آپریشن وکٹری سے آپریشن فیئر پلے تک؛سید علی حسن رضوی

عنوان:آپریشن وکٹری سے آپریشن فیئر پلے تک
از قلم:سید علی حسن رضوی

7 جنوری 1977 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر 7 مارچ 1977 کو عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ ہر انسان میں خوبیوں کے ساتھ خامیاں ہونا یقینی بات ہے۔ بھٹو صاحب کے گرد حقیقی سیاسی لوگ بہت کم اور خوشامد پسند دانشور اور بیوروکریٹ زیادہ تھےجو بار بار بھٹو کو اس بات کا یقین دلا رہے تھے کہ اگلے بیس سال تک بھی آپکے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ساری اپوزیشن منتشر ہے، آپکی طلسماتی شخصیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسلیے جب بھی انتخابات ہوئے آپ بغیر کسی تردد کے دوبارہ حکومت بنالیں گے۔ لیکن بھٹو صاحب پر دو تہائی اکثریت کا جنون سوار تھا تا کہ اسمبلی سے اپنی مرضی کی ترامیم کروا سکیں۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 19 جنوری 1977 تھی۔ پی این اے کی نو جماعتوں نے مل کر پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو اکثریتی پارٹی کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اقتدار پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا۔ حکمرانوں میں ایک خامی مشترکہ ہے کہ وہ اقتدار میں اقدار بھول جاتے ہیں۔ بھٹو صاحب نئے شکست خوردہ پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے عوام سے دوبارہ اعتماد کر ووٹ لینا چاہتے تھے کیونکہ انکو بھی اس بات کا ادراک تھا کہ جن انتخابات کی وجہ سے وہ اقتدار میں آئے ہیں، وہ متحدہ پاکستان کے انتخابات تھے اور اخلاقی طور پر آئین بننے کے بعد انکو دوبارہ عوام سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔ لیکن وہ اس بارے میں سوچ بچار ہی کرتے رہے اور کسی حتمی فیصلے تک نا پہنچ سکے۔ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد انکی مقبولیت عروج پر تھی جب ذرائع ابلاغ نے تمام سربراہانِ مملکت کی بادشاہی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے تصاویر شائع کیں۔ شکست خوردہ پاکستانی قوم جیسے ایک بار پھر امید کا احساس ہوا اور انکو ان تصاویر میں اسلام کی نشاة ثانیہ نظر آئی۔ بھٹو مرحوم اسلامی سربراہی کانفرنس نے فوراً بعد انتخابات کروانا چاہتے تھے لیکن ارد گرد کے خوشامدی طبقے نے انہیں یہ باور کرایا کہ آپکی شخصیت کا طلسم اب نہیں ٹوٹے گا۔ پھر بھٹو صاحب نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔
کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ سے قبل دھاندلی کا آغاز کر دیا گیا۔ اصل میں بھٹو صاحب صرف سادہ اکثریت پر راضی نہیں تھے بلکہ دو تہائی اکثریت چاہتے تھے۔ اسکے لیے انہوں نے ایک سابق پولیس افسر راؤ رشید اور بیوروکریٹ محمد حیات ٹمن(مشیر عوامی امور) کی سرکردگی میں “آپریشن وکٹری” کا منصوبہ بنایا۔ قومی اسمبلی کی کل 200 نشستوں پر انتخابات ہونے تھے۔ پیپلز پارٹی کے 19 اراکین جن میں خود بھٹو صاحب بھی شامل تھے، بلامقابلہ جیت گئے۔ قومی اتحاد کے کئی رہنماؤں کو کاغذات نامزدگی بھی جمع نہیں کروانے دیے گئے جن میں جماعت اسلامی کے مولانا جان محمد عباسی شامل تھے۔ عباسی صاحب انتہائی شریف النفس انسان تھے۔ انکو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ گزر جانے کے بعد رہا کیا گیا۔
جیسے ہی پی این اے کو سیاسی سرگرمیوں کا موقع ملا تو بھٹو صاحب پی این اے کی مقبولیت کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ پی این اے کے جلسے اور جلوس عوام کو اپنی طرف راغب کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ 7 مارچ کو الیکشن ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے 200 میں سے 155 نشستوں پر اور پی این اے نے محض 36 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پی این اے نے دھاندلی کا الزام لگایا اور 10 مارچ کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ اسکے علاوہ 14 مارچ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس تحریک کے بنیادی مطالبات یہ تھے کہ انتخابات از سرنو فوج کی نگرانی میں کروائے جائیں۔ اسکے بعد اس احتجاجی تحریک کا نام نظام مصطفیٰ تحریک رکھ دیا گیا جس سے اسمیں مذہبی عنصر بھی شامل ہو گیا۔ اسی تحریک کے مذہبی اثر کو زائل کرنے کی خاطر مئی 1977 میں حکومت نے قومی اسمبلی سے شراب اور جوا پر پابندی کا قانون منظور کر لیا اور ساتھ ہی جمعے کی ہفتہ وار تعطیل کا اعلان کر دیا۔ بہرحال10 مارچ کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات نے پی این اے کی عوامی قوت کو پوری طرح ثابت کردیا جب کہ بیشتر پولنگ بوتھ مکمل ویران تھے۔ کراچی حیدرآباد میں حالات زیادہ خراب ہونے پر جزوی مارشل لاء لگا کر مکمل مارشل لاء کی راہ ہموار کی گئی۔
بھٹو مرحوم کے ہر دلعزیز اور دیرینہ ساتھی، پیپلز پارٹی کے وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی ،جو کہ پی این اے سے مذاکرات میں حکومت کی نمایندگی کرتے تھے، نے انتخابی دھاندلی کو اپنی کتاب “اور لائن کٹ گئی” صفحہ 35 میں کچھ یوں بیان کیا ہے.
” اس وقت تک مسٹر بھٹو کا “آپریشن وکٹری” نامی منصوبہ میرے علم میں نا تھا۔ یہ تو میں جانتا تھا کہ مسٹر بھٹو بسا اوقات کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی تک سے براہ راست معلومات حاصل کرتے تھے لیکن مجھے اس کا کوئی علم نا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کا کوئی طے شدہ منصوبہ بھی راؤ رشید اینڈ کمپنی وضع کر چکی تھی۔ یہ پس منظر کے لوگ تھے اور ہم پیش منظر کے۔ انتخابات میں دھاندلی کا سب سے پہلا انکشاف مجھ پر 9 مارچ کو ہوا جب پی این اے اپنا احتجاج شروع کر چکی تھی۔ اس نے انتخابی نتائج مسترد کر دیے۔ ایک شام پی ایم ہاؤس میں وزیراعظم بھٹو، میں، حفیظ پیرزادہ، رفیع رضا اور ایک دو اور احباب موجود تھے کہ وزیراعظم نے پیرزادہ کی طرف دیکھا اور بولے ” حفیظ، کتنی سیٹوں پر گڑبڑ ہوئی ہو گی؟”
سر۔۔۔ 30 سے 40 تک”حفیظ نے جواب دیا۔ جواباً مسٹر بھٹو بولے ” کیا ہم پی این اے سے بات نہیں کر سکتے کہ وہ اتنی سیٹوں پر اپنے نمائندے کامیاب کروالیں اور ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ وزیراعظم کی بات سن کی میں انکے چہرے کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا”۔
صفحہ 42 پر مزید لکھتے ہیں ” میں نہیں سمجھتا کہ انتخابات میں دھاندلی کی ضرورت رہ جاتی تھی۔ق جان محمد عباسی جیسے بے ضرر امیدوار کو اغواء کرانا اور کاغذات نامزدگی تک پولیس حراست میں رکھنے سے وزیراعظم کی انتخابی دیانت اور انتخابات کے فیئر ہونے کا تصور بری طرح مجروح ہوا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سب سے پہلا بلامقابلہ کامیاب امیدوار لاڑکانہ کے حلقے 164 سے سلطان احمد چانڈیو تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ گویا نمونے کی کاروائی تھی۔”
جون 1977 کے آغاز تک بھٹو معاملات کی نزاکت کونا سمجھ سکے اور ٹائم ضائع ہوتا رہا۔ پی این کے دو ایسے مطالبات تھے جن پر گیند بھٹو کے کورٹ میں نہیں تھی ہی نہیں بلکہ فوج کے کورٹ میں تھی۔ ان میں سے ایک مطالبہ بلوچستان سے فوج کی واپسی اور دوسرا مطالبہ حیدر آبادٹریبیونل کا خاتمہ شامل تھا۔ایک طرف فوجی قیادت بھٹو صاحب کو ہر طرح کے اطمینان کا یقین دلاتی رہی دوسری جانب بھٹو صاحب پر یہ واضح کر دیا گیا کہ بلوچستان سے فوج واپس نہیں آئے گی اور نا ہی حیدر آباد ٹریبیونل ختم ہو گا۔ اپوزیشن کے ایک اہم راہنما ائیر مارشل اصغر خان اندرونِ خانہ فوجی قیادت سے رابطے میں تھے۔ اپنے حلیفوں کو بار بار اس بات کی نوید سنا رہے تھے کہ بھٹو سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا کیونکہ چند دن تک ویسے ہی فوج بھٹو کا تختہ الٹ دے گی اور پھر 90 روز میں انتخابات کرواکر واپس چلی جائے گی۔ حتیٰ کہ ایک جلسہ عام میں اصغر خان نے جذباتی انداز میں بھٹو اور پیپلزپارٹی والوں کو کوہالہ کے پل پر پھانسی کی دھمکی دے ڈالی ۔ جون کے پہلے ہفتے میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور پندرہ جون تک دونوں فریق تمام تر تحفظات کے باوجود معاہدے پر متفق ہو گئے۔ ابھی معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے کہ 17 جون کو بھٹو صاحب لاڑکانہ کا کہہ کر سعودی عرب، امارات، لیبیا، کویت کے پانچ روزہ دورے پر چلے گئے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ بھٹو صاحب کو معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے کسی نے بھیجا یا وہ خود گئے لیکن اس اقدام سے اپوزیشن میں پھر بددلی پھیل گئی ۔ پی این اے کی جانب سے اسکو وقت کا ضیاع اور غیر سنجیدگی سے تعبیر کیا گیا۔ اسی وجہ سے پی این اے نے حتمی معاہدے کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دینے کا مطالبہ کیا تا کہ حکومت اپنے معاہدے سے مکر نا جائے۔ حکومت کی جانب سے حفیظ الدین پیرزادہ نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔ بھٹو اپنے پیچھے معاہدہ مکمل کر کے گئے لیکن واپس آئے تو صورتحال یکسر تبدیل تھی۔ ادھر فوجی قیادت بار بار بھٹو صاحب کو ہر حال میں اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے تھے جبکہ دوسری طرف پی این اے حکومت اور بھٹو صاحب سے مکمل طور پر بد ظن ہو رہی تھی۔ بآلاخر 4 جولائی کی رات کو بھٹو صاحب نے فیصلہ کیا کہ اب اپوزیشن سے ہوئے سمجھوتے پر دستخط کر دینے چاہیے۔ اسی رات انہوں نے اپنی مشاورتی ٹیم کو بلایا اور سمجھوتے پر دستخط کی نوید سنائی۔ گو کہ کچھ خوشامدی وزراء اب بھی دستخط کرنے کو بہت جلدی سے تعبیر کر رہے تھے۔ 4 جولائی رات 10 بجے کے قریب کو پریس کانفرنس میں اس کا بھٹو اور انکی ٹیم نے پی این اے کے ساتھ ہوئے سمجھوتے پر دستخط کرنے کا اعلان کردیا۔ لیکن اسی رات 2 بجے کے قریب فوج حرکت میں آ چکی تھی اور یوں آپریشن فیئر پلے کے ذریعے بھٹو صاحب کو معزول کر کے پہلے مری کے ریسٹ ہاؤس میں نظر بند اور بعد میں ٹرائل کرکے پھانسی گھاٹ تک پہنچا دیا گیا۔
یوں سیاستدانوں کی کوتاہ نظری سے جمہوریت کی بساط ایک بار پھر لپیٹ دی گئی۔ اس میں قصور یقیناً انکا بھی ہے جنہوں نے یہ بساط لپیٹی لیکن کیا ہمارے سیاستدان ہمیشہ اسکا الزام دوسروں کو ہی دیں گے۔ جو اقتدار میں آتا ہے تو اسکو محسوس ہوتا ہے کہ اب تا حیات یہ جگہ میری ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں اسکو وجود بھی باقی نہیں رہتا۔اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی ذات کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ ایک فیصلہ پوری قوم کی تاریخ بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔ ہم بھی بڑے دل والے لوگ ہیں کہ بڑے لوگوں کی غلطیاں چاہے ملک بھی توڑ دیں، معاف ہی کر دیتے ہیں لیکن چھوٹے کو سائیکل چوری پر بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ افسوس کہ جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کچھ نا سیکھا انکو سکھانے کے لیے کس سے مدد لی جائے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں