ان پر گزرنے والے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بیچ میں امریکی سفارت خانے کی سرتوڑ کوششیں دکھائی جاتی ہیں، اور پھر ہم دوبارہ جیل پہنچ جاتے ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے اس کے بعض حصوں پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کتاب تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد اب کہیں جا کر شائع ہوئی ہے۔

‘دا کنٹریکٹر’ کے مطالعے سے پاکستانی تاریخ کے ایک خجالت آمیز موڑ کے مختلف پہلوؤں پر اس کے مرکزی کردار کے نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

اس کتاب میں سنسنی خیز جاسوسی ناولوں کی مخصوص تکنیک استعمال کرتے ہوئے قاری کے تجسس جو بار بار ہوا دی جاتی ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ کتاب خوب بکے گی اور اگر اس پر ہالی وڈ نے فلم بنائی، جس کا عین امکان ہے، تو مار دھاڑ سے بھرپور یہ فلم بھی باکس آفس پر خاصی کامیاب ثابت ہو گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں