Tweets کی سیاست

شکسپیئر نے کہا تھا Grass grows on the battle field but on the scaffold, neverمیدان جنگ میں تو گھاس اگ سکتی ہے مگر پھانسی گھاٹ پر نہیں ، اتنی شدید رعونت کہ خدا کی پناہ ، غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ، نیک خیالات تہس نہس ہو جاتے ہیں کامیاب جرنیل کی کامیابی کا انحصار اسکی سپاہ کی تعداد پر نہیں ہوتا مگر بروقت حکمت عملی پر ، دشمن کی چالوں کاادراک ، اس کی کمزوریوں پر ہی نہیں ، مضبوط پہلوؤں پر بھی عمیق نگاہ کی تڑپ ، کامیابی کو آسانی کی جانب گامزن کر دیتی ہے ، اپنی ذات میں گم رہنا اپنے کام میں مگن رہنے کی جستجو ، یہ حکمت عملی خدا کی طرف سے بطورانعام ہر کسی کو عطا کی جاتی ہے ، مگر اس پر غور کرنے کو چنداں کوئی تیار نہیں ، بدلہ لینے کی جستجو اور بھی کمزور کر ڈالتی ہے ، بزدل بنا دیتی ہے ، بقول ڈاکٹر ابرار عمر
صحن تک آگئی تھی بربادی
اور وہ سورہاتھا کمرے میں
کسی بھی نوعیت کی خبر کو ساری دنیا میں پھیلانے میں سوشل میڈیا سب سے آگے ہے ، صرف چند سیکنڈ میں دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگ اس خبر سے باخبر ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا کی ایک Appsہے جس کو Twitterکہا جاتا ہے ، اس کا پلڑہ ، خبر پھیلانے کے معاملے میں سب سے بھاری ہے ، ایک عرصہ تک بلاول بھٹو زرداری کی سیاست کا مکمل دارومدار اسی Appsکو استعمال کرنے پر منحصر رہا تھا ، بڑے میاں صاحب کی خیریت دریافت کرنا مقصود ہو یا Youngerشریف کو انکے کامیاب طرز حکمرانی پر شاباش دینا اسی Appsکے استعمال (Tweets) کے ذریعے اپنے دل کی بات من وعن ان تک پہنچائی جاتی ہے ، بلاول اکثر و بیشتر اپنے غصے کا اظہار بھی ٹویٹ کے ذریعے ہی کرتے رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ لندن میں مقیم انکل الطاف (ایم کیو ایم لندن والے) کے حال دل تک رسائی بھی Tweetsکے ذریعے ہی ہوتی رہی ہے ۔ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس Appsکو زیر استعمال رکھنے میں کسی سے پیچھے نہیں ، Youngerشریف ، عمران خان کو اسی Appsکے ذریعے آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ، حال ہی میں مریم صاحبہ نے اپنے والد گرامی کو PSL 2کے فائنل کے پاکستان میں کامیاب انعقاد پر تاریخی مبارکباد بھی ایک ٹویٹکے ذریعے گوش گزار کی تھی ، خان صاحب بھی کبھی کبھار ٹویٹ کی پچ پر باؤنسر مارتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ گو کہ نوجوانوں میں ٹویٹ کلچر متعارف کروانے کا سہرا بلاول کے سر باندھا جا سکتا ہے ، بدلتے دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ، سیاسی کمپیئن کو عوام تک پہنچانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے،Twitterکا استعمال ، 6اکتوبر 2016ء کو انگریزی اخبار ڈان میں سرل المیڈا کی Exclusiveسٹوری چھپی تھی ، جس کو فوری طورپر قومی سلامتی کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا گیا تھا ، اس Fabricatedاور Plantedسٹوری کی اشاعت کو نہ روک پانے کی پاداش میں اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بننا پڑا تھا ۔ ایک جینوئن سیاسی کارکن کے ساتھ ایسا سلوک ہونے پر بہت سے سیاسی کارکنوں کی دل آزاری ہوئی تھی چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ۔ڈان کے پہلے صفحے پر چھپنے والی اس Exclusiveسٹوری کا عنوان یہ تھا Act Against Militants Or Face international isolation, civilians tell militaryاس سٹوری کی اشاعت پر ’’دیدہ ور‘‘ طبقے کی طرف سے شدید ترین رد عمل سامنے آیا تھا ۔ جس پر وزارت داخلہ کی طرف سے نہ صرف Cyrilکا نام ECLمیں ڈال دیا گیا تھا بلکہ انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی تھی ، ڈان لیکس کی تحقیقات کیلئے جسٹس (ر) عامر رضا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی گزشتہ سال 7نومبر کو قائم کی گئی تھی ۔ کمیٹی کے اراکین میں آئی ایس آئی ، ایم آئی ، آئی بی ، کے نمائندگان کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے طاہر شہباز ، محتسب پنجاب ، انجم سعید اور ڈائریکٹر ایف آئی اے شامل تھے ۔حساس اداروں کے نمائندے کمیٹی میں اس لیے شامل کیے گئے تھے کہ شفاف تحقیقات ہوں اور دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو سکے ، وزیراعظم نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی موصولہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسکی سفارشات کی روشنی میں اپنے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی کو انکے منصب سے برطرف کر دیا ہے اسکے علاوہ پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کیخلاف ایفی شینی اینڈ ڈسپلن رولز مجریہ 1973ء کے تحت محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا ہے اور رپورٹ کے پیرا 18میں موجود سفارشات کی منظوری کے بعد ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس اور سرل المیڈا کیخلاف کارروائی کیلئے APNSکو متوجہ کیا گیا ہے ، بھونچال مگر ISPRکی طرف سے جاری کردہ Tweetنے پیدا کر دیا ہے جنہوں نے رپورٹ کے سامنے آجانے کے ٹھیک ایک گھنٹہ بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کے Officialٹویٹ کے ذریعے اس تحقیقاتی رپورٹ کو قطعی طور پرمسترد کر دیا ہے ، نواز شریف حکومت کی ’’دیدہ ور‘‘ طبقے کے ساتھ محاذ آرائی کوئی نہیں بات نہیں ، ماضی میں جنرل جہانگیر کرامت کو ایک بیان دینے کی پاداش میں گھر بھیج دیا گیا تھا ، باقی تاریخ کا حصہ ہے ، دھرنے میں خود وزیراعظم نے ثالثی کی پیش کش اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو کی تھی ، تاریخ سیاسی اور ’’غیر سیاسی‘‘ لوگوں کے Overlapاور پھر Overrideسے بھری پڑی ہے ، سپاہ کا کام سیاست کرنا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت ہے ، سات دہائیوں کے گزر جانے کے باوجود بھی ادارے اپنی حدود قیود کا تعین نہیں کر سکے اب انٹر نیٹ پر اس سٹوری کے نتیجے وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا وضاحتی بیان موجود ہے کہ یہ سٹوری من گھڑت اور کسی افسانے کی آمیزش سے کم نہیں ۔ مگر یہ’’افسانہ‘‘ کسی نے تو پھیلایا ہوگا اس سٹوری کو بغیر تحقیق سے چھپانے سے زیادہ گھمبیر کچھ اور ہے ۔ جس کو سامنے نہیں لایاجارہابہرحال اداروں میں حدود قیودکا تعین ملکی ترقی و بہتری کیلئے انتہائی ضروری ہے ، ذرائع ابلاغ جن میں خط لکھ کر یا اختلافی نوٹ ٹائپ کر کے بھی اپنا پیغام متعلقہ لوگوں تک پہنچایاجاسکتا ہے وہاں 22کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو چلانے کیلئے Tweetsکا سہارا لینا پڑ رہا ہے ۔

تحریر: ڈاکٹر عثمان غنی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں